پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جمعرات کے روز دونوں ایوانوں کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہونے کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا، لیکن بہار میں ووٹر لسٹ کی جامع نظر ثانی کے معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب ایک ماہ تک جاری رہنے والا مانسون اجلاس خاصا ہنگامے دار رہا۔ تاہم دونوں ایوانوں میں ہنگامہ اور واک آؤٹ کے درمیان ۱۵بل منظور کیے گئے ۔
لوک سبھا میں پیش کیے جانے والے۱۴بل میں سے۱۲کو ایوان نے منظور کیا جبکہ۱۵بل کو ایوان بالا میں منظور کیا گیا۔ لوک سبھا نے آئینی ترمیمی بل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا، جس میں کسی بھی سنگین فوجداری معاملے میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزراء کی گرفتاری اور تیس دن تک حراست میں رہنے کی صورت میں انہیں عہدہ سے استعفی دینے کا التزام ہے ، اور اس سے متعلق دو دیگر بل کو نظرثانی کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا ہے ۔
دونوں ایوانوں میں آپریشن سندور پر۱۶گھنٹے بحث ہوئی اور وزیر اعظم نے لوک سبھا میں بحث کا جواب دیا جبکہ وزیر داخلہ نے راجیہ سبھا میں جواب دیا۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جانے والے پہلے ہندوستانی شبھانشو شکلا اور خلائی شعبے میں ہندوستان کی کامیابیوں پر لوک سبھا میں بحث شروع ہوئی تھی، لیکن اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے یہ مکمل نہیں ہوسکی۔
پورے اجلاس کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بہار میں ووٹر لسٹ کی جامع نظرثانی کے عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور اسے واپس لینے کے مطالبے پر حکومت کو گھیرا اور اس پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے دونوں ایوانوں کے کام کاج میں مسلسل خلل ڈالا۔
اپوزیشن نے اجلاس کے پہلے ہی دن سے آپریشن سندور اور ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے معاملے پر بحث کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔اجلاس کے دوسرے ہفتے میں آپریشن سندور پر بحث کے بعد اپوزیشن نے ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے معاملے پر دونوں ایوانوں میں کارروائی نہیں چلنے دی۔ جب حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل جاری رہا تو حکومت نے ہنگامہ کے درمیان بل پاس کرانے کی حکمت عملی اپنائی۔
اس سیشن میں لوک سبھا کے ایجنڈے میں ۴۱۹سٹار سوالات شامل تھے ، لیکن خلل اندازی کی وجہ سے صرف۵۵سوالات کے جوابات دیے جا سکے ۔ لوک سبھا میں بمشکل۳۷گھنٹے اور راجیہ سبھا میں۴۱گھنٹے۱۵منٹ کام ہو سکا۔
راجیہ سبھا میں، اراکین کو۲۸۵سوالات‘۲۸۵ وقفہ صفر کے امور اور۲۸۵خصوصی تذکرے پیش کرنے کا موقع تھا لیکن در اصل صرف۱۴سوالات‘۷وقفہ صفر کے امور اور۶۱خصوصی تذکرے پیش کیے جا سکے ۔
دونوں ایوانوں نے انکم ٹیکس سے متعلق نیا بل، کانکنی اور معدنیات سے متعلق تین بل، بندرگاہوں اور جہاز رانی، کھیل کے اداروں کی انتظامیہ، آن لائن گیمنگ اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ جیسے بل کو منظور کیا۔
لوک سبھا نے ہائی کورٹ کے متنازعہ جج یشونت ورما کے خلاف مواخذے کی کارروائی بھی شروع کی جن کے گھر سے جلے ہوئے کرنسی نوٹوں کا ایک بڑا بنڈل برآمد ہوا تھا۔ اسپیکر نے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔
اجلاس کے دوران غیر متوقع پیش رفت میں، ایوان بالا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے صحت کی وجوہات کی بنا پر نائب صدر جمہوریہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ نائب صدر راجیہ سبھا کے بربنائے منصب صدر ہوتے ہیں۔
ادھر راجیہ سبھا کی کارروائی جمعرات کے روز غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی گئی اور ایک ماہ تک جاری رہنے والے مانسون اجلاس کے دوران ہنگامہ کی وجہ سے زیادہ تر وقت کارروائی میں خلل پڑا اور صرف۸۸ئ۳۸فیصد کام ہو سکا۔
اس کے ساتھ ہی۲۱جولائی کو شروع ہونے والا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اختتام پذیر ہوگیا۔
ایوان بالا کی کارروائی کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے سے پہلے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ارکان کے ہنگامہ کے درمیان اپنے اختتامی بیان میں کہا کہ۲۶۸ ویں اجلاس کے دوران ارکان کے ہنگامہ کی وجہ سے ایوان کی کارروائی صرف۴۱گھنٹے ۱۵منٹ تک چلی۔ انہوں نے کہا کہ اس سیشن میں صرف۸۸ئ۳۸فیصد کام ہوا ،جو مایوس کن ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔
ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ چیئر کی طرف سے درج کام کاج پر بامعنی اور خلل سے پاک بحث کو یقینی بنانے کی کوششوں کے باوجود، سیشن کو افسوسناک طور پر وقفے وقفے سے ملتوی کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف پارلیمنٹ کا قیمتی وقت ضائع ہوا بلکہ عوامی اہمیت کے بہت سے معاملات پر غور و خوض کرنے کا موقع بھی نہ ملا۔
انہوں نے کہا کہ سیشن کے دوران۱۵سرکاری بل منظور یا واپس کیے گئے ۔ ایوان میں پہلگام کے دہشت گردانہ حملے کے جواب میں ہندوستان کے مضبوط، کامیاب اور فیصلہ کن آپریشن سندور پر بھی خصوصی بحث کی گئی۔ دو دن تک جاری رہنے والی بحث میں ۶۴؍ارکان نے حصہ لیا اور وزیر داخلہ نے اس کا جواب دیا۔
ہری ونش نے کہا کہ ایوان کو تجارت اور صنعت کے وزیر کے ہند ،امریکہ دو طرفہ تجارت پر بیان سے بھی فائدہ ہوا، جس نے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کے بارے میں قابل قدر معلومات فراہم کیں۔ اس کے علاوہ نائب صدر کا عہدہ خالی ہونے کے بارے میں بھی ایوان کو آگاہ کیا گیا۔
ایوان نے تمل ناڈو کے چھ ارکان کو بھی الوداع کہا جن کی میعاد۲۴جولائی کو ختم ہوئی تھی۔انہوں نے کہا’’مجھے امید ہے کہ اس سیشن سے حاصل ہونے والا تجربہ ہمیں مستقبل میں مزید تعمیری اور بامقصد بات چیت کرنے کی ترغیب دے گا‘‘۔
انہوں نے آنے والے تہواروں گنیش چترتھی، میلاد النبی، اونم، درگا پوجا، دسہرہ، دیوالی اور دیگر تہواروں کے لیے بھی اراکین کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیے










