پیر, ستمبر 7, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home مقامی خبریں

علی محمد ڈار:جدید تقاضوں سے کانگڑیاں بنانے کے فن کو ہم آہنگ کرنے والا کاریگر

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2024-12-05
in مقامی خبریں
A A
کشمیر میں کانگڑی سے ہونے والے کینسر کے کیسوں میں اضافہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’ ریاستی حیثیت کی بحالی کاوعدہ پورا ہونے کی امید ہے‘

تعلیمی وزیر ٹی ای ٹی معاملے پر اسمبلی میں قرارداد پیش کریں گی

سرینگر//
وادی کشمیر میں موسم سرما کے دوران صدیوں سے استعمال کی جانی والی روایتی کانگڑی لوگوں کے لئے گرمی کرنے کا موثر آلہ ہی نہیں بلکہ گھروں کی آرائش و زیبائش کا بھی ایک بہترین سامان بن گئی ہے ۔
وادی کشمیر کے کاریگروں نے زمانے کے تقاضوں کے ساتھ کانگڑیاں بنانے کے اپنے فن کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں اب کانگڑیوں کو گرمی کے لئے استعمال کئے جانے والے آلات تک محدود رکھنے پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ اب وہ مختلف ڈیزائنوں کی کانگڑیاں بنا رہے ہیں جنہیں لوگ شوق سے خرید کر اپنے گھروں کی زینت بڑھا رہے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں گرمی کے لئے مختلف قسموں کے الیکٹرانک یا گیس پر چلنے والے آلات کی دستابی کے باجود کانگڑی کا استعمال ہر گھر میں کیا جاتا ہے اور سردیاں شروع ہوتے ہی یہ اطراف و اکناف کے بازاروں میں نمودار ہوجاتی ہیں۔
وسطی کشمیر کے چرار شریف سے تعلق رکھنے والے علی محمد ڈار نامی ایک کاریگر نے چار ایسی کانگڑیاں تیار کی ہیں جو نہ صرف انتہائی دلکش ہیں بلکہ اپنی نوعیت کی پہلی تخلیقات ہیں۔
ان کانگڑیوں کو دیکھ کر جہاں کاریگر کے اس فن سے دلچسپی کا اندازہ لگایاجاتا ہے وہیں روز گار کے لئے اس صنعت کی وسعت بھی سامنے آجاتی ہے ۔
موصوف کاریگر نے یو این آئی کو بتایا’میں نے اس سال چار مختلف کانگڑیاں تیار کی ہیں جو اپنی نوعیت کی پہلی کانگڑیاں ہیں اس سائز اور اس ڈیزائن کی کانگڑیاں وادی میں پہلی بار بنائی گئی ہیں‘۔
انہوں نے کہا’ان کو میں نے سردی سے بچنے کے لئے استعمال کرنے کے لئے نہیں بنایا ہے بلکہ یہ گھروں میں آرائش و زیبائش کے لئے رکھی جا سکتی ہیں‘۔
ان کا کہنا ہے ’ان سے جو سب سے بڑی کانگڑی ہے اس کو تیار کرنے میں مجھے۲۰دن لگ گئے ، اس سے جو چھوٹی ہے اس کو۱۰دنوں میں تیار کیا اور جو اس سے دو چھوٹی کانگڑیاں ہیں ان کو بنانے میں ۸؍اور۲دن لگ گئے ‘۔
ان کانگڑیوں کی ریٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر علی محمد نے کہا’یہ کانگڑیاں اس فن سے وابستہ میرے شوق کا نتیجہ ہے ان کو تیار کرنے کیلئے میں نے اپنے تمام تر صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لایا ہے ‘۔
انہوں نے کہا’میں نے ان کانگڑیوں کی کوئی مخصوص قیمت نہیں رکھی ہے خریدار ان کو دیکھ کر خود جو چاہئے مجھے دے گا‘۔
ان کا کہنا تھا’نئے نئے ڈیزائن کی کانگڑیاں تیار کرنا میرا ایسا ہی شوق ہے جیسا ایک طالب علم کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہے جس طرح ایک مصور بہتر سے بہتر تصویر بنانے پر محنت کرتا ہے اسی طرح میں بھی بہتر سے بہتر ڈیزائن کی کانگڑیاں بنانے پر بھر پور محنت کرتا ہوں‘۔
کاریگر کا ماننا ہے کہ یہ صنعت دور حاضر میں دستیاب جدید ترین آلات کی دستیابی کے باوجود بھی روز گار کا ایک موثر وسیلہ بن سکتی ہے اور ہزاروں لوگوں کو ایک اچھا روزگار فراہم کر سکتی ہے ۔
کاریگر نے کہا’میں گذشتہ۵۰برسوں سے اس کاریگری سے وابستہ ہوں، بچپن سے اس کام سے جڑا ہوا ہوں اور میں نے یہ کاریگری اپنے علاقے کے بڑے کاریگروں سے سیکھی ہے ‘۔
ان کا کہنا ہے’میری کوئی زرعی زمین ہے نہ آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ ہے اسی فن کے ساتھ میری روزی روٹی وابستہ ہے اور میں آسانی سے اپنے گھر کے اخراجات پورا کرتا ہوں‘۔
علی محمد کا کہنا ہے’میں اپنے گھر میں اکیلے یہ کام کرتا ہوں اور سال بھر اس کام سے وابستہ رہتا ہوں اور اچھی طرح سے اپنے عیال کو پالتا ہوں‘۔انہوں نے کہا’یہ ایک اچھی صنعت ہے اس میں روز گار حاصل کرنے کی کافی گنجائش موجود ہے اور یہ ہزاروں لوگوں کے لئے ایک موثر روز گار کا ذریعہ بن سکتی ہے ‘۔
ان کا کہنا ہے ’لوگ آج بھی مختلف قسموں کی کانگڑیاں خریدتے ہیں، ہر گھر میں کانگڑیاں پائی جاتی ہیں اور ہر گھر ہر سال کانگڑیاں خریدتا ہے ‘۔کاریگر نے کہا’تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کاریگروں کی تعداد کم ہو رہی ہے ، نئے لوگ اس کو نہیں سیکھ رہے ہیں جو ایک تشویش ناک امر ہے ‘۔
انہوں نے کہا’اگر حکومت اس کی طرف توجہ دے گی، اس کے لئے نئی اسکیمیں متعارف کرے گی اور باقاعدہ کارخانے قائم کرے گی تو اس کا تحفظ یقینی بن سکتا ہے ۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’جدید صحافت کے بدلتے تقاضوں‘ کے موضوع پر انجمن اردو صحبت کے زیر اہتمام پونچھ میں ورکشاپ کا انعقاد

Next Post

کشمیر: سری نگر میں سرد ترین رات ریکارڈ، شوپیاں سرد ترین مقام

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

جموں کشمیر کو بجٹ میں خصوصی پیکیج ملنا چاہئے:چودھری
اہم ترین

’ ریاستی حیثیت کی بحالی کاوعدہ پورا ہونے کی امید ہے‘

2026-09-06
’چند افراد نے پوری کشمیری قوم کو بدنام کیا ‘
اہم ترین

تعلیمی وزیر ٹی ای ٹی معاملے پر اسمبلی میں قرارداد پیش کریں گی

2026-09-06
پولیس نے ’آپریشن اشدر‘ میں   ہلاک ملی ٹینٹ کی شناخت  پاکستانی شہری کے طور پر کرلی
اہم ترین

پولیس نے ’آپریشن اشدر‘ میں  ہلاک ملی ٹینٹ کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پر کرلی

2026-09-06
گوریول ریوائن کے تحفظ کے لیے چیف سیکریٹری سے فوری مداخلت کی اپیل
اہم ترین

گوریول ریوائن کے تحفظ کے لیے چیف سیکریٹری سے فوری مداخلت کی اپیل

2026-09-06
ادھم پور میں انکاونٹر شروع، گولیوں کا تبادلہ ‘کشتواڑ کے چھاترو میں آپریشن جاری
اہم ترین

بڈگام کے بالائی حصے میں فورسز کے ساتھ جھڑپ‘دہشت گرد ہلاک

2026-09-06
جموں و کشمیر کی ترقی کیلئےاسٹارٹ اپ کلچر پر توجہ ضروری:ایل جی سنہا
اہم ترین

لیفٹیننٹ گورنر کی یومِ اساتذہ پر اساتذہ کو مبارکباد

2026-09-06
گریز میں ہماری ریلی پر حملے میں بی جے پی ملوث:این سی
اہم ترین

امتیازی سلوک ؟’بی جے پی کو سہولت، این سی کو کچلا گیا‘

2026-09-03
ہندوارہ:ریت کے ٹیلے میں دھنس جانے سے شہری کی موت‘ دوسرا زخمی
اہم ترین

اننت ناگ میں چٹان گاڑی پر گرنے سے سیاح جاں بحق

2026-09-03
Next Post
کشمیر میں خشک موسم کے بیچ سردی تیز

کشمیر: سری نگر میں سرد ترین رات ریکارڈ، شوپیاں سرد ترین مقام

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.