نئی دہلی، 29 اکتوبر (یواین آئی) وزیر تعلیم پرہلاد جوشی نے کہا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)-2020 کے نفاذ کی نگرانی میں قومی ادارہ برائے تعلیمی منصوبہ بندی و انتظام (این آئی ای پی اے) کا کردار اہم ہے۔
مسٹر جوشی نے جمعرات کو یہاں قومی ادارہ برائے تعلیمی منصوبہ بندی و انتظام (این آئی ای پی اے) کی نئی تعلیمی عمارت اور مرکزی داخلی دروازے کا افتتاح کرنے کے بعد کہا کہ نئی عمارت سے ادارے کی قومی اور بین الاقوامی سرگرمیوں کو وسعت ملے گی اور اس کی تعلیمی و تحقیقی صلاحیتوں کو تقویت حاصل ہوگی۔ ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اہم کاموں کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح فرائض کی انجام دہی کے لیے صحت مند جسم ضروری ہے، اسی طرح اداروں کے بہتر کام کاج کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچہ بھی لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی عمارت این آئی ای پی اے کی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگی اور اس سمت میں کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر تعلیم نے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)-2020 کے نفاذ کی نگرانی میں این آئی ای پی اے کے کردار کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کو پالیسی کے نفاذ کے دوران پیش آنے والے چیلنجوں کی نشاندہی کرنی چاہیے اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر ان کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ رٹ کر سیکھنے کے بجائے مضامین کے بنیادی تصورات کو سمجھنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے پی ایم ودیا لکشمی اسکیم کے تحت 60 ہزار کروڑ روپے کے سافٹ لون کی سہولت اور سویم اور دیکشا جیسے ڈیجیٹل تعلیمی پلیٹ فارموں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سویم نے ملک بھر کے طلبہ کو معیاری ڈیجیٹل تعلیم اور مطالعاتی مواد تک رسائی فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔
مسٹر جوشی نے کہا کہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور متعلقہ مہارتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ قومی اور عالمی ضروریات کو پورا کرنے کے اہل بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان بھارت کو عالمی فلاح و بہبود میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں گے۔







