’مستقبل کے تنازعات کے لیے روایتی طاقت اور جدید صلاحیتوں کے امتزاج کی ضرورت ہوگی‘
نئی دہلی//
آرمی چیف ‘جنرل اوپیندر دویویدی نے آپریشن سندور کو پیمانے ، رینج، گہرائی اور اسٹریٹجک اثرات کے لحاظ سے تاریخی قرار دیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ انٹیلی جنس کی مدد سے کئے گئے اس آپریشن نے ہندوستان کے انسداد دہشت گردی کے نظریے کی نئی توضیح پیش کرتے ہوئے پاکستان کو ۸۸ گھنٹوں میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا ۔
جنرل دویدی نے پیر کے روز انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، مدراس میں آرمی ریسرچ سیل ’اگنی شودھ‘کا افتتاح کیا۔
فوج اور آئی آئی ٹی مدراس نے مل کر دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے اسے قائم کیا ہے ۔
آرمی چیف نے’آپریشن سندور… دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی جنگ میں ایک نیا باب‘کے موضوع پر اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ۸۸گھنٹے کا یہ آپریشن پیمانے ، حد، گہرائی اور اسٹریٹجک اثرات میں بے مثال تھا۔
فوج کے سربراہ نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران سہ فریقی کارروائیوں نے ھندوستان کی درست، تعزیری اور مربوط کارروائی کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کیاہے ۔’’ اس نے پاکستان کو۸۸گھنٹے کے اندر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیااور اُس نے کارروائی روکنے کی مانگ کردی‘‘۔
جنرل دیویدی نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے تنازعات کے لیے روایتی طاقت اور جدید صلاحیتوں کے امتزاج کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے اسے ’بوٹس ٹو بوٹس‘ کی ضرورت ہوگی۔
جنرل دیویدی نے ’انڈیجنائزیشن از ایمپاورمنٹ‘ کے تحت خود انحصاری کے لیے ہندوستانی فوج کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے آئی آئی ٹی دہلی، کانپور اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس بنگلورو میں آرمی سیلز کے ذریعہ تعلیمی اختراعات کا استعمال کرتے ہوئے شروع کئے گئے پروجیکٹوں کی تعریف کی۔
دفاعی تحقیق میں بہترین کارکردگی کے لیے آئی آئی ٹی مدراس کی تعریف کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ اگنی شودھ علمی مہارت کو میدان جنگ میں اختراعات میں بدل دے گا اور ہندوستان کے ’ترقی یافتہ ہندوستان۲۰۴۷‘ کے سفر کو بااختیار بنائے گا۔
دریں اثنادہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے پیر کو کہا کہ آپریشن سندور اور آپریشن مہادیو فوجی آپریشن نہیں تھے بلکہ ملک کے ہر خاندان کے وقار کی علامت تھے جس سے قوم کا سر فخر سے بلند ہوا ہے ۔
محترمہ گپتا نے آج دہلی اسمبلی میں آپریشن سندور اور آپریشن مہادیو کی کامیابی کو قوم کے فخر سے جوڑا اور ہندوستانی فوج کی بہادری اور جزبہ کو سلام پیش کیا۔
ریکھا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک مضبوط قومی ہیرو کا کردار ادا کرتے ہوئے ہندوستان کی تمام بہنوں کی عزت اورواقار میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور اس کے قائدین نے کبھی قومی مفاد کی پرواہ نہیں کی اور ہندوستان کے وقار کو مجروح کرنے کی مسلسل سازشیں کیں۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ نے ایوان میں کہا کہ آپریشن سندور ان تمام آنسوؤں کا جواب ہے جو ہماری بہنوں کی آنکھوں سے نکلے ۔ ’’وزیر اعظم نے ایک بہادر باپ، حساس بھائی اور مضبوط عزم کے حامل قومی ہیرو کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کی تمام بہنوں کی عزت اور وقار میں اضافہ کیا‘‘۔
ریکھا نے کہا کہ ہندوستانی افواج آج بھی اسی بہادری اور لگن کے ساتھ قوم کی حفاظت کر رہی ہے جس طرح ۱۹۶۵؍اور۱۹۷۱کی جنگوں میں کی تھی۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ ان تاریخی فوجی فتوحات کے باوجود سابقہ حکومتوں میں سیاسی عزم کا فقدان رہا۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ہندوستان نے۱۹۶۵کی جنگ میں فتح حاصل کی تو ہماری حکومتوں نے دباؤ میں آ کر قبضہ شدہ زمینیں کیوں واپس کیں۔ اقوام متحدہ اور امریکہ کی ثالثی کیوں قبول کی گئی؟ اور۱۹۷۱میں جب ہندوستان نے۹۳ہزار پاکستانی فوجیوں کو پکڑا تو انہیں غیر مشروط کیوں رہا کیا گیا؟
ریکھا نے شملہ معاہدہ، پی او کے کے مسئلہ اور کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی جیسے تاریخی تناظر کو بھی اجاگر کیا اور اپوزیشن کی خاموشی اور اس وقت کی قیادت کے فیصلوں پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات پر کبھی کوئی احتساب نہیں کیا گیا جبکہ آج جب ایک مضبوط قیادت کی جانب سے فیصلہ کن اقدام کیا گیا ہے تو اسے خیالی قرار دے کر مسترد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔










