یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ حالیہ برسوں میں کشمیر کی جنگلی حیات کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں، وہ مایوسی کے بجائے امید پیدا کرتے ہیں۔ قاضی ناگ میں مارخور کی تعداد میں اضافہ اور کشمیر کے مخصوص ہرن ہانگل کی آبادی میں بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ مناسب تحفظ، مسلسل نگرانی اور مقامی سطح پر تعاون کے ذریعے معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کو دوبارہ سنبھالا جا سکتا ہے۔
قاضی ناگ کے پہاڑی خطے میں مارخور کی آبادی۲۰۲۳ میں تقریباً۲۲۱ کے مقابلے میں۲۰۲۶ میں بڑھ کر۲۲۷تک پہنچ گئی ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہو سکتا ہے، لیکن جنگلی حیات کے ماہرین کے لیے ایسی معمولی نظر آنے والی تبدیلی بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے، خصوصاً اس وقت جب کسی نایاب نسل کی بقا مسلسل خطرات سے دوچار ہو۔ اس کے ساتھ مارخور کی افزائش کی شرح۶۹ فیصد ریکارڈ ہونا بھی ایک حوصلہ افزا علامت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نئی نسل کی پیدائش اور اس کے زندہ رہنے کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔
ہانگل کی کہانی بھی اسی امید کو مضبوط کرتی ہے۔ کشمیر کا یہ منفرد ہرن کبھی وادی کے وسیع علاقوں میں پایا جاتا تھا، مگر گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس کی تعداد میں تشویش ناک کمی واقع ہوئی۔۲۰۰۸ میں ہانگل کی تعداد محض۱۲۷ تک پہنچ گئی تھی۔۲۰۲۳ میں یہ تعداد۲۸۹ ہوئی اور۲۰۲۵کی مردم شماری میں۳۲۳ ہانگل ریکارڈ کیے گئے۔ یہ اضافہ محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ کشمیر کی قدرتی میراث کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔
ہانگل کا وجود کشمیر کی شناخت سے اس قدر جڑا ہوا ہے کہ اس کی بقا کو محض جنگلی حیات کا مسئلہ قرار دینا کافی نہیں۔ یہ کشمیر کے قدرتی ورثے کا حصہ ہے۔ اگر کسی زمانے میں اس کی تعداد ہزاروں میں تھی اور بعد میں یہ معدومیت کے دہانے تک پہنچ گیا تو اس کا مطلب ہے کہ انسانی سرگرمیوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے قدرتی توازن کو کس قدر متاثر کیا۔ اس پس منظر میں موجودہ اضافہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ صورتحال ناقابلِ اصلاح نہیں۔
مارخور اور ہانگل کی کہانیوں میں ایک دلچسپ مماثلت بھی ہے۔ دونوں انواع کو اپنے اپنے مسکن میں انسانی دباؤ، چراگاہوں کے بڑھتے استعمال، غیر قانونی شکار، مسکن کی تقسیم اور دیگر ماحولیاتی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ ہانگل کے معاملے میں مویشیوں کی حد سے زیادہ چراگاہی اس کے قدرتی خوراکی وسائل پر دباؤ ڈالتی رہی ہے۔ دوسری طرف مارخور کے مسکن میں بھی انسانی مداخلت ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ اگر حالیہ اعداد و شمار میں دونوں انواع کی تعداد بڑھ رہی ہے تو اس کے پیچھے تحفظ کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ان کے مسکن کے بہتر انتظام کا بھی کردار ہے۔
تاہم ان حوصلہ افزا اعداد و شمار کو کامیابی کی آخری منزل سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔ مارخور کی تعداد میں چند افراد کا اضافہ یا ہانگل کی تعداد کا۳۲۳ تک پہنچنا خوش آئند ضرور ہے، مگر دونوں انواع اب بھی حساس مرحلے میں ہیں۔ خاص طور پر ہانگل کی مجموعی تعداد اتنی کم ہے کہ کسی بھی بڑے ماحولیاتی بحران، بیماری، غیر قانونی شکار یا مسکن میں بڑی تبدیلی سے حاصل ہونے والی پیش رفت متاثر ہو سکتی ہے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کو وقتی مہم کے بجائے مستقل پالیسی بنایا جائے۔ صرف مردم شماری کافی نہیں؛ جانوروں کی نقل و حرکت، افزائش، خوراک، بیماریوں، شکاری جانوروں، آوارہ کتوں اور انسانی مداخلت کے اثرات پر مسلسل تحقیق ضروری ہے۔ ہانگل کے معاملے میں مادہ اور نر کے غیر متوازن تناسب اور کم شرحِ افزائش جیسے مسائل پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ اسی طرح مارخور کے قدرتی مسکن کو محفوظ رکھنا اس کی بڑھتی ہوئی تعداد کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
یہاں مقامی آبادی کا کردار بھی فیصلہ کن ہے۔ جنگلات اور پہاڑوں کے قریب رہنے والے لوگ دراصل جنگلی حیات کے سب سے پہلے محافظ بن سکتے ہیں۔ اگر مقامی لوگوں کو یہ احساس ہو کہ مارخور، ہانگل اور دیگر جانور ان کے خطے کی مشترکہ قدرتی دولت ہیں تو تحفظ کی کوششیں زیادہ مؤثر ہو سکتی ہیں۔ جنگلی حیات سے وابستہ سیاحت، مقامی روزگار اور ماحولیاتی تعلیم کے ذریعے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
کشمیر کی جنگلی حیات کی یہ واپسی صرف محکمہ جنگلی حیات کی کامیابی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خوشی کا باعث ہونی چاہیے۔ مارخور پہاڑوں کی شان ہے اور ہانگل کشمیر کی وادیوں کی پہچان۔ ان دونوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کا پیغام ہے کہ قدرت ابھی مکمل طور پر ہم سے روٹھی نہیں۔ ہمیں صرف اس کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی ضرورت ہے۔
آج جب دنیا بھر میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو انسانی مستقبل سے جوڑا جا رہا ہے، کشمیر کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ اپنی جنگلی حیات کو محض سیاحتی کشش کے طور پر نہیں بلکہ قدرتی نظام کے بنیادی حصے کے طور پر دیکھا جائے۔ مارخور اور ہانگل کی بڑھتی آبادی امید کی وہ چھوٹی مگر روشن کرن ہے جسے مستقل محنت، ذمہ دارانہ پالیسی اور اجتماعی شعور کے ذریعے ایک مضبوط روشنی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
آخرکار جنگلی جانوروں کی تعداد میں اضافہ صرف جانوروں کی بقا کی خبر نہیں ہوتا؛ یہ پورے ماحولیاتی نظام کی صحت کا اشارہ بھی ہوتا ہے۔ اگر مارخور پہاڑوں میں محفوظ ہیں، اگر ہانگل وادیوں میں دوبارہ بڑھ رہے ہیں، اگر جنگلات میں زندگی کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کشمیر کی قدرتی روح ابھی زندہ ہے۔ اس روح کو محفوظ رکھنا صرف حکومت یا محکمہ جنگلی حیات کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر کشمیری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔



