اتوار, اکتوبر 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

حرمین شریفین کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-03
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے ایمان، عقیدت اور روحانی وابستگی کے وہ مراکز ہیں جن کی حرمت دلوں میں غیر معمولی مقام رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ان مقدس شہروں کی سلامتی کو کسی بھی نوعیت کا خطرہ لاحق ہونے کی خبر سامنے آتی ہے تو اس کا اثر صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہتا بلکہ دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مسلمانوں کے دلوں میں تشویش پیدا ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں مدینہ منورہ میں بجلی کی ایک تقسیم گاہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنائے جانے کا سعودی اتحاد کا دعویٰ بھی اسی تناظر میں انتہائی حساس معاملہ ہے۔

سعودی عرب کے زیر قیادت اتحاد کے ترجمان  نے یکم اکتوبر کو دعویٰ کیا کہ۲۹ ستمبر کی صبح مدینہ منورہ کے طیبہ بجلی تقسیم مرکز پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ ان کے مطابق اس مرکز سے مسجد نبوی کو بھی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر ناکارہ ہوا، تاہم مجموعی بجلی کا نظام متاثر نہیں ہوا۔ سعودی اتحاد نے ڈرون کے ملبے اور اپنی تحقیقات کی بنیاد پر حوثی تحریک کو حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

دوسری جانب حوثیوں نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ حوثیوںکا کہنا ہے کہ سعودی عرب یہ الزام اس لیے عائد کر رہا ہے تاکہ مکہ مکرمہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے سابقہ دعوے سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ اس لیے اس واقعے کے ذمہ دار کے بارے میں دونوں فریقوں کے دعووں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے اور کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ

جموں و کشمیر کمپریسڈ بایو گیس پالیسی : کچرے سے توانائی، صفائی اور روزگار کی نئی راہ؟

تنخواہوں میں اضافہ اور جموں و کشمیر کی مالی حقیقت

لیکن ان متضاد دعووں سے قطع نظر ایک بنیادی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے:مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

یمن کی جنگ، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سیاسی و عسکری تنازع، علاقائی طاقتوں کی کشمکش یا مشرق وسطیٰ کی وسیع تر جغرافیائی سیاست اپنی جگہ اہم موضوعات ہیں، لیکن ان تمام معاملات کو حرمین شریفین کی حرمت سے الگ رکھنا ناگزیر ہے۔ کسی بھی فریق کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی سیاسی یا عسکری لڑائی کو ان مقدس مقامات کے قریب لے جائے اور اس کے نتیجے میں کروڑوں مسلمانوں کے جذبات اضطراب میں مبتلا ہوں۔

یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ڈرون کس نے بھیجا یا کس نے حملہ کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کس سمت جا رہی ہے۔ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی دوبارہ اس سطح تک پہنچ رہی ہے جہاں سعودی شہری تنصیبات، توانائی کے مراکز اور دوسرے بنیادی ڈھانچے نشانہ بننے لگیں، تو اس کے نتائج صرف فریقین تک محدود نہیں رہیں گے۔ مدینہ منورہ جیسے مقدس شہر کے قریب کسی بھی حملے کا خطرہ اس معاملے کو کہیں زیادہ حساس بنا دیتا ہے۔

مکہ اور مدینہ کی حرمت مسلمانوں کے لیے کسی جغرافیائی سرحد کی پابند نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک، مختلف مسالک اور مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے مسلمان ان دونوں شہروں کے ساتھ یکساں عقیدت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان شہروں کی حفاظت کو کسی ایک ملک، حکومت یا سیاسی اتحاد کی ذمہ داری سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ انتظامی اور عملی ذمہ داری یقیناً سعودی عرب کی ہے، لیکن روحانی اور اخلاقی اعتبار سے حرمین شریفین کی سلامتی پوری امت مسلمہ کی مشترکہ تشویش ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ مقدس مقامات کے نام کو سیاسی بیانیوں یا عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اگر کسی حملے کے شواہد موجود ہیں تو ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ دار عناصر کا تعین ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی الزام کو غلط قرار دیا جاتا ہے تو اس کی بھی شفاف وضاحت سامنے آنی چاہیے۔ مقدس مقامات سے متعلق معاملات میں اطلاعات کی صحت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی اہمیت عام حالات سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

