سائنس اور ٹکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پیر کو لوک سبھا میں کہا کہ جہاں ہندوستانی خلاباز گروپ کیپٹن شوبھانشو شکلا کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے کامیاب سفر اور خلا میں ان کی کامیابیوں کا جشن منا رہا ہے لیکن اپوزیشن اراکین ان کامیابیوں پر انہیں مبارکباد دینے میں بھی پیچھے ہیں۔
ڈاکٹر سنگھ نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ہندوستان کے پہلے ‘خلاباز -2047’ کے ذریعہ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی قرارداد میں خلائی پروگرام کے اہم کردار پر خصوصی بحث کا آغاز کیا۔ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ اپوزیشن بھلے ہی حکومت یا بھارتیہ جنتا پارٹی سے لڑ رہی ہو، لیکن خلاباز سے ناراضگی کیوں ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مایوس ہے اور ناراضگی نظر آرہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا سفر اسی طرح جاری رہے گا، اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ آج ایک ایسا وقت ہے ، جب پورے ملک میں جشن کا ماحول ہے اور ہر بچہ خواب دیکھ رہا ہے کہ وہ بڑا ہو کر خلاباز شوبھانشو شکلا جیسا بنے گا۔ خلا میں ہندوستان کی کامیابی کو پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے ۔ آپریشن سندور کے دوران خلائی محکمہ اور خلائی ٹیکنالوجی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ اسے پچھلے 10 سالوں میں تیار کیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ 60-70 برسوں سے ہمارا خلائی محکمہ الگ تھلگ تھا، لیکن 2014 میں شری نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد خلائی شعبے نے رفتار پکڑی۔ سیاسی قیادت کی کمی کو پورا کیا گیا۔ اس شعبے میں بہت سے اقدامات کیے گئے اور خلائی شعبے کو نجی شعبے کے لیے کھول دیا گیا، ایسا کام کوئی بہادر وزیر اعظم ہی کر سکتا ہے ۔










