اتوار, اکتوبر 11, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

جموں کشمیر عالمی صلاحیتی مراکز کے قیام کیلئےتیار

سنہا کاجے اینڈ کے گلوبل کیپبلیٹی سینٹرز کے اختتامی اجلاس سے خطاب؛ کہا  یو ٹی اگلی دہائی میں صنعتی نظام کا اہم حصہ بن سکتی ہے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-11
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
زوجیلا سرنگ کی آخری ۲ء۵میٹر کی رکاوٹ بھی ختم، کشمیر اور لداخ سرنگ کے ذریعے جڑ گئے
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

نوجوانوں کی صلاحیت، بہتر بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور اختراعی ماحول کو خطے کی اہم طاقت قرار دیا

سرینگر۱۰؍ اکتوبر

                لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر عالمی صلاحیتی مراکز (گلوبل کیپبلیٹی سینٹرز) کے قیام کے لیے پوری طرح تیار ہے اور انہیں مکمل یقین ہے کہ اگلے دس برسوں میں یہ مراکز جموں و کشمیر کے صنعتی نظام کا ایک اہم حصہ بن سکتے ہیں۔

                لیفٹیننٹ گورنر آج جموں و کشمیر گلوبل کیپبلیٹی سینٹرز سربراہ اجلاس۲۰۲۶ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیت، بنیادی ڈھانچے میں بہتری، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور فروغ پاتے اختراعی ماحول کے باعث جموں و کشمیر عالمی صلاحیتی مراکز کے لیے ایک اہم منزل کے طور پر ابھرنے کی پوزیشن میں ہے۔

متعلقہ

وزیر اعلیٰ کی امتحانات سے آگے بڑھ کر مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی وکالت

’جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے‘

                دو روزہ سربراہ اجلاس کے کامیاب انعقاد پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) جموں، ناسکام، معاون اداروں اور انتظامیہ کو مبارک باد دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس اہم سوال پر غور کریں کہ اپنی اگلی افرادی قوت، اختراعی مرکز اور صلاحیتی توسیع کے لیے جگہ تلاش کرنے والی کمپنیوں کو جموں و کشمیر کا انتخاب کیوں کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس مقصد کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اجتماعی عزم کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

                دنیا کے بلند ترین ریلوے محرابی پل، جو دریائے چناب پر تعمیر کیا گیا ہے، کی مثال دیتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر آج بڑے اور انقلابی اہداف حاصل کرنے کے لیے درکار اعتماد اور بلند حوصلوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چناب دریا خود چندر اور بھاگا ندیوں کے سنگم سے وجود میں آتا ہے، جو باہمی تعاون کی علامت ہے۔

                ان کے مطابق، اسی طرح عالمی صلاحیتی مراکز کثیرالقومی کمپنیوں کی عالمی مہارت، سرمایہ اور ٹیکنالوجی کو جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی صلاحیتوں، امنگوں اور تخلیقی سوچ کے ساتھ جوڑتے ہیں، جس سے ترقی اور اختراع کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

                لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’میں عالمی صلاحیتی مراکز کو بھی اسی حوصلے اور سنگم کی روح کے ساتھ دیکھتا ہوں۔ یہ مراکز مل کر ایسی طاقت پیدا کر سکتے ہیں جو ان کی انفرادی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہوگی۔‘‘

                سنہا نے بتایا کہ بھارت میں اس وقت۲۱۰۰ سے زیادہ عالمی صلاحیتی مراکز کام کر رہے ہیں، جن میں۱۹ لاکھ سے زائد پیشہ ور افراد ملازمت کرتے ہیں اور یہ مراکز ملک کی برآمدات میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب زیادہ سے زیادہ مراکز بڑے شہروں سے نکل کر دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں بھی قائم ہو رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں باصلاحیت افرادی قوت ملک کے مختلف حصوں میں دستیاب ہے۔

                ان کے مطابق، یہ صورت حال جموں و کشمیر کے لیے ایک بڑا موقع بھی ہے اور ذمہ داری بھی، تاکہ وہ اپنے اداروں، بنیادی ڈھانچے اور اختراعی نظام کو مزید مضبوط بنائے۔

                عالمی صلاحیتی مراکز کے مستقبل کے حوالے سے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس شعبے کا سفر اب صرف کم لاگت پر کام کرنے سے آگے بڑھ کر اعلیٰ معیار، مہارت اور صلاحیت کے فروغ تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ جموں و کشمیر محض صلاحیتی مراکز کے قیام کی منزل بننے کے بجائے خطے سے جنم لینے والی منفرد عالمی اختراعات کا مرکز بھی بن سکتا ہے۔

                 سنہا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں اور بہتر رابطہ سہولیات سے صنعتی سرمایہ کاری میں اضافے اور نئے کاروباری اداروں کے فروغ کو تقویت مل رہی ہے۔

                ایل جی نے کہا، ’’جموں ڈویژن کے بعض حصوں اور وادی کشمیر میں آج جو صنعتی انقلاب دیکھنے کو مل رہا ہے، وہ نئے جموں و کشمیر کی زندہ مثال ہے۔۲۰۲۰ میں یہاں صرف۶۹ نئے کاروباری ادارے تھے، جبکہ اب ان کی تعداد بڑھ کر۱۳۰۵ ہو گئی ہے، جو۱۸۰۰ فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ جب ان اعداد و شمار میں آئی آئی ایم جموں، آئی آئی ٹی جموں، این آئی ٹی سرینگر اور جموں و کشمیر کی دیگر جامعات سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کی توانائی اور بلند عزائم کو شامل کیا جائے تو ایک تیار افرادی قوت ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے۔‘‘

                لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کو عالمی صلاحیتی مراکز کے لیے ایک پُرکشش منزل بنانے والے چھ اہم فوائد کی نشاندہی کی۔ ان میں مضبوط مالی معاونت، کم عملی اخراجات، ابتدائی طور پر سرمایہ کاری کرنے والی کثیرالقومی کمپنیوں کے لیے خصوصی مراعات، مقامی باصلاحیت افراد کی واپسی، ابتدائی طور پر مراکز قائم کرنے والی کمپنیوں کے لیے پیش قدمی کا فائدہ اور مخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع شامل ہیں۔

                ایل جی نے کہا کہ زرعی ٹیکنالوجی، سیاحت سے متعلق ٹیکنالوجی اور کشمیری دستکاری کو ڈیجیٹل شکل دینے جیسے شعبے عالمی صلاحیتی مراکز کے لیے منفرد مواقع فراہم کرتے ہیں۔

اگلے پانچ برسوں کے لیے چار ستونوں پر مشتمل لائحہ عمل پیش کرتے ہوئے منوج سنہا نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے، قابلِ اعتماد عمل درآمد کے ذریعے اعتماد قائم کرنے، جموں و کشمیر کے منفرد جغرافیائی اور معاشی فوائد سے استفادہ کرنے اور مرکز و ذیلی مراکز پر مبنی ترقیاتی ماڈل کے ذریعے جامع ترقی کو فروغ دینے پر زور دیا۔

                جموں و کشمیر کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ عالمی صلاحیتی مراکز اگلی دہائی میں خطے کے صنعتی نظام کا ایک لازمی ستون بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سربراہ اجلاس کے دوران رکھی گئی بنیاد ایک نئے، بلند عزائم رکھنے والے اور اختراعات پر مبنی جموں و کشمیر کی تعمیر میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جو دنیا بھر سے عالمی صلاحیتی مراکز کا خیرمقدم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

(ندائے مشرق ڈیسک)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

وزیر اعلیٰ کی امتحانات سے آگے بڑھ کر مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی وکالت

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

جنتر منتر پر احتجاج :’اجازت کے منتظر ہیں‘
اہم ترین

وزیر اعلیٰ کی امتحانات سے آگے بڑھ کر مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی وکالت

2026-10-11
سلامتی کونسل کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی سخت مذمت، فوجی کشیدگی فوری روکنے کا مطالبہ
اہم ترین

’جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے‘

2026-10-11
سنتور ہوٹل ملازموں کا سرینگر میں احتجاج
اہم ترین

وادی بھر میں انڈیا بلاک کے احتجاجی مارچ‘سی ای سی گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

2026-10-11
مغربی بنگال اورآسام اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی شاندار فتح
اہم ترین

’بی جے پی عمر سرکار کے خلاف ضلع سطح پر احتجاجی مہم چلائے گی‘

2026-10-11
پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے   قریب پانچ بارودی سرنگیں برآمد
اہم ترین

سوپور کے جنگلات سے اسلحہ گولہ بارود اور دھماکہ  خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد

2026-10-11
جموں کشمیر پولیس میں انسپکٹر سطح پر بڑے پیمانے پر رد و بدل
اہم ترین

پی او کے میں مقیم دو ملزمان کی  ایک کروڑ روپے مالیت کی  جائیدادیں ضبط کرنے کی کارروائی

2026-10-11
پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے   قریب پانچ بارودی سرنگیں برآمد
اہم ترین

پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے  قریب پانچ بارودی سرنگیں برآمد

2026-10-11
ریاض ہوائی اڈے پر دو حملے، تین سعودی شہری ہلاک، متعدد زخمی
اہم ترین

ریاض کے ہوائی اڈے پر ایک بار پھر حملہ، فضائی آمد و رفت معطل

2026-10-11

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.