کانگریس نے کہا ہے کہ جب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ووٹ چوری کے خلاف بہار میں ووٹر ادھیکار یاترا شروع کر رہے تھے ، اس وقت الیکشن کمیشن نے الزامات کا جواب دینے کے بجائے ان کے سوالوں کو مسترد کر دیا اور ذمہ داری سے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن ممبران پارلیمنٹ اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کے خلاف ضروری اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں۔
کانگریس کے گورو گوگوئی نے پیر کے روز یہاں کانسٹی ٹیوشن کلب میں انڈیا الائنس کے لیڈروں کی پریس کانفرنس میں کہا کہ الیکشن کمیشن سوالوں کا جواب دینے کے بجائے ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے ، لیکن ممبران پارلیمنٹ اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں گے اور وقت آنے پر ضروری کارروائی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے ۔ الیکشن کمیشن مسٹر راہل گاندھی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے سوالوں کا جواب نہیں دے پا رہا ہے اور اس کے برعکس سیاسی پارٹیوں پر سوال اٹھا رہا ہے ۔ کمیشن ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے جسے قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بتائے کہ وہ 45 دن میں ووٹنگ فوٹیج کیوں ضائع کرتا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے اپنی پریس کانفرنس میں شفاف انتخابات کرانے کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے ۔ پریس کانفرنس میں کمیشن کو اپنی خامیوں پر وضاحت دینی چاہئے تھی اور اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دینا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس اس نے سیاسی جماعتوں پر سوال اٹھائے اور سوال پوچھنے والی جماعتوں پر ایک طرح سے حملہ کیا۔ سوال یہ تھا کہ بہار میں ووٹر لسٹ کی جامع نظر ثانی کیوں جلد بازی میں کی جا رہی ہے ؟ مہاراشٹر میں ووٹر کیسے بڑھے ؟ کمیشن آدھار کی درستگی کے خلاف کیوں ہے ؟ ان سوالوں کے جواب نہیں ملے ۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی پریس کانفرنس سے واضح ہوتا ہے کہ کمیشن میں ایسے افسران کام کر رہے ہیں جو غیر جانبدار نہیں ہیں۔ ایسے افسران کسی بھی قسم کی شکایت پر تحقیقات کے خلاف ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ الیکشن کمشنر کو سمجھنا چاہئے کہ کمیشن میں افسران آتے اور جاتے رہیں گے لیکن اراکین پارلیمنٹ اس پرنظر رکھے ہوئے ہے اور وقت پر ضروری اقدامات بھی کئے جائیں گے ۔
سماج وادی پارٹی کے رام گوپال ورما نے کہا کہ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن پر 2022 میں ووٹروں کے نام حذف کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد ڈی جی پی نے مسٹر اکھیلیش یادو سے حلف نامہ طلب کیا تھا لیکن اس حلف نامے پر اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ اس وقت 18000 ووٹروں کے نام حذف کر دیے گئے تھے ،جن میں مسلمان اور یادو طبقہ کے نام بھی شامل تھے ۔ ہم نے شکایت کی لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔










