جموں//
ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی (ڈی پی اے پی) کے چیرمین غلام نبی آزاد نے پیر کے روز کہاکہ پارٹی کی جدوجہد کے باعث ہی زمینوں کی بے دخلی اور راشن کٹوتی کے مسائل حل ہوئے ہیں۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے بانہال میں پارٹی کنونشن سے ٹیلی خطاب کے دوران کیا۔
آزاد نے کہا کہ ڈی پی اے پی نے اس سال جنوری سے مارچ تک پورے جموں و کشمیر میں تین مہینوں میں۲۰سے زائد احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں جن میں اراضی کی بے دخلی اور راشن کی کٹوتی کے بڑے مسائل کو حل کیا گیا ہے ۔
ڈی پی اے پی کے سربراہ نے کہا’’یہ سڑکوں پر ڈی پی اے پی کی احتجاجی ریلیاں تھیں جس نے حکومت کی توجہ ان اہم مسائل کی طرف دلائی جو لوگوں کو زبردستی اراضی کی بے دخلی اور راشن کی کٹوتی کی شکل میں درپیش ہیں، انتظامیہ نے ، بڑھتی ہوئی ناراضگی کو محسوس کرتے ہوئے ، بے دخلی کی مہم کو روک دیا اور جموں و کشمیر میں تمام زمروں میں راشن کوٹہ کو بڑھا کر۱۰کلو کر دیا‘‘۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کسی دوسری سیاسی جماعت نے ان اہم مسائل کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ ۱۰۰‘۷۰یا۳۰سال پرانی سیاسی جماعتیں ہوں‘انہوں نے صرف اخباری بیانات جاری کیے اور لوگوں کی تشویش پر خاموش رہے ۔
جموں و کشمیر کے لوگوں تک پہنچنے کیلئے پارٹی کارکنوں اور قیادت پر زور دیتے ہوئے آزاد نے کہا کہ وہ اگست سے ستمبر تک تمام ڈی پی اے پی کنونشنوں سے خطاب کریں گے اور ان میں شرکت کریں گے تاکہ پارٹی کیڈر آئندہ انتخابات کے لیے تیار ہو سکے ۔
ہائی کورٹ کا کشتواڑ میں دو مدارس کو سیل کرنے کے حکومتی حکم کو منسوخ
سرینگر//
جموں کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ نے حال ہی میں کشتواڑ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) کی طرف سے دو مدارس کو سیل کرنے کے جاری کردہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے ایک اہم فیصلہ سنایا۔
عدالت نے پایا کہ سیل کرنے کا حکم بغیر کسی مناسب انکوائری یاثبوت کے جاری کیا گیا تھا۔’’راج علی اور دیگر بمقابلہ یونین آف انڈیا اور دیگر‘‘ کے عنوان سے کیس کی صدارت جسٹس سنجیو کمار نے کی۔
عدالت کا یہ فیصلہ اس بات کے سامنے آنے کے بعد آیا کہ دونوں مدارس کو سیل کرنے کا فیصلہ انتظامیہ کو کیس میں اپنا فریق پیش کرنے کا موقع فراہم کیے بغیر لیا گیا، اس طرح قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی۔
اے ڈی سی کے حکم نے سیل شدہ مدارس کو مولانا علی میاں ایجوکیشنل ٹرسٹ، بھٹنڈی سے جوڑ دیا تھا، جسے پہلے۱۴جون۲۰۲۳ کو ڈویڑنل کمشنر جموں نے ملک دشمن اور سماج دشمن قرار دیا تھا۔
تاہم‘ بعد میں یہ واضح کیا گیا کہ زیر بحث دونوں مدارس کا اس مخصوص ٹرسٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ سیل کرنے کا حکم منصفانہ سماعت کیے بغیر یا معاملے کی کوئی انکوائری شروع کیے بغیر دیا گیا۔
نتیجے کے طور پر‘عدالت نے رائے دی کہ اے ڈی سی کی جانب سے ان مدارس کو بند کرنے یا ان پر قبضہ کرنے کے ڈویڑنل کمشنر کے حکم کی درخواست اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ مولانا علی میاں ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ساتھ ان کے وابستگی کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو۔
نتیجتاً، عدالت نے دونوں مدارس سے متعلق سیل کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ڈویڑنل کمشنر کے۱۴جون۲۰۲۳کے حکم کا اطلاق صرف بھٹنڈی میں مولانا علی میاں ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر انتظام مدارس پر ہونا چاہیے اور اس کا اطلاق مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جائز مدارس پر نہیں ہونا چاہیے۔