جوہانسبرگ// کیگیسو ربادا کو اپنے بچپن کی یاد آ جاتی ہے جب وہ موجودہ جنوبی افریقی ڈریسنگ روم کو دیکھتے ہیں، جہاں کھلاڑی آسٹریلیا کے خلاف اتوار سے شروع ہونے والی تین ٹی20 اور تین ون ڈے میچوں کی سیریز کی تیاری کر رہے ہیں۔
دونوں ٹیمیں آخری بار آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں آمنے سامنے ہوئی تھیں، جہاں جنوبی افریقہ کے زیادہ تجربہ کار کھلاڑیوں نے عمدہ کارکردگی دکھائی تھی۔ لیکن اب 2026 میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ اور 2027 میں ہونے والے گھریلو ون ڈے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی توجہ نوجوان صلاحیتوں کو نکھارنے پر مرکوز ہو گئی ہے تاکہ بڑے میچوں کے دباؤ میں وہ جان سکیں کہ انہیں کیا کرنا ہے۔
بین الاقوامی کرکٹ میں دس سال مکمل کر چکے کیگیسو ربادا نے جمعرات کو کہا، ’’جب آپ ان ابتدائی دنوں کی بات کرتے ہیں جب میں پہلی بار ٹیم میں آیا تھا، تو مجھے آج کے نوجوان کھلاڑیوں کی حالت دیکھ کر اپنا وقت یاد آتا ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ بس اپنا بہترین کھیل پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔ جب آپ نوجوان ہوتے ہیں تو آپ کو کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا۔ اور ہاں، میں بہت پرجوش ہوں کہ دیکھوں یہ نوجوان اپنے کیریئر میں کیسے آگے بڑھتے ہیں۔‘‘
ڈارون میں موجود جنوبی افریقہ کی وائٹ بال ٹیم میں لوآن-ڈرے پریٹوریئس جیسے کھلاڑی شامل ہیں، جو سال کے آغاز میں ’ساوتھ افریقہ 20‘ لیگ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز تھے؛ ڈیوالڈ بریوس، جنہیں 2022 انڈر-19 ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کے بعد بہت عزت ملی؛ اور کوینا مافاکا، جن کی بائیں ہاتھ کی تیز گیند بازی نے انہیں 17 سال کی عمر میں آئی پی ایل معاہدہ اور 18 سال کی عمر میں قومی ٹیم میں جگہ دلوائی۔
اپنی ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں کو "پُرجوش اور نڈر” قرار دیتے ہوئے کپتان ایڈن مارکرم نے کہا: ’’آپ جانتے ہیں کہ 19-20 سال کی عمر میں زندگی کی زیادہ فکریں نہیں ہوتیں اور یہی ان کے کھیل اور ٹریننگ میں جھلکتا ہے۔ یہ واقعی بہت دلچسپ ہے… ہر ملک کے نوجوان کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں اور اس دورے پر ہمیں بھی کچھ ایسے کھلاڑی ملے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک زبردست موقع ہے کہ ہم ان کی صلاحیت کو جانچ سکیں اور انہیں مداحوں کو متاثر کرنے کا موقع دیں۔‘‘
کیگیسو ربادا نے جون میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کے بعد سے کوئی کرکٹ نہیں کھیلی، جس میں انہوں نے نو وکٹیں حاصل کی تھیں۔ یونان میں چھٹیاں گزار کر وہ تازگی محسوس کر رہے ہیں اور اب "مکمل طور پر فٹ” ہیں۔ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنا تجربہ دینے کے لیے بھی پرجوش ہیں۔ انہوں نے مافاکا کو ’’نہایت دلچسپ باصلاحیت‘‘ قرار دیا۔
کیگیسو ربادا نےکہا، ’’چونکہ وہ بھی ایک گیندباز ہیں، اس لیے مجھے لگتا ہے کہ مجھے اس پر خاص توجہ دینی ہو گی۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ وہ اپنے تجربات اور سفر سے سیکھیں گے۔ ہم صرف ایک رہنما بننے کے لیے موجود ہیں، ان کے کیریئر میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ رہنمائی کے لیے۔‘‘
ابھی صرف 19 سال کے مافاکا نے جنوبی افریقی ٹیم میں تیزی سے جگہ بنا لی ہے۔ وہ اب تک دو ٹیسٹ، دو ون ڈے اور آٹھ ٹی20 میچ کھیل چکے ہیں، جن میں انہوں نے 18 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ شکرے کونراڈ کو اب وائٹ بال کرکٹ کی کوچنگ بھی سونپی گئی ہے، اور پوری ٹیم نئے لیڈرشپ سے ہم آہنگ ہو رہی ہے۔ کیگیسو رباداکوچ کی کچھ ’عارضی‘ حکمت عملیوں سے کافی متاثر نظر آئے کیونکہ وہ آنے والے عالمی ٹورنامنٹس کی تیاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’آپ اس ٹیم کو اگلے ڈیڑھ سال میں آگے لے جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ 2027 کا ون ڈے ورلڈ کپ ایک بڑا ہدف ہے، لیکن 2026 کا ٹی20 ورلڈ کپ ایک قریبی اور فوری ہدف ہے۔ ڈیوڈ ملر، جو فی الحال انگلینڈ میں ’دی ہنڈریڈ‘ کھیل رہے ہیں، جیسے کھلاڑی واپس آئیں گے۔ مارکو یانسن (جو زخمی ہیں) بھی جلد واپس آئیں گے۔ ان کی واپسی سے ٹیم کو خاص طور پر تجربے کے لحاظ سے مزید تقویت ملے گی۔‘‘
’’لیکن ہاں، یہ میچ (آسٹریلیا کے خلاف) ساتھی کھلاڑیوں کو سمجھنے کے لیے ہوں گے – کہ ہم ایک ساتھ کیسے آگے بڑھیں گے۔ اور دراصل، یہ ایک عمل ہے، جیتنے یا ہارنے کا کوئی خوف نہیں۔ اگرچہ ہم 100 فیصدجیتنے کے لیے کھیلتے ہیں، مگر اصل بات یہ ہے کہ یہ سیکھنے اور جانچنے کا عمل ہے۔‘‘






