اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے غزہ شہر پر قبضے کے لیے فوجی کارروائی کے ابتدائی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
گوتریس جاپان میں افریقی ترقی سے متعلق ایک کانفرنس میں شریک ہیں۔ انھوں نے آج جمعرات کے روز کہا "غزہ میں فوری جنگ بندی تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ شہر کو نشانہ بنانے والی کسی بھی فوجی کارروائی سے پیدا ہونے والی مزید ہلاکتوں اور تباہی سے بچا جا سکے۔”
انھوں نے اسرائیل سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ مغربی کنارے میں "غیر قانونی” بستیوں کی توسیع کے فیصلے سے باز آئے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب بدھ کے روز اسرائیلی وزیرِ دفاع نے غزہ شہر پر قبضے کے لیے ایک فوجی منصوبے کی منظوری دی اور اس پر عمل درآمد کے لیے 60 ہزار اضافی فوجیوں کو طلب کرنے کا حکم دیا۔ اس دوران غزہ میں جاری 22 ماہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی جنگ بندی تجویز پر اسرائیل کے با ضابطہ جواب کا انتظار ہے۔
اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے اگست کے آغاز میں ہی غزہ شہر پر قبضے اور فلسطینی علاقے میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دینے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وزیر یسرائیل کاتز نے "فوج کے غزہ شہر پر حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے” اور "اس مقصد کے لیے مطلوب اضافی فوجیوں کو طلب کرنے کے احکامات کی منظوری بھی دی ہے”۔ ان فوجیوں کی تعداد تقریباً 60 ہزار بتائی گئی ہے۔
وزیرِ دفاع نے یہ بھی کہا کہ وہ شہریوں کے انخلا کے لیے "تیاریوں” کی منظوری دے رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بدھ کو آگاہ کیا کہ "ہم لڑائی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں … یہ غزہ شہر اور اس کے اطراف میں بتدریج، درست اور مرکوز کارروائی ہو گی، جو فی الحال حماس کا سب سے بڑا عسکری و انتظامی مرکز ہے۔”
بعد ازاں بدھ کی شب اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی دیفرین نے تصدیق کی کہ اسرائیلی افواج نے "غزہ شہر پر قبضے کی تیاری کے لیے ابتدائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہماری افواج اس وقت شہر کے کناروں پر موجود ہیں۔”
اسرائیلی افواج غزہ شہر کے مختلف علاقوں بالخصوص الزيتون، الصبرہ اور تل الہو کے محلوں میں وسیع فوجی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں شدید اور مسلسل بم باری جاری ہے۔







