جمعہ, اکتوبر 30, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home قومی خبریں

سمندری طوفان ارنب کمزور پڑا، ایک اور طوفان آنے کا خدشہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-30
in قومی خبریں
A A
سمندری طوفان ارنب کمزور پڑا، ایک اور طوفان آنے کا خدشہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

دہلی میں بچہ مزدوری کے خلاف بڑی کارروائی، 19 بچے آزاد، 9 فیکٹری مالکان گرفتار، متعلقہ فیکٹریاں سیل

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ میں این آئی ای پی اے کا اہم کردار: پرہلاد جوشی

نئی دہلی، 29 اکتوبر (یواین آئی) سمندری طوفان ارنب جمعرات کی علی الصبح جنوبی چھتیس گڑھ اور اس سے متصل جنوبی اڈیشہ کے علاقوں میں مزید کمزور ہو کر صرف دباؤ کے حلقہ میں تبدیل ہو گیا۔
اس سے قبل بدھ کی نصف شب کے آس پاس یہ شمالی ساحلی آندھرا پردیش، جنوبی اڈیشہ، جنوبی چھتیس گڑھ اور شمال مشرقی تلنگانہ کے ملحقہ علاقوں میں کمزور ہو کر گہرے دباؤ کے حلقہ میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی اس کی شدت میں کمی آئی تھی اور شمال سے شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے یہ بدھ کی شام کمزور ہو کر سمندری طوفان کی شکل اختیار کر گیا تھا۔
ماہرین موسمیات کے مطابق، اس موسمی نظام کے شمال کی جانب بڑھتے رہنے اور 29 اکتوبر کی شام تک شمالی چھتیس گڑھ اور اس سے متصل شمال مغربی اڈیشہ کے اوپر واضح کم دباؤ کے حلقہ میں تبدیل ہو کر مزید کمزور پڑنے کا قوی امکان ہے۔ رائے پور میں واقع ڈوپلر ویدر ریڈار کے ذریعے اس پورے نظام پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، جمعرات کو یہ طوفان جگدل پور (چھتیس گڑھ) سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال شمال مغرب، ٹٹلا گڑھ (اڈیشہ) سے 180 کلومیٹر جنوب مغرب، بھوانی پٹنا (اڈیشہ) سے 150 کلومیٹر مغرب جنوب مغرب، رائے پور سے 200 کلومیٹر جنوب اور سمبل پور سے 310 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔
سمندری طوفان ارنب کی تباہ کاریوں سے سنبھلنے کی کوشش کر رہی ساحلی ریاستوں، بالخصوص آندھرا پردیش، پر اب ایک اور موسمی نظام کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق، جنوبی انڈمان سمندر اور اس سے متصل علاقوں میں موجود گردابی ہواؤں کے زیر اثر جمعرات کی صبح ساڑھے پانچ بجے اسی علاقے میں کم دباؤ کا ایک حلقہ بن گیا۔ امکان ہے کہ یہ موسمی نظام مغرب شمال مغرب کی سمت بڑھے گا اور 31 اکتوبر کے آس پاس جنوب مشرقی خلیج بنگال، انڈمان و نکوبار جزائر اور انڈمان سمندر سے متصل علاقوں میں کم دباؤ کے حلقہ میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس کے بعد دباؤ میں مزید شدت آنے اور اگلے دو دنوں کے دوران مغرب شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے آندھرا پردیش کے ساحل کی طرف جانے کا امکان ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شمالی آندھرا پردیش، شمال مشرقی تلنگانہ، چھتیس گڑھ، اڈیشہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں بڑے پیمانے پر بارش ریکارڈ کی گئی۔ جنوبی اڈیشہ اور شمالی آندھرا پردیش کے بعض مقامات پر انتہائی شدید بارش ہوئی، جہاں 21 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ بارش درج کی گئی۔
خصوصی طور پر جنوبی اڈیشہ میں موسلادھار بارش ہوئی۔ گنجام ضلع کے پاتراپور میں سب سے زیادہ 546 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ گنجام کے سورڑا میں 503 ملی میٹر، کندھمال کے جی۔ ادے گیری میں 462 ملی میٹر، گجپتی کے مہندر گڑھ میں 458 ملی میٹر، گنجام کے سناکھیمونڈی میں 388 ملی میٹر اور چکیٹی میں 309 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔
محکمہ موسمیات نے مختلف ریاستوں کے لیے انتباہات اور الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ کو جھارکھنڈ میں بعض مقامات پر شدید بارش ہو سکتی ہے۔ بہار کے چند اضلاع میں کہیں کہیں انتہائی شدید بارش کا امکان ہے، جبکہ مغربی بنگال اور سکم میں بہت شدید بارش ہو سکتی ہے۔ شمال مشرقی اتر پردیش، ودربھ کے شمال مشرقی اضلاع اور مشرقی مدھیہ پردیش میں بھی بعض مقامات پر شدید بارش کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
چھتیس گڑھ کے شمالی اور جنوبی اضلاع، جن میں سرگوجا، جس پور، کوریا، منیندر گڑھ-چرمری-بھرت پور، سورج پور، بلرام پور، گوریلا-پینڈرا-مروہی، بلاس پور، رائے گڑھ، سارنگڑھ-بلائی گڑھ، شکتی، منگیلی، کوربا، جانجگیر، رائے پور، بلودا بازار اور مہاسمند شامل ہیں، میں 45 سے 55 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواؤں کی رفتار بڑھ کر 65 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
اڈیشہ میں سمندری طوفان ‘ارنب’ کے زیر اثر مسلسل موسلادھار بارش کے باعث سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ گنجام اور گجپتی اضلاع سے اب تک 32 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ریاستی حکومت نے راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔
چیف سکریٹری انو گرگ نے صورت حال کا جائزہ لیا اور افسران کو ہدایت دی کہ متاثرہ افراد کی حفاظت کے لیے کوششیں تیز کی جائیں اور انہیں بروقت ضروری امداد پہنچائی جائے۔ محترمہ گرگ نے بتایا کہ گنجام کے بعض علاقوں میں صورت حال اب بھی کافی تشویش ناک ہے، جہاں 70 گاؤں کے 2,328 افراد اب تک سیلابی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ بعض مقامات پر پانی کا بہاؤ اتنا تیز ہے کہ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) اور اڈیشہ ڈیزاسٹر ریپڈ ایکشن فورس (ڈی آر اے ایف) کی ٹیمیں وہاں پھنسے ہوئے لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، اڈیشہ کے گنجام ضلع کے 22 بلاکوں میں 208 گرام پنچایتوں کے تحت آنے والے 299 گاؤں بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جبکہ گجپتی ضلع کے 7 بلاکوں میں 110 گرام پنچایتوں کے تحت آنے والے 711 گاؤں بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوئے ہیں۔ گنجام ضلع میں تقریباً 42 ہزار 500 افراد اور گجپتی ضلع میں لگ بھگ 20 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے گنجام سے 11 ہزار 882 اور گجپتی سے 17 ہزار 441 افراد کو بحفاظت نکال کر سمندری طوفان اور سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے قائم امدادی مراکز میں ٹھہرایا ہے۔
گنجام ضلع میں بہودا ندی کی سطح آب میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس کے پیش نظر ایسٹ کوسٹ ریلوے (ای سی او آر) نے حفاظتی اقدامات کے تحت 9 ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں، جبکہ 14 دیگر ٹرینوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہاوڑہ-چنئی روٹ پر ریل خدمات متاثر ہوئی ہیں۔
تقریباً 550 ملی میٹر شدید بارش کے بعد بہودا ندی پر واقع بگھلاتی ڈیم میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ اِچّھاپورم اور جھاڑوپڑی کے درمیان ریلوے پل کے مقام پر بھی پانی کی سطح خطرے کے نشان سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے بعد ریلوے انتظامیہ نے مسافروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ موجودہ صورت حال کے پیش نظر کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے ای سی او آر نے کئی ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں اور بعض کے راستے تبدیل کر دیے ہیں۔ ریلوے حکام پانی کی سطح اور مجموعی صورت حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پانی کی سطح کم ہونے اور متاثرہ حصے کو ٹرینوں کی آمد و رفت کے لیے محفوظ قرار دیے جانے کے بعد ریل خدمات دوبارہ بحال کی جائیں گی۔ ای سی او آر کے ذرائع کے مطابق، 29 اکتوبر کو 9 ٹرینیں منسوخ کی گئی ہیں، جبکہ ٹرین نمبر 18448 جگدل پور-بھونیشور ہیر اکھنڈ ایکسپریس کو 30 اکتوبر کے لیے منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

دہلی میں بچہ مزدوری کے خلاف بڑی کارروائی، 19 بچے آزاد، 9 فیکٹری مالکان گرفتار، متعلقہ فیکٹریاں سیل

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

دہلی میں بچہ مزدوری کے خلاف بڑی کارروائی، 19 بچے آزاد، 9 فیکٹری مالکان گرفتار، متعلقہ فیکٹریاں سیل
قومی خبریں

دہلی میں بچہ مزدوری کے خلاف بڑی کارروائی، 19 بچے آزاد، 9 فیکٹری مالکان گرفتار، متعلقہ فیکٹریاں سیل

2026-10-30
قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ میں این آئی ای پی اے کا اہم کردار: پرہلاد جوشی
قومی خبریں

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ میں این آئی ای پی اے کا اہم کردار: پرہلاد جوشی

2026-10-30
انڈیا اتحاد کی ریلی سے پہلے کھرگے کی رہائش گاہ پر میٹنگ
قومی خبریں

انڈیا اتحاد کی ریلی سے پہلے کھرگے کی رہائش گاہ پر میٹنگ

2026-10-30
سوالمبن-2026 میں دفاعی شعبے میں خود انحصاری اور نئی ٹیکنالوجی پر زور
قومی خبریں

سوالمبن-2026 میں دفاعی شعبے میں خود انحصاری اور نئی ٹیکنالوجی پر زور

2026-10-30
قومی خبریں

ساحلی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ

2026-10-30
قومی خبریں

آئی پیک کے احاطے میں تلاشی کا معاملہ: ممتا بنرجی کے خلاف ای ڈی کی عرضی پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا

2026-10-30
قومی خبریں

لیفٹیننٹ جنرل شکلا کے نام سے وائرل ویڈیو جعلی: فوج

2026-10-30
رادھا کرشنن نے روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات کی، برکس ممالک کے پارلیمانی وفود کے لیے ظہرانے کا اہتمام
قومی خبریں

رادھا کرشنن نے روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات کی، برکس ممالک کے پارلیمانی وفود کے لیے ظہرانے کا اہتمام

2026-10-28

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.