اتوار, نومبر 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

 سیاحتی مقامات کنکریٹ جنگل میں بدل رہے ہیں

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-31
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

            کشمیر کا قدرتی حسن اس کی سب سے بڑی پہچان اور قیمتی سرمایہ ہے۔ پہلگام، گلمرگ اور سونہ مرگ جیسے سیاحتی مقامات اپنی خوبصورتی، سرسبز چراگاہوں، گھنے جنگلات، برف پوش پہاڑوں اور شفاف آبشاروں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔ یہاں آنے والے سیاح بلند و بالا عمارتیں دیکھنے نہیں بلکہ قدرت کے ان حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے پہنچتے ہیں جو کشمیر کو دنیا کے دوسرے سیاحتی مقامات سے منفرد بناتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ گزشتہ کئی برسوں سے ان مقامات پر جس انداز میں تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، اس نے ان کی قدرتی شناخت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ہوٹلوں، ریزورٹس، تجارتی عمارتوں اور دیگر تعمیرات کی بھرمار نے کئی خوبصورت علاقوں کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

            پہلگام کی صورتحال اس حوالے سے خاصی تشویشناک ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق وہاں سبز علاقوں، قدرتی ڈھلوانوں اور کھلی چراگاہوں میں تجارتی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض مقامات پر قدرتی سبزہ زاروں کی جگہ پتھریلے راستوں، مصنوعی تعمیرات اور تفریحی ڈھانچوں نے لے لی ہے۔ بیتاب ویلی جیسے معروف مقام پر بھی فطری حسن کو برقرار رکھنے کے بجائے مصنوعی خوبصورتی پیدا کرنے کی کوششیں نظر آ رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب سیاح ان مقامات پر قدرتی مناظر دیکھنے آتے ہیں تو پھر ان کے سامنے کنکریٹ کی عمارتیں کھڑی کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟

            زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے عدالت عالیہ کی ہدایات اور پابندیوں کے باوجود خلاف ورزیوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ عدالت نے سیاحتی مقامات کے تحفظ اور غیرقانونی تعمیرات کی روک تھام کے لیے متعدد بار واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ مخصوص علاقوں میں نئی تعمیرات پر پابندی اور موجودہ عمارتوں کی مرمت کے لیے سخت شرائط بھی مقرر کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود اگر ہوٹل اور دیگر تجارتی عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں تو یہ محض قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ متعلقہ انتظامی اداروں کی کارکردگی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

متعلقہ

پن بجلی منصوبوں پر عدالتی فیصلہ

کابینہ کی توسیع اور ناراضگیوں کا امتحان

            یہ مسئلہ صرف پہلگام تک محدود نہیں۔ گلمرگ اور سونہ مرگ بھی اسی خطرے سے دوچار ہیں۔ ان مقامات پر ہوٹلوں کی تعداد اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ماحولیاتی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ کئی ہوٹلوں اور تجارتی اداروں میں فضلے کی تلفی، سیوریج اور آلودگی پر قابو پانے کے مناسب انتظامات کا فقدان تشویش کا باعث ہے۔ بعض مقامات پر کوڑا کرکٹ جنگلات اور کھلی جگہوں میں پھینکے جانے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈیزل جنریٹروں کا استعمال بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

            قدرتی ماحول کو نقصان پہنچانے والی تعمیرات کے اثرات صرف خوبصورتی تک محدود نہیں رہتے۔ پہاڑی علاقوں کی قدرتی ڈھلوانیں، سبزہ زار اور آبی گزرگاہیں ایک مخصوص ماحولیاتی نظام کا حصہ ہوتی ہیں۔ یہ بارش اور برف باری کے پانی کی قدرتی نکاسی، زمین کے تحفظ اور ماحول کے توازن میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب ان علاقوں میں بے ہنگم تعمیرات ہوتی ہیں، پانی کے قدرتی راستے بند کیے جاتے ہیں اور پہاڑوں کو کاٹ کر عمارتیں کھڑی کی جاتی ہیں تو قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلاب، زمین کھسکنے اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

            کشمیر پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات محسوس کر رہا ہے۔ غیرمعمولی بارشیں، بادل پھٹنے کے واقعات، سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں زمین کھسکنے کے واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ قدرتی نظام میں غیرضروری مداخلت کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں سیاحتی مقامات پر تعمیراتی سرگرمیوں کو بے قابو چھوڑ دینا کسی صورت دانش مندی نہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قدرتی وسائل کی قیمت پر ہونے والی ترقی دراصل ترقی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے۔

            اس سارے معاملے میں متعلقہ محکموں اور ترقیاتی اداروں کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہے۔ اگر کسی علاقے میں تعمیرات پر پابندی ہے تو اس پر عمل درآمد یقینی بنانا انہی اداروں کا فرض ہے۔ یہ جانچنا ضروری ہے کہ ممنوعہ علاقوں میں تعمیراتی اجازت نامے کس بنیاد پر جاری ہوئے، غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی میں تاخیر کیوں ہوئی اور مرمت کی اجازت کو نئی تعمیرات کے لیے استعمال کرنے والوں کو کس نے کھلی چھوٹ دی۔ اگر کسی افسر یا بااثر شخص کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آتے ہیں تو اس کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں ایک غیرجانبدارانہ تحقیقات اور احتسابی عمل ناگزیر ہے۔

            وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو محکمہ سیاحت کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، کو اس مسئلے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ حکومت کو محض غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بیانات جاری کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ تمام سیاحتی مقامات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، غیرقانونی عمارتوں کی نشاندہی کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور مستقبل میں کسی بھی تعمیراتی منصوبے کی منظوری ماحولیاتی اصولوں کو مدنظر رکھ کر دی جائے۔ عدالت عالیہ کے احکامات پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔

            بلاشبہ سیاحت کشمیر کی معیشت کا اہم ستون ہے۔ اس شعبے کی ترقی، بہتر سہولیات کی فراہمی اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کھلی جگہ پر ہوٹل یا تجارتی عمارت تعمیر کر دی جائے۔ سیاحت کو فروغ دینے اور ماحول کو محفوظ رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مقامی آبادی، ہوٹل مالکان اور سیاحت سے وابستہ تمام افراد کو بھی اس ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔

            کشمیر کی خوبصورتی کوئی ایسی چیز نہیں جسے تباہ کرنے کے بعد دولت خرچ کرکے دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔ پہلگام، گلمرگ اور سونہ مرگ کی اصل کشش ان کے قدرتی مناظر ہیں، نہ کہ وہاں کھڑی ہونے والی عمارتیں۔ اگر آج ان مقامات کو بے ہنگم تعمیرات سے محفوظ نہ رکھا گیا تو آنے والے برسوں میں کشمیر اپنی وہ منفرد شناخت کھو سکتا ہے جس نے اسے دنیا بھر میں ایک ممتاز سیاحتی مقام بنایا ہے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے کشمیر کا قدرتی ورثہ محفوظ رکھنا ہے یا اسے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوتے دیکھنا ہے۔ اس فیصلے میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔

۔۔۔۔۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

رات کے درجۂ حرارت میں  مزید کمی‘سری نگر میں درجۂ حرارت۳ ڈگری تک پہنچ گیا

Next Post

عمرعبداللہ کا ہنی مون …….

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پن بجلی منصوبوں پر عدالتی فیصلہ

2026-10-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

کابینہ کی توسیع اور ناراضگیوں کا امتحان

2026-10-28
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

کابینہ میں توسیع اور رد و بدل: عوامی توقعات پر پورا اترنے کا امتحان

2026-10-27
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

اونتی پورہ ایمز کی فعالیت: وادی کے طبی نظام میں بہتری کی ایک نئی امید

2026-10-25
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرما سے پہلے بجلی بحران کی دستک

2026-10-24
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

میڈیکل انٹرنز کے وظیفے میں اضافہ، ایک مستحسن فیصلہ

2026-10-22
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جموں کشمیر پراو آئی سی کا دوہرا معیار

2026-10-21
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

ہریانہ میںکشمیر کی مسافر گاڑی پرپتھراؤ: واقعہ کی تہہ تک جانے کی ضرور ہے 

2026-10-20
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

عمرعبداللہ کا ہنی مون .......

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.