سرینگر//
پولیس نے سرینگر میں۲منشیات فروشوں کی۳کروڑ روپیوں سے زیادہ مالیت کی جائیدادوں کو نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکو ٹراپک سبسٹینس (این ڈی پی ایس) ایکٹ کی دفعہ۶۸کے تحت منسلک کیا ہے ۔
ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سری نگر پولیس نے بونہ پورہ بٹہ مالو میں واقع ایک منشیات فروش کے۶۵لاکھ روپے مالیت کے ایک تین منزلہ مکان کو ایف آئی آر نمبر۱۳۷میں نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکو ٹراپک سبسٹینس (این ڈی پی ایس) ایکٹ کی دفعہ۶۸کے تحت ضبط کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ مکان کھیوٹ نمبر۱۳۷؍اور خسرہ نمبر۲۹۴(آبادی دیہ) پر مشتمل ہے ۔
منشیات فروش کی شناخت عبدالاحد بٹ ولد محمد سلطان بٹ ساکن بونہ پورہ بٹہ مالو کے طور پر کی گئی ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ ملزم ایک بدنام زمانہ منشیات فروش ہے جو نوجوانوں میں منشیات فروخت کرتا تھا جس کے خلاف پولیس اسٹیشن شہید گنج میں ایف آئی آر نمبر۲۰۲۴/۳۱زیر دفعہ۲۰/۸این ڈی پی ایس ایکٹ درج ہے ۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے ایک اور کیس کے سلسلے میں ہائوس نمبر۱۸عمر لین آزاد بستی میں واقع تخمیناً۵ء۲کروڑ روپیے مالیت کے ایک اور تین منزلہ رہائشی مکان کو این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ۶۸(ایف) کے تحت منسلک کیا۔انہوں نے مالک مکان کی شناخت منظور احمد بٹ والد جان منظور بٹ ساکن نٹی پورہ کے طور پر کی۔
بیان میں کہا گیا’’جان منظور بٹ نامی ملزم بھی ایک منشیات فروش ہے جو علاقے کے نوجوانوں میں منشیات فروشی کرتا تھا جس کے خلاف پولیس اسٹیشن چھانہ پورہ میں ایف آئی آر نمبر۲۰۲۴/۳۵زیر نمبر۲۱/۸؍این ڈی پی ایس ایکٹ درج ہے‘‘۔
ترجمان نے کہا’’مذکورہ دونوں جائیدادیں منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل کی گئی تھیں اور ان کو مجاز اتھارٹی اور ایڈمنسٹریٹر، ایس اے ایف ای ایم اے اور این ڈی پی ایس اے کی تصدیق کے بعد منسلک کیا گیا‘‘۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کے سیکشن۶۸؍ای اور۶۸؍ایف کی تعمیل میں یہ غیر منقولہ املاک جو ملزمین نے غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی ہے جس کو ضبط یا منسلک کیا گیا ہے ، کو مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر نہ منتقل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بیچا یا خریدا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کو کسی دوسری صورت میں ڈیل نہیں کیا جا سکتا ہے ۔










