واشنگٹن، 13 اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ روس اور چین، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ایران کی مدد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو اور بیجنگ اس تنازع میں ملوث ہو کر بہت کچھ داؤ پر لگانے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا، میں شدت پسند بائیں بازو کے احمقوں اور جنونیوں کے ایسے بہت سے تبصرے دیکھ رہا ہوں جن میں کہا جا رہا ہے کہ چین اور روس شاندار اسلامی جمہوریہ ایران کی مدد کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، اگر وہ ایسا کر بھی رہے ہیں تو بہت محدود سطح پر، لیکن مجھے بالکل یقین نہیں کہ وہ ایسا کر رہے ہیں۔ انہیں بہت کچھ کھونا پڑے گا اور ہمیں اس کا علم ہو جائے گا، وہ بھی بہت جلد۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے اور آبنائے ہرمز اس تنازع کا نیا مرکز بن کر ابھری ہے۔ اس دوران واشنگٹن، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سفارتی رابطے بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
آٹھ اکتوبر کو ترکمانستان میں پوتن کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات اور روسی صدر کے اس بیان سے کہ ماسکو جاری تنازع کے حل کے لیے اپنی بساط بھر کوشش کرنے کو تیار ہے، یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ روس تہران کی مدد کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ ٹرمپ نے جولائی میں ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ شی جن پنگ نے مئی میں چین میں ملاقات کے دوران انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ بیجنگ کسی بھی صورت ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا، حتیٰ کہ چینی کمپنیوں کے ذریعے بھی نہیں۔ ٹرمپ کے مطابق پوتن نے بھی انہیں بتایا تھا کہ روس تہران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔
اس وقت ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک اس تنازع میں ملوث ہوئے تو اس کے لیے انہیں ”بہت بھاری قیمت” چکانا پڑے گی۔
امریکہ ماضی میں چینی اداروں پر ایران کے فوجی خریداری کے نیٹ ورک کی معاونت کا الزام عائد کر چکا ہے۔ مئی میں ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایران کی مدد کی، جس میں مبینہ طور پر امریکی فوجی اہداف کی نشاندہی کے لیے استعمال ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر کی فراہمی بھی شامل تھی۔ بیجنگ نے چینی اداروں کی جانب سے ایران کی فوجی مدد کے الزامات کی تردید کی ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے پوتن سے ٹیلی فون پر بھی بات کی تھی، جس میں توانائی کی فراہمی، اقتصادی تعاون اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال ہوا۔ روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق یہ گفتگو تقریباً 90 منٹ جاری رہی اور نہایت سنجیدہ و دوستانہ تھی۔
گفتگو کے بعد ٹرمپ نے ایک مجوزہ انتظام کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت روس فوری طور پر تین لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل ایندھن امریکی اور عالمی منڈیوں کو فراہم کرے گا، جبکہ آئندہ مہینوں میں مزید ترسیل کی جائے گی۔
ٹرمپ کی پوسٹ کے مطابق روس نومبر میں مزید پانچ لاکھ ٹن اور اس کے بعد مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ مختصر مدت میں 30 لاکھ ٹن کی اضافی ترسیل کا منصوبہ بھی ہے، تاہم اس کا انحصار روسی ڈیزل ریفائنریوں کی صورت حال پر ہوگا۔
ٹرمپ نے ان مجوزہ ترسیلات کو توانائی کی قیمتوں میں کمی سے جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اور دنیا بھر میں ڈیزل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔
چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ٹرمپ کے رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب واشنگٹن اور بیجنگ تجارتی اور اقتصادی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ایک حقائق پر مبنی دستاویز کے مطابق، ستمبر میں شی کے تین روزہ دورۂ واشنگٹن کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو 30 ارب ڈالر مالیت کی غیر حساس اشیا پر نسبتاً سازگار ٹیرف دینے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
یہ سفارتی سرگرمیاں 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے پس منظر میں جاری ہیں۔ تہران نے جواب میں خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں خلل نے عالمی توانائی کی فراہمی کے ایک اہم راستے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد جون میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد بھی اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے۔ ان اختلافات میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کا معاملہ بھی شامل ہے۔







