سرینگر،جموں قومی شاہراہ وادیٔ کشمیر کی واحد مرکزی شاہ رگ ہے جو اسے ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتی ہے۔ اس سڑک کی حیثیت صرف ایک آمدورفت کے راستے کی نہیں بلکہ یہ کشمیری معیشت خصوصاً میوہ صنعت کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔
شاہراہ پر معمولی رکاوٹ بھی پھلوں کی ترسیل پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے اور موجودہ ایام میں جب بھاری بارشوں اور بھاری لینڈ سلائیڈز کی وجہ سے شاہراہ مسلسل بند رہتی ہے تو اس کا خمیازہ سب سے زیادہ باغبان اور میوہ صنعت سے وابستہ لوگ بھگت رہے ہیں۔
کشمیر میں میوہ جات کی صنعت، خاص طور پر سیب، وادی کی معیشت کا بنیادی ستون ہے۔ لاکھوں خاندان اپنی روزی روٹی اس صنعت سے کماتے ہیں۔ ہر سال جولائی سے نومبر تک کشمیر سے لاکھوں میٹرک ٹن سیب، ناشپاتی، خوبانی اور اخروٹ ملک کی منڈیوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔ ان پھلوں کی کامیابی کا انحصار بروقت اور بغیر رکاوٹ ترسیل پر ہوتا ہے۔ لیکن جب شاہراہ بند ہوتی ہے تو پورا سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔ تازہ پھل کا ہر دن قیمتی ہوتا ہے اور چند دن کی تاخیر ہزاروں ٹن مال کو خراب کر دیتی ہے۔
موجودہ بندش کے دوران سینکڑوں ٹرک مختلف مقامات پر پھنس گئے۔ جن باغبانوں نے قرض لے کر اپنی فصل مارکیٹ تک پہنچانے کی تیاری کی تھی وہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ کولڈ اسٹوریج کی محدود سہولیات چند بڑے تاجروں کے پاس ہیں جبکہ عام کسان کے پاس ذخیرہ کرنے کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پھل یا تو خراب ہو جاتے ہیں یا پھر انہیں انتہائی کم قیمت پر بیچنا پڑتا ہے۔
دہلی، چندی گڑھ اور دیگر بڑی منڈیوں میں جہاں کشمیری سیب کی مانگ ہمیشہ زیادہ رہتی ہے، وہاں اس وقت یا تو مال کی کمی رہی یا پھر اچانک زیادہ مقدار میں پھل پہنچنے سے قیمتیں گر گئیں۔ اس اتار چڑھاؤ کا سب سے زیادہ نقصان کسان کو برداشت کرنا پڑا۔
ترسیل کے اخراجات بھی اس بندش سے دوگنے ہو گئے ہیں۔ عام دنوں میں جب شاہراہ کھلی رہتی ہے تو ٹرک کرایہ نارمل ہوتا ہے، لیکن بندش کے بعد گاڑیوں کی کمی کی وجہ سے کرایہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق فی ٹرک کرایہ ۳۰ سے۴۰ فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ جب کسان پہلے ہی نقصان میں ہو تو یہ اضافی بوجھ اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
شاہراہ کی بندش صرف مالی نقصان تک محدود نہیں بلکہ اس نے وادی کے باغبانوں کو شدید ذہنی دباؤ کا بھی شکار کر دیا ہے۔ شوپیان، پلوامہ، بارہمولہ اور کپواڑہ جیسے اضلاع میں کسانوں نے پورا سال محنت کر کے اپنی فصل تیار کی تھی۔ ان کے بچے تعلیم، علاج اور گھریلو اخراجات اسی آمدنی پر منحصر ہیں۔ لیکن راستے کی بندش نے ان کے خواب اور امیدیں مایوسی میں بدل دی ہیں۔ کئی کسان مجبوراً اپنی زمین یا زیورات گروی رکھ کر قرضہ اتارتے ہیں۔
یہ مسئلہ کشمیری سیب کی شہرت اور ساکھ پر بھی براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ کشمیری سیب اپنی معیار اور ذائقے کے باعث پورے ملک میں سب سے ممتاز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن تاخیر اور خراب ہونے کی وجہ سے جب مارکیٹ میں کم معیار کا مال پہنچتا ہے تو خریداروں کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ مستقبل میں اس کے باعث دیگر ریاستوں کے باغات کو زیادہ اہمیت ملنے لگے گی اور کشمیری باغبان مزید حاشیے پر چلے جائیں گے۔
یہ بحران اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ کشمیر کی معیشت کو ایک ہی شاہراہ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ برسوں سے متبادل راستوں جیسے مغل روڈ یا ریلوے کنیکٹیویٹی کی بات کی جا رہی ہے لیکن عملی سطح پر پیش رفت بہت کم ہوئی ہے۔ آج اگر وادی کے پاس کوئی متبادل محفوظ راستہ ہوتا تو میوہ صنعت کو اس حد تک نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔
وادی میں یہ مانگ تیزی سے جڑیں پکڑ رہی ہیں کہ اب چونکہ کشمیر کا ٹرین کے ذریعے پورے ملک کے ساتھ رابطہ استوار ہو گیا ہے‘ تو کیوں نہ کچھ ایام کیلئے خصوصی مال بردار ٹرینوں کو پھلوں کو ملک کی دوسری منڈیوں تک پہنچانے کیلئے مخصوص کیا جائے ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایک تو کشمیر کا میوہ کم وقت میں ملک کے دوسرے حصوں میں پہنچ جائیگا اور ساتھ ہی یہاں کا کاشکار مالی نقصان سے نچ جائیگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر کئی اقدامات کرنے چاہئیں۔ سب سے پہلے مزید کولڈ اسٹوریج سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ پھل کو کم از کم کچھ دن محفوظ رکھا جا سکے۔ دوسرا، ریفریجریٹڈ ٹرکوں کی فراہمی کے لیے سبسڈی دی جائے تاکہ باغبانوں کو اپنا مال بہتر حالت میں باہر بھیجنے میں مدد مل سکے۔ تیسرا، انشورنس کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ کسان کم از کم نقصان کی صورت میں کچھ معاوضہ حاصل کر سکیں۔ اور سب سے اہم، متبادل ترسیلی راستوں پر فوری کام شروع کیا جائے تاکہ وادی کا انحصار صرف ایک سڑک پر ختم ہو سکے۔
فی الحال، موجودہ شاہراہ بندش نے کشمیری میوہ صنعت کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے۔ لاکھوں روپے کا نقصان روزانہ کے حساب سے بڑھ رہا ہے۔ کسانوں اور تاجروں کے چہروں پر مایوسی اور بے بسی صاف نظر آ رہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک بنیادی ڈھانچے میں سنجیدہ تبدیلیاں نہیں کی جاتیں، تب تک کشمیر کا میوہ شعبہ ہر سال بارشوں، برفباری یا لینڈ سلائیڈز کے ساتھ اسی قسم کے بحران کا شکار ہوتا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔





