جمعرات, جون 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

این ای ای ٹی یوجی۲۰۲۴کا سوالیہ پرچہ پبلک ہونے کی بات قبول کی گئی:سپریم کورٹ

این ٹی اے ہفتہ تک تمام امتحانی مراکز کے الگ الگ نتائج کا اعلان کرے/۲۲جولائی کو کیس کی دو بارہ سماعت 

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2024-07-19
in اہم ترین
A A
جموں کشمیر میںحد بندی کیخلاف عرضی پرسپریم کورٹ میں سماعت آج
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

نئی دہلی//
سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ اس نے انڈر گریجویٹ میڈیکل اور دیگر کورسز میں داخلے سے متعلق قومی اہلیت کم داخلہ ٹیسٹ (این ای ای ٹی یوجی)۲۰۲۴کے سوالیہ پیپر کو امتحان شروع ہونے سے پہلے عام ہونے کی بات قبول کی گئی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ دوبارہ امتحان اس ٹھوس بنیادوں پر کرایا جائے کہ پورا امتحان متاثر ہوا ہے ۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا، جو سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے ، نے پٹنہ اور ہزاری باغ میں سوالیہ پرچوں کے عام ہونے کے واقعہ کو قبول کیا اور کہا کہ اس معاملے میں مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) کارروائی کر رہی ہے ۔ انہوں نے واضح طور پر اس معاملے میں کسی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی تردید کی۔
بنچ نے مرکزی حکومت، امتحانات کا انعقاد کرنے والی باڈی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے ) اور کئی عرضیوں کے وکیلوں کے دلائل کو تفصیل سے سنا۔ اس کے بعد بنچ نے تمام مراکز کے الگ الگ امتحانی نتائج کا اعلان ہفتہ کو ۱۲بجے تک کرنے کا حکم دیا۔
بنچ نے کہا’’یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ سوالیہ پرچے پٹنہ اور ہزاری باغ میں عام کیے گئے تھے…سوالیہ پرچے گردش کیے گئے تھے ۔ ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ صرف ان مراکز تک محدود تھا یا بڑے پیمانے پر‘‘۔
سپریم کورٹ نے کہا’’طلبا مشکل میں ہیں کیونکہ انہیں نتائج کا علم نہیں ہے ۔ ہمیں مرکز کے حساب سے نمبروں کا نمونہ دیکھنا چاہیے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ امتحان میں شامل ہونے والے طلباء کی شناخت ظاہر کیے بغیر تمام نتائج کا اعلان کیا جائے ‘‘۔
تحقیقات کے بارے میں بنچ نے کہا’’فی الحال تحقیقات چل رہی ہے ، اگر سی بی آئی نے (عدالت کو) جو کچھ کہا وہ عام ہو جاتا ہے ، تو تحقیقات پر اثر پڑے گا‘‘۔
بنچ نے کہا کہ وہ پیر کو سی بی آئی اور پٹنہ پولس کی تحقیقات کے معاملے کو دیکھے گی۔
بنچ نے درخواست گزاروں میں سے ایک کے وکیل سے یہ بھی کہا’’آپ کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ سوالیہ پرچہ عام ہونے کا واقعہ اتنا منظم تھا کہ اس نے پورے امتحانی نظام کو متاثر کیا تاکہ پورے امتحان کی منسوخی کی ضمانت دی جا سکے ‘‘۔
بنچ نے وکیل سے پوچھا’’اگر ہم آپ کی تفصیلی گذارشات کو قبول کرتے ہیں، تو ہم آپ سے مدد چاہتے ہیں کہ کن نکات کی تفتیش ہونی چاہیے ‘‘۔
اس پر متعلقہ وکیل نے کہا’’این ٹی اے نے مکمل نتائج کا اعلان نہیں کیا ہے ، جب کہ یوپی ایس سی تمام امیدواروں کے نتائج کا اعلان کرتی ہے ، کم از کم این ٹی اے کو ایک لاکھ لوگوں کے نتائج کا اعلان کرنا چاہیے جنہیں داخلہ ملے گا‘‘۔
امتحانی نتائج کے اعلان کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے زور دیا کہ دوبارہ امتحان اس ٹھوس بنیاد پر کرایا جائے کہ پورا امتحان متاثر ہوا ہے ۔
وکیل نے یہ بھی دلیل دی کہ آئی آئی ٹی مدراس کا ۲۳لاکھ سے زیادہ طلباء کی جانچ پر مبنی تجزیہ قابل اعتبار نہیں ہے ۔ میڈیکل کالج میں داخلہ لینے والے ایک لاکھ آٹھ ہزار امیدواروں کی بنیاد پر ایسا کیا جانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ آئی آئی ٹی مدراس کی رپورٹ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کے (آئی آئی ٹی مدراس) ڈائریکٹر این ٹی اے کی گورننگ باڈی کے رکن ہیں۔
بنچ نے عرضی گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ نریندر ہڈا کی کونسلنگ پر روک لگانے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ بنچ نے کہا’’نہیں، ابھی نہیں۔ ہم اس معاملے کی سماعت پیر۲۲جولائی کو کریں گے ، کیونکہ کونسلنگ۲۴جولائی یا تیسرے ہفتے میں ہے اور یہ ایک ماہ یا اس سے زیادہ چل سکتی ہے ‘‘۔
جسٹس چندرچوڑ کی بنچ نے ابتدائی طور پر این ٹی اے سے اپیل کی، جو این ای ای ٹی یوجی کا انعقاد کرنے والی تنظیم ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وہ جمعہ کی شام ۵بجے تک امتحانی نتائج کو اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں۔ اس کے بعد این ٹی اے کے وکیل نے عدالت سے امتحان کے نتائج کے اعلان کے لیے اضافی وقت دینے کی درخواست کی۔ عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ امتحان کے نتائج ہفتہ کی دوپہر ۱۲بجے تک اپ لوڈ کر دئیے جائیں۔
۱۱جولائی کو سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت ۱۸جولائی تک ملتوی کر دی تھی۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

چین میں شاپنگ مال میں آتشزدگی، 16 افراد جاں بحق

Next Post

داخل مریض کی موت:ڈلگیٹ میں نجی ہسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے
اہم ترین

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

2026-06-04
شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین
اہم ترین

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

2026-06-04
 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری
اہم ترین

 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری

2026-06-04
اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط
اہم ترین

اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط

2026-06-04
ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی
اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی

2026-06-04
دہشت گردی سے متعلق مقدمے  میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے
اہم ترین

دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے

2026-06-04
بی جے پی پنڈتوں کے درد کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی: کانگریس
اہم ترین

 کانگریس کا مہنگائی بے روزگاری اور  پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج

2026-06-04
وزیر اعلیٰ حکومت کو  وفاداری کی پریڈوں تک   محدود کر رہے ہیں: شرما
اہم ترین

وزیر اعلیٰ حکومت کو وفاداری کی پریڈوں تک  محدود کر رہے ہیں: شرما

2026-06-04
Next Post
سنتور ہوٹل ملازموں کا سرینگر میں احتجاج

داخل مریض کی موت:ڈلگیٹ میں نجی ہسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.