منگل, ستمبر 29, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں قرار داد منظور

 ہنگامے کے دوران صوتی ووٹ سے قرارداد منظور‘بی جے پی ارکان کا ایوان سے واک آؤٹ‘عمر کا قرار داد کے متن کا دفاع

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-29
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
’۲۰۲۶میں ہی ڈیلی ویجرز کی مستقلی کا عمل شروع ہوگا‘

JAMMU, FEB 19 (UNI): Jammu and Kashmir Chief Minister Omar Abdullah during the Budget Session of the Jammu and Kashmir Legislative Assembly, in Jammu on Thursday. UNI Photo 29U

FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

وزیر اعلیٰ کا مرکزی حکومت سے سوال:ریاستی حیثیت بحال کرنے کا صحیح وقت کب ہے؟، ’’جلد از جلد‘‘ سے مراد کیا ہے؟

سری نگر؍۲۸ ستمبر

                جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے پیر کو بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے احتجاج اور واک آؤٹ کے درمیان جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرنے والی قرارداد منظور کرلی۔

                قرارداد وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گزشتہ ہفتے جمعہ کو پیش کی تھی، تاہم متعدد ارکان کی جانب سے اس معاملے پر اظہار خیال کی خواہش کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، بی جے پی ارکان نے کاغذات پھاڑ دیے

ترقیاتی فنڈز میں جموں مخالف تعصب؟ حکومت کے اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں

                اپوزیشن بی جے پی نے جمعہ کے ساتھ ساتھ پیر کو بھی قرارداد کے خلاف احتجاج کیا۔ پارٹی کے ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے، کارروائی سے متعلق کاغذات پھاڑے اور علامتی کارروائی بھی چلائی۔

                قرارداد میں کہا گیا’۲۶جون۲۰۰۰؍اور۶ نومبر۲۰۲۴ کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری اور ہنگامی بنیادوں پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘

                فاروق عبداللہ کی سربراہی والی نیشنل کانفرنس حکومت نے۲۶ جون۲۰۰۰کو۹؍ اگست۱۹۵۳سے پہلے کی موجودہ وسیع تر خودمختاری کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی تھی۔

                ۶ نومبر۲۰۲۴ کو ایوان نے خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرنے والی قرارداد بھی منظور کی تھی۔

                حکمران نیشنل کانفرنس سمیت متعدد ارکان نے موجودہ قرارداد میں ترامیم پیش کی تھیں، جن میں کئی ارکان نے مطالبہ کیا تھا کہ قرارداد میں خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل کیا جائے۔

                تاہم بحث کے دوران جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ارکان سے اپنی ترامیم واپس لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ بی جے پی کی اس سازش میں پھنس گئے ہیں اور انہوں نے ترامیم پیش کر دیں۔‘‘

                عمر عبداللہ نے کہا، ’’اس ایوان نے خصوصی حیثیت کے لیے پہلے ہی دو مرتبہ قراردادیں منظور کی ہیں—ایک سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کے دور میں اور دوسری۲۰۲۴میں موجودہ حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد۔ خصوصی حیثیت ایک ایسی آئینی شق ہے جو دیگر ریاستوں کو حاصل نہیں ہے۔ ہم نے مرکز سے ان خصوصی دفعات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جو۲۰۱۹سے پہلے ہمارے پاس تھیں۔ لہٰذا میں اپنے ساتھیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان ترامیم پر اصرار نہ کریں، کیونکہ اس سے بی جے پی کو اس کی مخالفت کرنے کا بہانہ مل جائے گا۔‘‘

                وزیراعلیٰ کی اپیل کے بعد اسپیکر نے ارکان سے دریافت کیا کہ آیا وہ اپنی ترامیم پر اصرار نہیں کریں گے، جس پر تمام آٹھ ارکان نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔

                اس کے بعد اسپیکر نے قرارداد کو ووٹنگ کے لیے پیش کیا، جبکہ بی جے پی ارکان کا احتجاج جاری رہا۔

