سری نگر؍۶؍ اکتوبر
جموں و کشمیر حکومت نے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) جموں کے شعبہ امراضِ قلب کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سید مقبول احمد شاہ کی معطلی منسوخ کر دی ہے۔ انہیں دل کے علاج سے متعلق طبی کارروائیوں اور پی ایم جے اے وائی۔صحت ہیلتھ انشورنس اسکیم کے تحت معاوضے کے دعووں سے متعلق الزامات کے بعد تقریباً چار ماہ قبل معطل کیا گیا تھا۔
ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق جموں و کشمیر سول سروسز (درجہ بندی، کنٹرول اور اپیل) قواعد‘۱۹۵۶کے قاعدہ۳۱(۳) کے تحت معطلی نظرثانی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ڈاکٹر شاہ کی معطلی منسوخ کی گئی ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر شاہ کو فوری اثر سے ملازمت پر بحال کرتے ہوئے انہیں اپنی سابقہ جائے تعیناتی جی ایم سی جموں میں فوری طور پر رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔تاہم، حکومت نے واضح کیا ہے کہ معطلی منسوخ کیے جانے سے محکمانہ کارروائی ختم نہیں ہوگی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’’معطلی کی مدت کا فیصلہ محکمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد، قابل اطلاق سروس قواعد کی دفعات کے مطابق علیحدہ طور پر کیا جائے گا۔‘‘
ڈاکٹر شاہ کو حکومت کے ایک حکم نامے کے تحت معطل کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی جی ایم سی اننت ناگ میں پی ایم جے اے وائی۔صحت اسکیم کے تحت دل سے متعلق طبی طریقۂ کار اور معاوضے کے دعووں کی جانچ کے دوران سامنے آنے والے الزامات کے بعد کی گئی تھی۔
محکمانہ کارروائی میں شامل الزامات کے مطابق اسٹیٹ اینٹی فراڈ یونٹ کی جانچ میں ٹرانزیکشن مینجمنٹ سسٹم پر درج اندراجات اور جی ایم سی اننت ناگ کے کیتھ لیب پروسیجر رجسٹر میں موجود ریکارڈ کے درمیان تضادات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
تحقیقات میں۱۰۳؍ایسے معاملات کے دعووں پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے جنہیں ڈوئل چیمبر پیس میکر امپلانٹیشن کے پیکیج کے تحت درج کیا گیا تھا۔ تفتیش کاروں کا الزام تھا کہ ان معاملات میں لیفٹ بنڈل برانچ ایریا پیسنگ کا طریقۂ کار اختیار کیا گیا تھا۔
بعد ازاں معاملہ ماہرین کی جانچ کے لیے پیش کیا گیا، جہاں ایس کے آئی ایم ایس صورہ کے شعبہ امراضِ قلب کے ماہرین نے۵۵ منتخب معاملات کا جائزہ لیا۔
انکوائری میں پیش کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق۲۷ معاملات میں مذکورہ طبی طریقۂ کار کی ضرورت یا طبی جواز پر سوالات اٹھائے گئے۔ جائزہ لیے گئے مریضوں میں سے تقریباً نصف کے بائیں بطینی حصے کی کارکردگی معمول کے مطابق ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
اس معاملے پر تنازع اپنے عروج پر پہنچنے کے دوران وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے کہا تھا کہ حکومت نے انکوائری کا حکم دیا ہے اور کارروائی مکمل ہونے کے بعد جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تاہم ڈاکٹر شاہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں من گھڑت قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ محکمانہ میمورنڈم میں عائد الزامات کو عوامی سطح پر ایسے پیش کیا جا رہا ہے جیسے ان پر حتمی فیصلہ آ چکا ہو، حالانکہ محکمانہ انکوائری ابھی جاری تھی۔
معطلی منسوخ کیے جانے کے بعد ڈاکٹر شاہ اب اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال سکیں گے، تاہم ان کے خلاف محکمانہ کارروائی الگ سے جاری رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










