نئی دہلی، 12 اگست (یو این آئی) ریلوے سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے وزارت ریلوے سے درخواست کی ہے کہ وہ ملک کے اہم ممبئی-احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل (ایم اے ایچ ایس آر) کوریڈور منصوبے میں تیزی لائے ۔ جاپان کی تکنیک اور مالی امداد سے تعمیر کیے جانے والے 508 کلومیٹر طویل منصوبے کو دسمبر 2015 میں منظوری دی گئی تھی۔
اسٹینڈنگ پارلیمانی کمیٹی (2024-25) نے پیر کے روز لوک سبھا میں اپنی رپورٹ پیش کی،رپورٹ میں مستقبل میں بلٹ ٹرین کے لیے معیار پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے کہا کہ پروجیکٹ کی شروعات کے وقت ایم اے ایچ ایس آرکا تخمینہ 1,08,000 کروڑ روپے لگایا گیا تھا اور جنوری 2025 تک اس پروجیکٹ پر 71,116 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ منصوبے کی فزیکل پروگریس 48.55 فیصد ہے ،جبکہ بڑے تعمیراتی کام ابھی جاری ہیں۔
لوک سبھا کے رکن ڈاکٹر سی ایم رمیش کی سربراہی والی کمیٹی نے کہا کہ ایم اے ایچ ایس آر پروجیکٹ سے منسلک سول، الیکٹریکل، سگنلنگ اور ٹریک بچھانے کے کاموں کی پیچیدگی عمل آوری میں تاخیر کا سبب بن رہی ہے ۔ مسٹر رمیش نے یہ بھی کہا کہ نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ ایس آر سی ایل) کے ذریعہ لاگو کردہ پروجیکٹ کی تکمیل کے لئے مقرر کردہ ٹائم لائنز پر سختی سے عمل کیا جانا چاہئے ۔
کمیٹی کے ارکان نے یہ بھی کہا کہ زمین کے حصول کا 100 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور تمام سول کنٹریکٹس دے دیے گئے ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ کئی اہم علاقوں میں تعمیراتی کام ابھی بھی جاری ہے ، جن میں اونچے پل، ندی کے پل، سرنگیں اور اسٹیشن انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
کمیٹی نے اس طرح کے بلٹ ٹرین منصوبے کے نفاذ میں شامل ٹیکنالوجی کی پیچیدگی پر روشنی ڈالی اور جاپانی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر شنکانسن ٹیکنالوجی کی منتقلی۔ کمیٹی کے ارکان نے تیز رفتار ریل آپریشنز کی طویل مدتی پائیداری کو برقرار رکھتے ہوئے میک ان انڈیا پہل کے تحت مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کی بھی سفارش کی۔
اب تک 383 کلومیٹر گھاٹ کی تعمیر، 317 کلومیٹر بیم کی ڈھلائی (گرڈر کاسٹنگ) اور 286 کلومیٹر بیم جوڑا گیا (گرڈر لانچنگ) کا کام مکمل ہو چکا ہے ۔ وزارت نے کمیٹی کو اپنے جواب میں کہا کہ گجرات میں واحد سرنگ کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے ، جبکہ مہاراشٹر میں مجوزہ 21 کلومیٹر سرنگ میں سے 2.7 کلومیٹر نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ (این اے ٹی ایم) کا استعمال کرتے ہوئے مکمل کر لیا گیا ہے






