ہفتہ, اگست 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کشمیر میں آن لائن گیمنگ کا بڑھا رجحان اور اس کے نقصانات

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-07-17
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

ایل جی سنہا کا ’غیر قانونی‘ ہوٹلوں کی تعمیر کا انکشافـ:

کشمیر کی بیٹ انڈسٹری‘ایک مثبت کہانی

جلدی سے روپے پیسے کماکر شہرت حاصل کرکے ایک آرام دہ زندگی گزارنا کم و بیش ہر انسان کی خواہش ہو تی ہے اور اس خواہش کی تکمیل میں اکثر وہ اُس سب سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جو اِن کے پاس ہو تا ہے ۔پیسے کمانے کی دھن انسان کو اس قدر اندھا کر دیتی ہے کہ اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے ‘ وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنا تک بھول جاتا ہے اور ٹھوکر لگنے کے بعد جب وہ سنبھل جاتا ہے تو تب تک بہت دیر ہو چکی ہو تی ہے ۔
کشمیر میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو راتوں رات پیسہ کمار کر امیر بننے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں ۔ اپنے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے وہ ایسے راستے پر چل پڑتے ہیں جس کی منزل تباہی اور بربادی کے سواکچھ نہیں ہوتی ہے ۔ اور آج ہم جس دور میں رہتے ہیں ‘اس میں تباہی پر چلنے کیلئے بہت سے راستے دستاب ہیں ‘بہت سے سامان میسر ہیں ۔
ان میں سے ایک آن لائن گیمنگ اور بیٹنگ ہے ۔ملک میں آم لائن گیمنگ اور بیٹنگ کی اجازت ہے‘ لیکن کچھ شرائط کے ساتھ ۔ملک میں غیر قانونی بیٹنگ اور جوئے کی سرگرمیوں پر حقیقی پیسے لگانے والے لوگوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
بانڈی پورہ کے ایک شہری بھی آن لائن گیمنگ کی لت میں اس قدر مبتلا ہو گئے کہ آج یہ حقیقی معنوں میں سڑک پر آگئے ہیں ۔نور محمد کاکہنا ہے کہ ان کے پاس خد اکا دیا ہوا سب کچھ تھا ‘ گاڑی ‘ مکان اور زندگی کی ہر ضرورت پورا کرنے کے وسائل بھی ۔ ان کی زندگی پر سکون جا رہی تھی ‘ لیکن پھر کچھ مالی مشکلات کے دوران ان کے ایک دوست نے انہیں آئن لائن گیمنگ کی ترغیب دی۔
نور محمد کاکہنا ہے کہ آن لائن گیمنگ میں پہلے انہوں نے اپنی ۸ لاکھ روپے کی گاڑی کھو دی ، جسے انہوں نے آدھی قیمت پر بیچ ڈالا۔ تاہم انہوں نے آن لائن گیمنگ جاری رکھی اس امید کے ساتھ یہ جیت جائیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور انہیں قرض لینا پڑا اور یہ رقم بھی انہوں نے ہار دی ۔آخر پر ان کا واحدسہارا‘ یعنی گھر کی چھت بھی انہیں بیچنے پڑی اور اس کے ۴۵ لاکھ روپے بھی وہ آن لائن گیمنگ میں ہار گئے ۔اب بے گھر ہوئے نور محمد کا کہنا ہے کہ وہ سری نگر کی گلیوں میں گھومتا ہے جبکہ اس کا چھ افراد پر مشتمل خاندان بھی بکھر گیا ہے ۔
نور محمد کی کہانی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح ، پورے جموں کشمیر میں ، نوجوانوں کے آن لائن گیمنگ کے لالچ کا شکار ہونے کی کہانیاں خطرناک حد تک عام ہو رہی ہیں۔ گیمنگ پلیٹ فارمز اور فینٹسی اسپورٹس ایپس کے تیزی سے اضافے کے ساتھ ، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جوئے کی لت ایک خاموش وبا بنتی جا رہی ہے۔یہ ایک ایسا بحران ہے جو خاندانوں کو غیر مستحکم کر رہا ہے اور تمام خطوں میں ذہنی صحت کو خراب کر رہا ہے۔
سائبر پولیس کشمیر کے مطابق آئن لائن گیمنگ اور بیٹنگ کے حوالے سے وہ آئے روز مقدمے درج کرتی ہے اوریہ ہر گزرتے دن کے ساتھ وبا بنتی جا رہی ہے۔
اگرچہ ملک میں آن لائن گیمنگ اوربیٹنگ  کے کھیلوں کی قانونی طور پر اجازت ہے ، لیکن ان کی لت کی نوعیت نے بہت سے افراد اور خاندانوں کو ناقابل واپسی نقصان پہنچایا ہے۔ سماجی بدنما داغ کی وجہ سے ، بہت سے خاندان اپنی مالی پریشانیوں کے بارے میں خاموش رہتے ہیں ، مدد طلب کرنے کے بجائے اپنی جدوجہد کو اکیلے برداشت کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔اس سے شدید نفسیاتی نقصان اٹھاتا ہے ، جس کی وجہ سے اضطراب ، افسردگی اور مایوسی کا احساس ہوتا ہے۔ بہت سے نشے کے عادی افراد بڑھتے ہوئے تنازعات اور جذباتی منقطع ہونے کے ساتھ تناؤ والے خاندانی تعلقات کا تجربہ کرتے ہیں۔
آن لائن گیمنگ اور جوا ایک ایسا جال ہے جہاں ایک عام آدمی کبھی فاتح نہیں ہوتا  صرف ان ایپس کے مالکان کو ہی اس کا فائدہ ہو تا ہے ‘ صرف وہی جیت جاتے ہیں ۔ غور طلب ہے کہ اگر جوا اور بیٹنگ ممنوع ہے اور یہ مجرمانہ جرائم ہیں ، تو آن لائن جوا پر کوئی پابندی کیوں نہیں ہے اور کیوں اشتہارات کے ذریعے دن بہ دن اس کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جا رہی ہے‘جس میں بڑی نامے گرامی بالی ووڈ ستارے اور کرکٹ کھلاڑی اس تشہیری مہم کا حصہ ہو تے ہیں ۔
حیرت انگیز طور پر لاکھوں میں سے اگر کوئی خوش قسمت آن لائن گیم یا بیٹنگ جیتتاہے تو اسے میڈیا  میں خوب تشہیر ملتی ہے اور یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے لیکن نور محمد کی طرح ہزاروں لاکھوں لوگ جو عمر بھر کی جمع پونجی داؤ کر لگا کر اسے کھو دیتے ہیں ‘ ان کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جان پاتا ہے ۔
جموںکشمیر کے نوجوانوں کو نور محمد سے سبق لے کر آن لائن گیمنگ یا بیٹنگ کے جھانسے میں آنے کے بجائے محنت کرکے اپنے خوابوں کو پورا کرنا چاہئے ۔ محنت ایک کامیاب زندگی کی واحد ضمانت ہے جس نے بھی کوئی چھوٹا یا دوسرا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی اس کا حشر بد قسمتی سے نور محمد جیسا ہو تا ہے۔ کسی اور کو نور محمد کی غلطی نہیں دہرانی چاہئے کیونکہ ان کے الفاظ میں ’ پہلے تو آن لائن گیمنگ فائدہ مند لگ سکتی ہے ، لیکن آخر میں یہ آپ سے سب کچھ چھین لیتی ہے۔ ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

غلطی…!

Next Post

دنیا کے سب سے معمر ایتھلیٹ فوجا سنگھ ایک عالمی آئیکن کی حیثیت رکھتے تھے

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ایل جی سنہا کا ’غیر قانونی‘ ہوٹلوں کی تعمیر کا انکشافـ:

2026-07-30
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

کشمیر کی بیٹ انڈسٹری‘ایک مثبت کہانی

2026-07-29
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

 حج درخواستوں میں تشویشناک کمی:

2026-07-28
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

جنتر منتر احتجاج اور کشمیری سیاستدان

2026-07-26
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

مہنگائی بڑھتی رہی، حکومت خاموش رہی

2026-07-25
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ہماری اپنی غلطیاں تباہی کو دعوت دے رہی ہیں

2026-07-23
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
Next Post

دنیا کے سب سے معمر ایتھلیٹ فوجا سنگھ ایک عالمی آئیکن کی حیثیت رکھتے تھے

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.