سرینگر//
نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے آخر کار قبل از انتخابات اتحاد کیا ہے اور صرف پانچ حلقوں میں دونوں جماعتوں میں ’دوستانہ ‘مقابلہ ہو گا۔
دونوں پارٹیوں کے لیڈروں نے آج شام ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ نیشنل کانفرنس۵۱ نشستوں پر امیدوار کھڑے کرے گی جبکہ کانگریس۳۲ نشستوں پر انتخاب لڑے گی۔
جن پانچ سیٹوں پر دونوں پارٹیوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا، ان میں سوپور، بانہال، بھدرواہ، ڈوڈہ اور نگروٹہ شامل ہیں۔
ریاستی کانگریس کے صدر طارق حمید قرہ نے کہا ’’ نیشنل کانفرنس ۵۱‘ کانگریس ۳۲؍اور ہم ۵سیٹوں پر دوستانہ لیکن نظم و ضبط کے ساتھ مقابلہ کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ ان ۸۸ سیٹوں کے علاوہ ہم نے ایک سیٹ سی پی آئی (ایم) اور ایک سیٹ پینتھرس پارٹی کے لیے چھوڑی ہے‘‘۔
نیشنل کانفرنس کے صدر ‘فاروق عبداللہ نے کہا’’یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ہم نے یہ مہم شروع کی کہ ہم دونوں مل کر ان طاقتوں کے خلاف لڑیں گے جو یہاں کے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ پورے ملک اور انڈیا ایلائنس اس لئے بنایا گیا تھا تاکہ ہم ان طاقتوں سے لڑ سکیں جو ملک کو فرقہ وارانہ، تقسیم اور توڑنا چاہتی ہیں۔ آج ہم نے مذاکرات مکمل کر لیے ہیں اور بہت اچھے ماحول میں کوآرڈینیشن کی ہے۔ کانگریس اور نیشنل کانفرنس مل کر الیکشن لڑیں گے‘‘۔
کانگریس لیڈر کے سی وینو گوپال نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کی روح کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ہمارے ہندوستانی اتحاد کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کی روح کو بچانا ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر میں حکومت بنانے کے لئے ایک ساتھ آ رہے ہیں جو جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل طور پر دوستانہ ہے۔
وینوگوپال نے کہا’’ ہم نے اس کے مطابق بات چیت کی ہے اور ہم نے ایک فارمولے پر دستخط کیے ہیں جسے اب ہمارے رہنما شیئر کریں گے۔ ہم مل کر لڑیں گے، ہم جموں و کشمیر جیتیں گے۔ ہم جموں و کشمیر میں حکومت بنائیں گے۔‘‘
عمر عبداللہ نے انتخابی گٹھ جوڑ پر کہا کہ جن ۵ حلقوں میں ’دستانہ‘ مقابلہ ہو گا ان میں سے این سی کیلئے تین اور دو کو کانگریس کیلئے دو کو چھوڑنا مشکل ہو رہا تھا ۔
اس سے پہلے کانگریس نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ نشستوں کی تقسیم کی بات چیت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اپنے سینئر لیڈکے سی وینوگوپال کو سرینگر بھیجا تھا۔
انتخابات کے پہلے مرحلے کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ کل ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے آج نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے اور پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ سے ملاقات کی۔
قبل ازیں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے عبداللہ خاندان سے ملاقات کی اور دونوں فریق مل کر الیکشن لڑنے پر اتفاق رائے پر پہنچے۔ لیکن سیٹوں کی تقسیم پر اختلافات سامنے آئے اور بات چیت میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔ کانگریس نے وینو گوپال کو اس تعطل کو ختم کرنے کیلئے بھیجا تھا تاکہ پارٹیاں اہم انتخابات کی تیاری پر توجہ مرکوز کرسکیں۔
جموں و کشمیر اسمبلی کی ۹۰نشستوں پر تین مرحلوں میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جن میں ۱۸ستمبر‘۲۵ ستمبر اور یکم اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ووٹوں کی گنتی ۴؍اکتوبر کو ہوگی۔
جموں و کشمیر میں آخری بار۲۰۱۴ میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے جس کے بعد پی ڈی پی نے حکومت بنانے کے لئے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔ ۲۰۱۹میں مرکز نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا تھا۔










