پیرس، 13 اکتوبر (یو این آئی) سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شامل ہوگئی ہیں۔ ملک بھر میں تعلیمی اداروں کے حالات بہتر بنانے کے مطالبے پر مزید مظاہروں کی توقع ہے۔
تھنبرگ منگل کی صبح پیرس کے مضافاتی علاقے سینٹ ڈینس میں واقع پال ایلوار ہائی اسکول پہنچیں، جہاں احتجاجی تحریک کا مرکز ہے۔ انہوں نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے تھنبرگ نے کہا، نوجوانوں کو بات چیت میں شامل نہیں کیا جا رہا۔ ہمارا مستقبل ہم سے چھینا جا رہا ہے۔
مظاہروں کے دوران پولیس کی جانب سے تشدد کے متعدد الزامات کے بعد وکلا نے بھی طلبہ کے تحفظ کے لیے انسانی زنجیر بنائی۔ مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ کے اواخر میں ہوا تھا۔ طلبہ اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں، اساتذہ کی کمی، کلاسوں میں طلبہ کی بھیڑ اور تعلیمی نظام کے دیگر مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ملک بھر کے سیکڑوں اسکولوں کے باہر طلبہ نے کچرے کے ڈبے جمع کرکے اور حفاظتی رکاوٹیں کھڑی کرکے احتجاج کیا ہے۔ گزشتہ جمعرات کو بڑے مظاہروں کے دوران 70 ہزار سے زیادہ افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
منگل کے مظاہرے کو مزدور یونینوں اور بائیں بازو کی جماعت فرانس اَن بو کی حمایت حاصل ہے۔ اس موقع پر پیرس سمیت متعدد شہروں میں مارچ کیے جانے کی توقع ہے۔ یونیورسٹی طلبہ کی یونین لیونیوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ہ ہماری بات نہیں سن رہے، اس لیے اب ہم خود ان کے پاس جا رہے ہیں۔
وزیر تعلیم ایڈوار ژفری نے منگل کی صبح فرانس اَینٹر ریڈیو سے گفتگو میں بتایا کہ تقریباً 200 اسکول بند ہیں، تاہم یہ تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اسکول مظاہروں کے راستوں کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے بند کیے گئے ہیں۔
وزارتِ قومی تعلیم کے مطابق، پیر کو مظاہروں کے دوران تدریسی عملے کے آٹھ ارکان زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر پیرس کے علاقے اور بورڈو اور لیون شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔
پیرس میں گرافک ڈیزائن کے 19 سالہ طالب علم لیو نے اے ایف پی کو بتایا کہ طلبہ کی بات مناسب طور پر نہیں سنی جا رہی اور حکام و منتخب نمائندوں کے سامنے ان کی تجاویز کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین، جن میں بڑی تعداد نابالغ طلبہ کی ہے، طلبہ تحریک کے خلاف اس قدر سخت کارروائیوں سے پریشان ہیں۔
طلبہ کی حمایت میں منگل کو ہونے والے مظاہروں کے بعد ہفتے کے روز مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے خلاف وسیع عوامی احتجاج متوقع ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کو ایک موٹر شو کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ تحمل سے کام لیں۔ انہوں نے کہا، ”یہ ایسے مسائل ہیں جن پر وقت، مشاورت، گفتگو اور باہمی احترام کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔”
وزارتِ انصاف کے مطابق، مظاہروں کے دوران اب تک 6,800 سے زیادہ افراد، جن میں زیادہ تر نابالغ ہیں، کو پولیس حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پولیس نے مظاہرین کے ساتھ مبینہ تشدد کے 24 واقعات کی تحقیقات بھی شروع کی ہیں۔







