سرینگر//
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) ملی ٹینسی فنڈنگ کیس کے سلسلے میں جموں کشمیر اور دہلی کے متعدد مقامات پر چھاپے مار رہی ہے، ذرائع کے حوالے سے خبروں نے جمعہ کو بتایا۔
معتبر ذرائع کے حوالے سے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ این آئی اے کے دستے پولیس اور سی آر پی ایف کی مدد سے رجسٹرڈ کیس میں سترہ مقامات پر چھاپے مار رہے ہیں۔ اننت ناگ، کولگام، بہرام پورہ سوپور، اونتی پورہ اور جموں اور دہلی میں ایک ایک میں تلاشی لی جارہی ہے۔
اننت ناگ کے گاؤں ہدیگام میں این آئی اے کے اہلکاروں نے جاوید احمد شیخ ولد مرحوم رشید احمد شیخ، اقبال شیخ ولد احد شیخ (سرکاری استاد)، شوکت شیخ ولد محمد شیخ (کریانہ دکاندار)، منظور شیخ (درزی) امین شیخ ولد ولی شیخ کے مشترکہ گھر کی تلاشی لی )۔
کولگام کے گاؤں میرہامہ میں این آئی اے نے بشیر احمد پیڈر ولد علی محمد پیڈر کے مکانات کی تلاشی لی جو وارڈ۴ کا پنچ ہے۔
پلوامہ میں این آئی اے نے اونتی پورہ میں نمبردار چارسو کے گھر پر چھاپہ مارا اور نمبردار عبدالغنی وانی اور ان کے بیٹے محمد عمران وانی کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کیلئے تھانے لے گئے۔
دریں اثنااین آئی اے کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ این آئی اے نے جمعے کے روز آر سی۲۰۲۲/۵این آئی اے/جے ایم یو کیس کے سلسلے میں کولگام، پلوامہ، اننت ناگ اور جموں اضلاع میں ۱۴مختلف مقامات پر چھاپے مارے ۔
بیان میں کہا گیا ہے’’یہ مقدمہ پاکستانی کمانڈورں کی شہ پر مختلف جعلی ناموں کے تحت کالعدم تنظیموں اور جنگجو اعانت کاروں کی طرف سے ملی ٹنٹ اور دیگر تخریبی کاررئیاں انجام دینے کیلئے رچائی جا رہی سازشوں کے متعلق ہے ‘‘۔
ایجنسی کا بیان میں کہنا ہے’’وہ جموں کشمیر میں سائیبر سپیس کا استعمال کرکے جنگجویانہ حملے انجام دینے‘ اقلیتی فرقوں، سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے اور فرقہ وارانہ فساد پھیلانے میں ملوث ہیں‘‘۔
بیان میں کہا گیا کہ آج یعنی جمعے کو تلاشی کارروائیوں کے دوران قابل اعتراض مواد جیسے ڈیجیٹل آلات، سم، کارڈس وغیرہ ضبط کئے گئے ۔بیان کے مطابق اس کیس میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔









