جموں//
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج جموں میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد کے ۸۰ لواحقین کو تقرری نامے سونپے۔
بارہمولہ میں ہونے والے تاریخی تقریب ‘جہاں ۴۰ دہشت گردی کے متاثرہ خاندانوں کو تقرری نامے دیے گئے‘ کے بعدیہ اقدام جموں کشمیر میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کرنے کی سمت ایک اور اہم قدم ہے۔
دہشت گردی کا شکار خاندانوں نے بے باکی سے اپنے تلخ تجربات بیان کیے اور پاکستان کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کے کردار کو بے نقاب کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے شہری شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور دہشت گردی کے متاثرین کے خاندانوں کے غم و دکھ میں شریک ہوئے۔
سنہا نے کہا’’جموں کشمیر کے عام شہریوں نے پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کی وجہ سے ناقابل بیان اذیتیں برداشت کیں۔ متاثرہ خاندانوں کو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کے دکھ کو نظرانداز کیا گیا تاکہ مجرموں اور ان کے مددگاروں کو بچایا جا سکے‘‘۔
ایل جی نے کہا’’وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے اور ان تمام لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں جو دہشت گرد گروہوں کی مدد کرتے ہیں۔ میں متاثرہ خاندانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مجرموں کو ضرور سزا دی جائے گی‘‘۔
سنہا نے۲۱ جولائی ۲۰۰۱ کا اندوہناک واقعہ بیان کیا، جب کشتواڑ کے چیرجی گاؤں کی رہائشی محترمہ تارا دیوی نے اپنے بیٹے کو پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں سے بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔
ان کاکہناتھا’’۳۰؍اپریل ۱۹۹۸ کو، پاکستانی دہشت گردوں نے کشتواڑ کے بلبگرن گاؤں میں محترمہ گیان دیوی اور ان کے ڈیڑھ سالہ بیٹے کیکر سنگھ کا گلا کاٹ دیا‘‘۔
۵؍اپریل ۲۰۰۵ کو، ڈوڈہ کے رہائشی اور ولیج ڈیفنس کمیٹی کے رکن اشفاق احمد دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں شہید ہوئے۔ اس وقت ان کا بیٹا شمیم احمد صرف ۷سال کا تھا۔
پاکستان کی سرپرستی میں دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے باعث بے شمار خاندان اور ان کے پیارے صرف اعداد و شمار میں تبدیل ہو گئے۔ ان کے دکھ کو کسی نے نہ سنا، ان کے آنسو کسی نے نہ پونچھے۔ بالآخر برسوں بعد انصاف ان کے دروازے پر آیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’اب کشتواڑ، ڈوڈہ، رامبن، پونچھ، راجوری، سانبہ، کٹھوعہ، ادھمپور اور ریاسی کے متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل رہا ہے۔ دھرم کی ادھرم پر فتح یقینی ہے۔ ہم ہر متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے، ان کی بحالی، روزگار، مالی امداد اور ذریعہ معاش کی فراہمی کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ یہ انصاف کی جانب پہلا قدم ہے جس نے متاثرہ خاندانوں کے دلوں میں امید کی کرن جگائی ہے۔ یہ جموں و کشمیر میں انصاف کے ایک نئے دور کا آغاز ہے‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گرد، ان کے حامی، تصادم سے فائدہ اٹھانے والے اور علیحدگی پسند عناصر نے ہزاروں متاثرہ خاندانوں کی آواز کو دبا دیا۔ علیحدگی پسندوں کے جھوٹے بیانیے اب زمیں بوس ہو رہے ہیں۔
سنہا نے کہاکہ ایک اندرونی ویب پورٹل شروع کیا گیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کا مرکزی ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے تاکہ تمام کیسوں کی نگرانی اور کارروائی بروقت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں ہیلپ لائنز فعال کر دی گئی ہیں جہاں متاثرین اپنی شکایات درج کر سکتے ہیں۔ ڈویڑنل کمشنر کے دفاتر میں تربیت یافتہ عملے کے ذریعے مزید مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق ضلع مجسٹریٹ کے دفاتر میں درخواستیں موصول ہو رہی ہیں جن کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے۔ پورٹل میں خود روزگاری اسکیموں کی سہولت بھی شامل کی جا رہی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو معاشی خودمختاری مل سکے۔ مزید تقرری نامے اور امداد ۵؍اگست کو سرینگر میں تقسیم کی جائے گی، اور یہ عمل تب تک جاری رہے گا جب تک ہر متاثرہ خاندان کو انصاف نہ مل جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے متاثرہ خاندانوں کے مسائل کے حل کے لیے حساسیت سے کام کرنے والے تمام افسران کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے ۲۴جولائی کو جموں میں پیش آئے افسوسناک واقعے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا’’بے گناہ کو نہ چھیڑو اور قصوروار کو نہ چھوڑو‘ ہماری پالیسی ہے۔ پولیس نے مؤثر کارروائی کی ہے۔ ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے اور مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔ دو افسران کو معطل کیا گیا ہے۔ مزید کارروائی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر کی جائے گی‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سرینگر میں پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ختم کرنے پر سکیورٹی فورسز، جموں و کشمیر پولیس اور تمام اہلکاروں کو مبارکباد بھی دی۔
چیف سیکرٹری اٹل ڈولو، ڈی جی پی نلین پربھات، پرنسپل سیکرٹری ہوم چندرکر بھارتی، کمشنر سیکرٹری جی اے ڈی ایم راجو، ڈویڑنل کمشنر جموں رمیش کمار، آئی جی پی جموں بھیم سین توتی، مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنر، اعلیٰ افسران اور دہشت گردی کے متاثرہ خاندانوں کے افراد اس موقع پر موجود تھے۔
ضلع ترقیاتی کونسلوں کے چیئرمین، اسمبلی ممبران اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندگان بھی تقریب میں شریک تھے۔