                بی جے پی کے واک آؤٹ کے درمیان قرارداد صوتی ووٹ سے منظور کرلی گئی۔بی جے پی نے کہا کہ قرارداد میں خودمختاری اور خصوصی حیثیت کا حوالہ آئین کی توہین ہے اور وہ ایوان میں اس پر بحث یا اسے منظور نہیں ہونے دے گی۔

                اس سے پہلے وزیراعلیٰ نے پیر کو مرکز سے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کے وقت کے بارے میں وضاحت طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’’جلد از جلد‘‘ سے آخر کیا مراد ہے اور نئی دہلی اس فیصلے کے لیے ’’مناسب وقت‘‘ کب سمجھتی ہے۔

                ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد پر قانون ساز اسمبلی میں بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی کو سلامتی کی صورتحال یا دہشت گردی سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ایسی شرط عائد کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ فیصلہ عملاً پاکستان کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔

                 عمر عبداللہ نے کہا، ’’میں ہر ممکن فورم پر مرکز سے پوچھتا ہوں:ہمیں بتائیے کہ ریاستی حیثیت کا مطالبہ کرنے کا مناسب وقت کیا ہے؟‘‘انہوں نے کہا کہ اگر مرکز کا موقف یہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک ریاستی حیثیت بحال نہیں کی جا سکتی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر نئی دہلی کے ہاتھ میں نہیں رہا۔انہوں نے کہا، ’’اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ جب تک دہشت گردی ختم نہیں ہوتی، ریاستی حیثیت نہیں دی جائے گی، تو آپ عملاً یہ کہہ رہے ہیں کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کا فیصلہ نئی دہلی میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں ہوگا۔‘‘

                پاکستان کے دہشت گردی میں کردار اور اوڑی و پلوامہ جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ کیا ریاستی حیثیت کی بحالی کو عملاً پاکستان کی جانب سے تشدد ختم کرنے سے مشروط کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’کیا آپ یہ فیصلہ پاکستان پر چھوڑ رہے ہیں؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ بندوق روکیں گے اور پھر آپ ہمیں ریاست دیں گے۔‘‘

                عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کا فیصلہ نئی دہلی کے ہاتھ میں ہے اور سوال کیا کہ مرکز کے عزم کے ساتھ شرائط منسلک کرنے کی کیا وجہ ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر آپ نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے کہ آپ کے وزیراعظم اپنی مدتِ کار کے دوران ہمیں ریاستی حیثیت نہیں دیں گے تو یہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کے متن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسے محتاط غور و فکر کے بعد اس مقصد سے تیار کیا گیا تھا کہ اس میں ایسی کوئی بات شامل نہ ہو جسے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے دانستہ طور پر آرٹیکل۳۷۰ ، آرٹیکل۳۵اے  اور خصوصی حیثیت کے معاملے کو قرارداد سے باہر رکھا ہے۔انہوں نے کہا، ’’قرارداد پڑھیں اور مجھے بتائیں کہ ہم ۳۷۰،۳۵ اے یا خصوصی حیثیت پر ووٹنگ کا مطالبہ کہاں کر رہے ہیں۔‘‘

                عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے بعض ساتھیوں نے ترامیم پیش کی تھیں جن میں ان معاملات کو قرارداد میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی، جو ان کے بقول ایوان میں ہنگامہ آرائی کا موقع فراہم کر سکتی تھیں۔انہوں نے کہا، ’’میرے ساتھی اس جال میں پھنس گئے ہیں۔ جب وہ اس میں۳۷۰؍اور ۳۵ اے  شامل کرتے ہیں تو وہ انہیں ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ اسمبلی اس سے قبل خصوصی حیثیت سے متعلق قراردادیں منظور کر چکی ہے، جن میں ایک قرارداد۲۰۰۰ میں فاروق عبداللہ کی سربراہی والی حکومت کے دوران منظور کی گئی تھی۔انہوں نے کہا، ’’ایوان نے خصوصی حیثیت پر ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ قرارداد منظور کی ہے۔ ایک۲۰۰۰ میں فاروق عبداللہ کے دور میں منظور ہوئی تھی۔‘‘

