ناشک، 6 اکتوبر (یواین آئی) ناشک کی 16 سالہ تیراک دیویا مہاجن نے انگلینڈ سے فرانس تک انگلش چینل کو 14 گھنٹے 35 منٹ میں کامیابی سے عبور کرکے عالمی اوپن واٹر سوئمنگ میں ہندوستان کا نام روشن کیا ہے۔
دیویا نے یہ کارنامہ 3 اکتوبر کو اپنے ’مشن سپت ساگر‘ کے تحت انجام دیا۔ اس مہم کا مقصد دنیا کے سات مشکل ترین سمندری چینلز کو عبور کرنا ہے۔ یہ کامیابی شمالی آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان نارتھ چینل عبور کرنے کے ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصے بعد حاصل ہوئی ہے، جہاں 23 اگست کو دیویا دنیا میں نارتھ چینل عبور کرنے والی سب سے کم عمر خاتون تیراک بنی تھیں۔
دیویا نے رات 2 بج کر 50 منٹ پر مکمل تاریکی میں انگلش چینل میں تیراکی شروع کی۔ اس دوران انہیں تیز لہروں، طاقتور ہواؤں اور ناموافق سمندری دھاروں کا سامنا کرنا پڑا۔ انگلش چینل عبور کرنے کا عام فاصلہ تقریباً 33.7 کلومیٹر ہے، لیکن تیز دھاروں نے انہیں راستے سے ہٹا دیا، جس کے باعث انہیں تقریباً 50 کلومیٹر تیراکی کرنا پڑی۔
مشکل حالات کے باوجود دیویا نے حوصلہ نہیں ہارا اور فرانسیسی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 25 منٹ پر فرانس کے ساحل پر پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے فخر کے ساتھ ہندوستانی ترنگا لہرایا۔ ’سی لیپرڈ‘ کے کپتان اسٹورٹ اور شریک پائلٹ شان نے اس دوران ان کی رہنمائی کی، جبکہ چینل سوئمنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے جون مل نے سرکاری مبصر کے طور پر ذمہ داری نبھائی۔
دیویا اس وقت اپنے اہل خانہ کے ساتھ برطانیہ میں رہ رہی ہیں، جہاں وہ اوپن واٹر سوئمنگ کی اعلیٰ سطح کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں جی سی ایس ای امتحانات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گریڈ 8 اور 9 حاصل کیے اور اس وقت پریسٹن کے کارڈینل نیومین کالج میں اے لیولز کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے سخت تعلیمی مصروفیات کے ساتھ تیراکی کی سخت تربیت کو بھی کامیابی سے متوازن کیا ہے۔
یہ پوری مہم ’مہاجن بندھو فاؤنڈیشن‘ کے تحت چلائی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد کھیل اور تعلیم کے ذریعے لڑکیوں کو بااختیار بنانا ہے۔ اس مہم کے ذریعے ’بی بی سی چلڈرن اِن نیڈ‘ کے لیے بھی چندہ جمع کیا جا رہا ہے۔
اپنی کامیابی پر دیویا نے کہا، ’’جب بھی میں کوئی چینل عبور کرکے اختتامی مقام پر ہندوستانی ترنگا لہراتی ہوں تو مجھے بے حد فخر محسوس ہوتا ہے۔ اگر میں یہ کرسکتی ہوں تو ہندوستان کی ہر لڑکی ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے دنیا بھر کے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی بیٹیوں پر اعتماد کریں اور ان کے خوابوں کی بھرپور حمایت کریں۔
دیویا نے کہا کہ وہ اینڈیورنس چینل سوئمنگ میں بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کا مقام بلند کرنے کا خواب دیکھتی ہیں اور لڑکیوں کو بڑے خواب دیکھنے اور عزم کے ساتھ اپنے مقاصد حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے اپنے کوچ شری کانت وشواناتھن، مینٹور تنوی دیورے، والدہ انجنا مہاجن، والد ڈاکٹر ہتندر مہاجن، بھائی اوم، چچا ڈاکٹر مہندر مہاجن، کارڈینل نیومین کالج کے اساتذہ و دوستوں اور تمام حامیوں کا شکریہ ادا کیا۔
انگلش چینل عبور کرنے کے ساتھ ہی دیویا نے ’مشن سپت ساگر‘ کے سات میں سے تین چینلز کامیابی سے مکمل کرلیے ہیں، جبکہ اب چار مزید چینلز عبور کرنا باقی ہیں۔





