نیشنل کانفرنس سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے آغا روح اللہ نے الزام لگایا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے عوام سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کیا اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان سیاسی مقاصد کو پس پشت ڈال دیا جن کی بنیاد پر لوگوں سے ووٹ مانگے گئے تھے۔ ان کے الزامات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا نیشنل کانفرنس نے انہیں اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب جذباتی نعروں کے بجائے سیاسی حقائق کی روشنی میں تلاش کرنا ضروری ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ۲۰۲۴ کے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو ایک بھاری عوامی منڈیٹ حاصل ہوا۔ اس وقت آغا روح اللہ پہلے ہی نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ پر سرینگر حلقے سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہو چکے تھے۔ اسمبلی انتخابات کے دوران کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے حق میں ایک لہر محسوس کی جا رہی تھی۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کشمیری عوام کی ایک بڑی تعداد کی حتی الامکان کوشش تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو کسی بھی صورت جموں و کشمیر میں اقتدار سے دور رکھا جائے۔
۲۰۱۴ کے اسمبلی انتخابات کے بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بی جے پی کے ساتھ حکومت قائم کی تھی۔ اس سیاسی تجربے نے پی ڈی پی کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا تھا اور ۲۰۲۴ میں اس جماعت کو عوام کی اکثریت ایک قابل اعتماد سیاسی متبادل کے طور پر دیکھنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ایسے حالات میں نیشنل کانفرنس ہی وہ جماعت تھی جس کے بارے میں لوگوں کا خیال تھا کہ اسے اقتدار میں لا کر بی جے پی کو جموں و کشمیر میں حکومت بنانے سے روکا جا سکتا ہے۔
اس تناظر میں یہ کہنا شاید درست نہیں ہوگا کہ نیشنل کانفرنس کی انتخابی کامیابی کا تمام تر انحصار آغا روح اللہ کی شخصیت یا ان کی سیاسی مقبولیت پر تھا۔ اگر اسمبلی انتخابات میں روح اللہ موجود نہ بھی ہوتے تو غالب امکان یہی تھا کہ انتخابی نتائج کچھ مختلف نہ ہوتے۔ نیشنل کانفرنس کو حاصل ہونے والا منڈیٹ ایک وسیع سیاسی پس منظر کا نتیجہ تھا، جس میں عوام کی بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کی خواہش بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نیشنل کانفرنس نے آغا روح اللہ کو اسمبلی انتخابات کے دوران کوئی اسٹار کیمپینر نہیں بنایا تھا۔ اگر انہیں پارٹی کی انتخابی مہم کا مرکزی چہرہ بنایا جاتا اور ان کی شخصیت کو انتخابی کامیابی کے لیے بھرپور طور پر استعمال کیا جاتا تو ان کے اس الزام میں وزن تلاش کیا جا سکتا تھا کہ پارٹی نے انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، دستیاب سیاسی حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔
اس کے باوجود روح اللہ جن بنیادی مسائل کو اٹھا رہے ہیں، ان سے اختلاف کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ دفعہ ۳۷۰ کی بحالی، جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن، ریاستی درجے کی بحالی اور عوام کے سیاسی حقوق ایسے مسائل ہیں جن پر نیشنل کانفرنس نے نہ صرف انتخابی مہم چلائی بلکہ عوام سے ان کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنے کے وعدے بھی کیے تھے۔ ان وعدوں کی تکمیل کے حوالے سے عوامی بے چینی اور مایوسی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس جماعت نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کی، ریاست کے دو حصے کیے اور اسے ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تبدیل کر دیا، اس جماعت سے وہ تمام حقوق واپس کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں جو اس نے’ چھین ‘لیے ہیں؟ کیا صرف انتخابی وعدوں، اسمبلی قراردادوں اور سیاسی بیانات کے ذریعے یہ سب کچھ ممکن ہے؟
دفعہ ۳۷۰ کی بحالی تو دور کی بات ہے، اسمبلی انتخابات کو دو سال گزرنے کے باوجود جموں و کشمیر کے ساتھ کیا گیا ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے نہ کوئی واضح مدت سامنے آئی ہے اور نہ ہی بحالی کے امکانات کے بارے میں کوئی ٹھوس یقین دہانی موجود ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ اگر ایک نسبتاً آسان سیاسی وعدہ پورا نہیں ہو پا رہا تو خصوصی پوزیشن کی بحالی کے لیے عملی جدوجہد کا راستہ کیا ہوگا؟
آغا روح اللہ کی نیشنل کانفرنس سے علیحدگی کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ پارٹی نے دفعہ ۳۷۰ کی بحالی کی جدوجہد سے انحراف کیا ہے۔ لیکن اس سوال کا جواب روح اللہ کو بھی دینا ہوگا کہ وہ خود اس دفعہ کی بحالی کے لیے کیا عملی منصوبہ رکھتے ہیں۔ دہلی کو اس مقصد کے لیے کیسے قائل یا مجبور کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس کے لیے کوئی سیاسی، آئینی یا عوامی تحریک کا خاکہ ان کے پاس موجود ہے؟ اگر ایسا کوئی منصوبہ ہے تو اسے عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔
دہلی کے خلاف سخت گیر موقف اختیار کرکے آغا روح اللہ عوام کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے جذباتی اور دوٹوک بیانات کو عوام میں پذیرائی بھی مل سکتی ہے۔ لیکن سیاست کا اصل امتحان محض عوامی داد اور حمایت حاصل کرنا نہیں بلکہ ان جذبات کو کسی قابل عمل سیاسی حکمت عملی میں تبدیل کرنا ہے۔
شاید یہی جموں و کشمیر کی سیاست کی سب سے بڑی بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں کے رہنما بڑے بڑے جذباتی نعرے تو لگاتے ہیں، لیکن ان نعروں کو عملی شکل دینے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ شیخ محمد عبداللہ نے بھی مختلف ادوار میں جذباتی سیاسی نعرے لگائے، مگر ان کے سیاسی سفر میں بھی ایسے کئی موڑ آئے جہاں عوام کی توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ علیحدگی پسند قیادت نے بھی عوامی جذبات کو اپنی سیاست کا محور بنایا، لیکن اس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کو سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
آج اگر آغا روح اللہ بھی اپنی سیاست کو محض جذباتی نعروں اور دہلی مخالف بیانات تک محدود رکھتے ہیں تو اس سے عوام کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ انہیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ کس سیاسی راستے پر چلنا چاہتے ہیں اور ان کے پاس دفعہ ۳۷۰ کی بحالی کے لیے کیا ٹھوس حکمت عملی ہے۔
جہاں تک نیشنل کانفرنس کی قیادت کا تعلق ہے، اسے بھی اپنے سیاسی رویے پر غور کرنا ہوگا۔ عوام نے اسے ایک واضح مقصد کے تحت اقتدار میں پہنچایا تھا۔ اگر وہ مقصد پورا نہیں ہو رہا تو پارٹی کو یہ بتانا ہوگا کہ اس کی جدوجہد کہاں تک پہنچی ہے اور آئندہ اس کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
آغا روح اللہ کے الزامات کا فیصلہ وقت کرے گا کہ آیا نیشنل کانفرنس نے انہیں واقعی استعمال کیا یا یہ اختلافات ایک وسیع تر سیاسی حکمت عملی اور ترجیحات کے تصادم کا نتیجہ ہیں۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام اب صرف وعدوں اور نعروں سے مطمئن ہونے والے نہیں ہیں۔ انہیں اپنی سیاسی قیادت سے واضح راستہ، عملی اقدامات اور نتائج درکار ہیں۔
نیشنل کانفرنس ہو یا آغا روح اللہ، دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی منڈیٹ کوئی ذاتی سیاسی سرمایہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری سے انحراف کرنے والی ہر قیادت کو بالآخر عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔





