نئی دہلی//
وزارت خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ مسلمانوں کے سالانہ حج کے دوران ۹۸ ہندوستانیوں کی موت ہو گئی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ گزشتہ سال پورے حج مدت میں ہندوستانیوں کی کل اموات ۱۸۷ تھیں۔
جیسوال نے کہا کہ اس سال۱۷۵۰۰۰ ہندوستانی عازمین حج کیلئے مکہ مکرمہ گئے تھے۔ حج کی مدت۹ مئی سے ۲۲ جولائی تک ہے۔ اس سال اب تک ۹۸؍ اموات کی اطلاع ملی ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ کاکہنا تھا کہ یہ اموات قدرتی وجوہات، دائمی بیماریوں اور بڑھاپے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ جیسوال نے اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ عرفات کے دن چھ افراد ہلاک ہوئے اور چار حادثات سے متعلق اموات تھیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان حج کے دوران ہندوستانیوں کی موت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ فوت ہوئے ۹۸ ہندوستانی حجاج میں سے ۱۰ کا تعلق کشمیر سے ہے جس میں راولپورہ کا ایک جوڑا بھی شامل ہے ۔ان کی موت رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں شدید گرمی کی وجہ سے ہو ئی ۔
اس دوران سعودی عرب کے محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ہم ہر سال حج سیزن کو گرمیوں سے نکل کر سردیوں کی طرف منتقل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سترہ سال کے بعد حج سیزن سردیوں میں آئے گا۔
خیال رہے کہ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس وقت حج سیزن جاری ہے اور حجاج کرام مناسک حج کے آخری ایام کی عبادات میں مصروف ہیں۔ اس سال حج سیزن پر غیر معمولی گرمی دیکھنے میں آئی ہے۔
شدید گرم موسم کے پیش نظر سعودی وزارت صحت نے حجاج کرام کو سن اسٹروک سے بچانے کیلئے ہرممکن اقدامات کیے تھے۔
اسی حوالے سے سعودی قومی مرکز برائے موسمیات کے سرکاری ترجمان حسین القحطانی نے انکشاف کیا کہ آئندہ برس کا حج موسم گرما میں آخری حج ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ۱۷ سال بعد موسم گرما میں حج نہیں کریں گے۔
القحطانی نے مزید کہا کہ حج اگلے سال کے بعد ۱۴۴۷ ہجری سے شروع ہوکر ۸ سال کے عرصے کے لیے موسم بہار میں منتقل ہوگا اور اس کے بعد مزید ۸سالوں میں حج کا موسم سردیوں کے موسم میں آئے گا۔ان کاکہنا تھا’’ اس طرح ہم ۱۶ سال کی مدت کے لیے گرمیوں کے موسم میں حج کو مکمل طور پر الوداع کریں گے‘‘۔
یاد رہے کہ سعودی عرب میں گرمیوں میں اوسط درجہ حرارت۴۵ تا۴۷ ڈگری سیٹی گریڈ کیدرمیان ہوتا ہے۔
درایں اثناء سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کے رکن اور موسمیاتی تبدیلی کے محقق ڈاکٹر منصور المزروعی نے کہا کہ حج کا موسم اس وقت گرمیوں میں آتا ہے، جبکہ اگلے سال بھی موسم گرما میں ہوگا۔ اس کے بعد بہ تدریج حج سیزن موسم بہار میں منتقل ہونا شروع ہوگا اور آٹھ سال موسم بہار میں حج جاری رہے گا۔
المزروعی کہتے ہیں کہ حج کوسردیوں کے موسم میں آنے میں مزید آٹھ سال لگیں گے۔ جس کا آغاز ہجری سال۱۹۵۴ ہجری سے شروع ہونے والا حج سیزن۱۴۶۱ھ تک سردیوں میں رہے گا۔۱۴۶۲ اور ۱۴۶۹ہجری کے درمیان کا عرصہ خزاں کے حج سیزن پر مشتمل ہوگا۔ س طرح یہ چار موسم ۳۳ ہجری سالوں میں مکمل ہو کر ۱۴۷۰ ہجری کو ایک بار پھر حج سیزن گرمیوں میں آئے گا۔










