یروشلم، 27 اکتوبر (یو این آئی) اسرائیل میں منگل کی دوپہر تک ووٹنگ کی شرح چار دہائیوں سے زیادہ عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ لاکھوں ووٹروں نے ایک سخت مقابلے والے انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا، جن کے نتائج وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے تک 44.9 فیصد اہل ووٹر اپنا ووٹ ڈال چکے تھے۔ 1973 کے بعد اس وقت تک ریکارڈ کی گئی یہ سب سے زیادہ شرح ہے۔ کمیٹی نے بتایا کہ تقریباً 73 لاکھ اہل ووٹروں میں سے 32 لاکھ 90 ہزار 480 افراد ووٹ ڈال چکے تھے۔
ووٹنگ میں اضافے سے چھوٹی جماعتوں کے لیے اسرائیل میں انتخابی حد عبور کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ کنیسٹ کی 120 نشستوں میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیے کسی جماعت کو کم از کم 3.25 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ مجموعی ووٹنگ بڑھنے کے ساتھ اس حد کو عبور کرنے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔
فوج کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے اہلکاروں میں بھی ووٹنگ کی شرح بڑھی ہے اور دوپہر ایک بجے تک یہ 48 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 2022 کے انتخابات میں اسی وقت یہ شرح 44.4 فیصد تھی۔
جمعہ کو شائع ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ کسی بھی رہنما کے سیاسی اتحاد کو پارلیمانی اکثریت کے لیے درکار 61 نشستیں ملنے کا اندازہ نہیں لگایا گیا، جس سے حکومت سازی کے لیے طویل مذاکرات کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
انتخابی مہم میں سلامتی، جمہوری اداروں اور نیتن یاہو کی قیادت سے متعلق خدشات نمایاں رہے۔ منگل کی صبح کئی جماعتوں نے پولنگ اسٹیشنوں پر مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات کیں، تاہم مرکزی انتخابی کمیٹی نے کہا کہ بیلٹ پیپرز میں منظم طریقے سے ردوبدل کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
نئی تشکیل شدہ یاشر پارٹی کے رہنما آئزن کوٹ نام نہاد ‘تبدیلی بلاک’ کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس میں مختلف نظریات رکھنے والی وہ جماعتیں شامل ہیں جو نیتن یاہو کو اقتدار میں برقرار رکھنے کی مخالف ہیں۔ اس اتحاد میں سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور ایوگدور لائبرمین بھی شامل ہیں، جو دائیں بازو کے سیاست دان ہیں اور سلامتی کے معاملے پر سخت موقف رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سابق جنرل یائیر گولان بھی اس بلاک کا حصہ ہیں۔
1996 میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم بننے والے نیتن یاہو اس بار انتہائی دائیں بازو اور الٹرا آرتھوڈوکس یہودی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ان کی موجودہ حکومت کا حصہ ہیں۔
اپوزیشن کی انتخابی مہم میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں سے قبل سلامتی کے شعبے میں ہونے والی ناکامیوں کو خاص اہمیت دی گئی۔ ان حملوں میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا تھا۔
اپوزیشن رہنماؤں نے ان واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کی نیتن یاہو مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی تحقیقات ان کے خلاف جانبدارانہ ہوں گی۔





