نئی دہلی، 24 اکتوبر (یواین آئی) ہندوستانی مکّے بازی فیڈریشن کے صدر اجے سنگھ کے خلاف مخالفت کی آوازیں تیز ہوگئی ہیں۔ ہندوستانی باکسنگ کے مستقبل کے تحفظ اور کھیل میں شفافیت و جواب دہی یقینی بنانے کے لیے اولمپین، ارجن ایوارڈ یافتہ، دروناچاریہ ایوارڈ یافتہ، سینئر کوچ، سابق بین الاقوامی مکّے باز اور کھیل سے وابستہ اہم شخصیات نے ہفتہ کو نئی دہلی کے میجر دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم میں اجلاس کرکے فیڈریشن کے کام کاج، انتظامی نظام اور ہندوستانی باکسنگ کی مستقبل کی سمت پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے فیڈریشن میں اتحاد بحال کرنے، کھلاڑیوں کے مفادات کو اولین ترجیح دینے اور ملک میں باکسنگ کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔
پریس کانفرنس سے ارجن ایوارڈ یافتہ اور سینئر کوچ راج کمار سنگوان، دروناچاریہ ایوارڈ یافتہ ایس آر سنگھ، انوپ سنگھ، جے پال سنگھ سمیت دیگر کوچز اور ارجن ایوارڈ یافتہ مکّے باز منوج کمار، دھیال اور دیگر کھیل شخصیات نے خطاب کیا۔ پروگرام کے اختتام پر باکسنگ فیڈریشن آف انڈیا کے جنرل سکریٹری پرمود کمار نے ہندوستانی باکسنگ کے مستقبل، کھلاڑیوں کے مسائل اور کھیل کی ترقی کے لیے ضروری اصلاحات پر اپنے خیالات پیش کیے۔
پرمود کمار نے کہا کہ فیڈریشن میں سکریٹری کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے انہیں کئی انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم انہوں نے نچلی سطح پر باکسنگ کو فروغ دینے، نوجوان صلاحیتوں کو مواقع فراہم کرنے اور کھلاڑیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کھلاڑی رہے ہیں اور ہمیشہ کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے اور پوری توجہ ہندوستانی باکسنگ کے مستقبل پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے انتظامی رابطے اور کام کاج کے طریقہ کار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی ایف آئی صدر سے ملاقات اور ای میل کے ذریعے مسائل اٹھانے کی بارہا کوششوں کے باوجود انہیں اطمینان بخش حل نہیں ملا۔ انہوں نے باکسنگ مقابلوں کے لیے اسپانسرز کی کمی کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنے اور مقابلوں کے انعقاد میں ہندوستانی اسپورٹس اتھارٹی (سائی) اور مرکزی حکومت کے تعاون کی ستائش کی۔
پرمود کمار نے نچلی سطح پر کھیل کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اتر پردیش میں انڈر-12 باکسنگ کو فروغ دینے اور کم عمر کھلاڑیوں کے رجسٹریشن کی پہل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کھیل میں بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی تیار کرنے کے لیے ابتدا ہی سے صلاحیتوں کی شناخت کرکے انہیں مناسب تربیت اور مسابقتی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نچلی سطح پر کام نہیں کیا جائے گا اور چیمپئن شپ منعقد نہیں ہوں گی تو باکسنگ کی ترقی کیسے ہوگی۔
انہوں نے اتر پردیش میں باکسنگ مقابلوں کے انعقاد اور کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے درپیش مالی و تنظیمی چیلنجز کے باوجود کی گئی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ باکسنگ سے متعلق سرگرمیوں اور مقابلوں پر انہوں نے اپنے ذاتی وسائل سے تقریباً 21 سے 22 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔
کھیل شخصیات نے ہندوستانی باکسنگ کی ترقی کے لیے واضح، قابل پیمائش اور وقت مقررہ قومی منصوبہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس میں نچلی سطح کی تربیت، ضلع و ریاستی سطح کے مقابلے، قومی چیمپئن شپ، ٹیلنٹ کی شناخت، کوچنگ، اسپورٹس سائنس اور بین الاقوامی مقابلوں کی تیاری کو شامل کرنے کی بات کہی گئی۔ انہوں نے بی ایف آئی سے سالانہ مقابلوں کا کیلنڈر عوامی کرنے اور ریفری، جج و دیگر تکنیکی عہدیداروں کی تقرری اہلیت، تجربے اور کارکردگی کی بنیاد پر شفاف طریقے سے کرنے کا مطالبہ کیا۔
قومی کیمپوں اور بین الاقوامی مقابلوں کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب کے معیار بھی واضح اور سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔ قومی کوچز کی تقرری اور غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کرنے کا عمل بھی شفاف ہونا چاہیے اور اس کا مقصد ہندوستانی باکسنگ کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے۔
پریس کانفرنس میں ہندوستانی کوچز کے تجربے اور خدمات کو مناسب احترام دینے پر بھی زور دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ ملک کے متعدد کوچز نے عالمی چیمپئن، ایشیائی چیمپئن اور بین الاقوامی تمغہ فاتح مکّے باز تیار کیے ہیں اور ان میں سے کئی کو دروناچاریہ اور ارجن ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی تربیتی کیمپوں، ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ پروگراموں اور بین الاقوامی مقابلوں کی تیاری میں ہندوستانی کوچز کو اہم کردار دیا جائے۔ غیر ملکی کوچز کی تقرری ہندوستانی کوچنگ صلاحیت کا متبادل بننے کے بجائے اسے مزید مضبوط کرنے کے مقصد سے ہونی چاہیے۔
پریس کانفرنس میں باکسنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر اجے سنگھ کے خلاف پیش کیے گئے عدم اعتماد کی قرارداد کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ کھیل شخصیات نے مطالبہ کیا کہ 28 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں ہونے والے خصوصی عام اجلاس میں عدم اعتماد کی قرارداد پر غیر جانب دارانہ غور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کی کارروائی فیڈریشن کے نافذ آئین اور قواعد کے مطابق ہونی چاہیے اور تمام مجاز ارکان کو بغیر کسی خوف، دباؤ یا غیر مناسب مداخلت کے اپنی رائے رکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
پریس کانفرنس میں موجود کھیل شخصیات نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر برائے نوجوانوں کے امور و کھیل منسکھ مانڈویا سے معاملے میں اٹھائی گئی تشویش پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے وزارت نوجوانوں کے امور و کھیل، ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) اور ورلڈ باکسنگ سے بھی ان خدشات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے اور فیڈریشن میں شفاف و آئین کے مطابق انتظام یقینی بنانے میں تعاون کی اپیل کی۔
کھیل شخصیات نے کہا کہ ہندوستانی باکسنگ کو آگے بڑھانے کے لیے کسی ایک شخص یا گروپ کے بجائے کھلاڑیوں، کوچز، ریاستی ایسوسی ایشنز اور تجربہ کار کھیل منتظمین کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ شفافیت، غیر جانب داری اور کھلاڑیوں و رکن ایسوسی ایشنز کے جائز مفادات کو متاثر کرنے والے کسی بھی طریقہ کار سے گریز کیا جانا چاہیے۔