موجودہ صورتحال اس امر کی بھی متقاضی ہے کہ مسلم ممالک محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کریں۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جو بھی بنیادی سیاسی، علاقائی یا سلامتی کے مسائل ہیں، ان کے حل کے لیے براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے راستے تلاش کیے جانے چاہئیں۔ جنگ نے یمن کو برسوں سے تباہی، انسانی بحران اور سیاسی تقسیم سے دوچار کر رکھا ہے۔ اب اگر دوبارہ عسکری کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یمن کے مختلف علاقوں میں لڑائی اور فضائی حملوں میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

مسلم ممالک کے لیے یہ وقت ایک دوسرے کے خلاف سیاسی صف بندی سے زیادہ بحران کو کم کرنے کی کوشش کا ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی اہم ہے، یمن کے عوام کا امن بھی اتنا ہی اہم ہے، اور حرمین شریفین کی حفاظت سب سے بڑھ کر ایک مشترکہ مقدس ذمہ داری ہے۔ ان تینوں تقاضوں کو ایک دوسرے سے متصادم بنانے کے بجائے ایسے سفارتی راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو خطے میں کشیدگی کم کریں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جنگوں کی آگ ہمیشہ صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہتی۔ بجلی، پانی، تیل، مواصلات اور دوسری شہری تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔ اگر ایسی کارروائی کسی ایسے مرکز کے قریب ہو جس کا تعلق مسجد نبوی جیسے مقدس مقام کی ضروریات سے ہو تو تشویش کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق حالیہ واقعے میں بجلی کا مجموعی نظام متاثر نہیں ہوا، جو ایک اہم بات ہے، لیکن اس نوعیت کے کسی بھی واقعے کو مستقبل کے بڑے خطرے کی تنبیہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ماضی میں بھی مکہ مکرمہ کے قریب میزائل اور ڈرون سے متعلق واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ سعودی عرب نے گزشتہ ماہ بھی مکہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو روکنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ حوثیوں نے مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی۔ ایسے واقعات میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے تصدیق شدہ حقائق سامنے لائے جائیں اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو مسلمانوں میں مزید اشتعال پیدا کریں۔

مسلم دنیا کو یہ واضح پیغام دینا چاہیے کہ اختلافات چاہے کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں، ان کا میدان حرمین شریفین نہیں ہو سکتا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کسی جنگی حکمت عملی، سیاسی دباؤ یا علاقائی طاقت کے مظاہرے کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ان شہروں کا امن کروڑوں مسلمانوں کی اجتماعی خواہش ہے اور اس خواہش کا احترام ہر فریق پر لازم ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ مسلم ممالک اپنی سفارتی قوت کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش کریں۔ اگر مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کیے جا سکتے ہیں تو جنگ کو جاری رکھنے کا جواز کم سے کم ہونا چاہیے۔ اختلافات کا حل میز پر تلاش کیا جا سکتا ہے، مگر مقدس مقامات کے گرد پیدا ہونے والی بے یقینی کا کوئی نعم البدل نہیں۔

حرمین شریفین کی حفاظت صرف ایک ریاست کا مسئلہ نہیں، یہ پوری امت کے دل کا مسئلہ ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ امن، عبادت اور روحانی سکون کی علامت ہیں۔ ان شہروں کو جنگ کی آگ سے محفوظ رکھنا ہر مسلمان کی خواہش اور ہر مسلم حکومت کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا اتحاد رائے شماری میں آگے، مگر اکثریت سے بدستور دور

Next Post

عروج و زوال

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جموں و کشمیر کمپریسڈ بایو گیس پالیسی : کچرے سے توانائی، صفائی اور روزگار کی نئی راہ؟

2026-10-04
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

تنخواہوں میں اضافہ اور جموں و کشمیر کی مالی حقیقت

2026-10-01
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

الطاف بخاری کے الزامات

2026-09-29
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کینسر: اعداد سے آگے کا چیلنج             

2026-09-27
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

دہشت گردی:ہند پاک میں سب سے بڑا مسئلہ

2026-09-26
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

تعطیلات کی سیاست اور اسمبلی کا اصل ایجنڈا

2026-09-24
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیری شادیاں: روایت، نمود و نمائش اور ہماری اجتماعی بے حسی         

2026-09-23
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پانچ روزہ تعلیمی ہفتہ: بچوں کو آرام بھی چاہیے، مگر حساب بھی ضروری ہے         

2026-09-22
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

عروج و زوال

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.