                عمر عبداللہ نے کہا کہ موجودہ مطالبہ بالکل واضح ہے—جموں و کشمیر کو وہ آئینی اور سیاسی حیثیت واپس دی جائے جو تنظیمِ نو سے قبل اسے حاصل تھی۔انہوں نے کہا، ’’ہم مرکز سے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں وہ حیثیت واپس دیں جو ہمارے پاس تھی اور جو دوسروں کے پاس نہیں تھی۔ ہم مرکز سے صرف اتنا ہی مانگ رہے ہیں۔‘‘

                وزیراعلیٰ نے اس دلیل کو مسترد کیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی سے اس کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتیں کمزور ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی فرد یا سیاسی تنظیم کا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ایسا نہیں ہے کہ ریاست میری، میرے خاندان یا کسی سیاسی جماعت کی ہے۔ یہ عوام کی ہے۔‘‘

                عمر عبداللہ نے کہا کہ مکمل ریاستی حیثیت نہ ہونے کا اثر منتخب حکومت کے کام کاج اور روزمرہ انتظامیہ پر پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہر روز کہیں نہ کہیں اس کا اثر پڑتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ریاستی حیثیت نہیں ہے۔‘‘

                وزیراعلیٰ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے موجودہ نظام کے تحت منتخب حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر بھی سوال اٹھایا۔انہوں نے سوال کیا کہ محکمہ مال کو منتخب حکومت کے دائرۂ اختیار سے باہر کیوں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سلامتی اور امن و قانون ان کے پاس ہے جبکہ باقی ہمارے پاس ہے۔ پھر محکمہ مال کو ہمارے دائرۂ اختیار سے باہر کیوں رکھا گیا ہے؟‘‘

                عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کا بھی حوالہ دیا اور سوال کیا کہ اس کا سلامتی یا امن و قانون سے کیا تعلق ہے۔انہوں نے آئی یو ایس ٹی اور بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی سمیت جامعات کا بھی حوالہ دیا اور سوال کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر کے بطور چانسلر کام کرنے کے دوران وزیراعلیٰ کے کردار کو کیوں محدود کیا گیا ہے۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے تقریباً دو سال قبل اپنے کاروباری قواعد مرکز کو بھیجے تھے، لیکن انہیں اب تک منظوری کا انتظار ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں مرکز کو کاروباری قواعد بھیجے تقریباً دو سال گزر چکے ہیں۔ انہیں اب تک منظوری نہیں ملی۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس تاخیر نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے موجودہ انتظامی نظام کے تحت انتظامی اختیارات کی تقسیم اور استعمال کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری میں تاخیر پر سوال

                وزیراعلیٰ نے ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کو قائم ہوئے تقریباً دو سال ہو چکے ہیں، لیکن اب بھی ایڈووکیٹ جنرل موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہماری حکومت بنے تقریباً دو سال گزر چکے ہیں، لیکن جموں و کشمیر میں اب بھی ایڈووکیٹ جنرل نہیں ہے۔‘‘

                عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت پہلے ہی اپنی تجویز پیش کر چکی ہے اور معاملہ کابینہ سے گزرنے کے بعد غور کے لیے بھیجا جا چکا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ اس کے باوجود تقرری اب تک کیوں عمل میں نہیں آ سکی۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا کہ منتخب حکومت کو درپیش مسائل جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے درجے کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔انہوں نے کہا، ’’مجھے بتائیے، ملک کی کس ریاست میں ایسا ہوتا ہے؟ وزیراعلیٰ ایک قرارداد پیش کرتا ہے اور قانون سکریٹری اس پر رائے دیتے ہیں۔ ایسا صرف مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ہو سکتا ہے۔‘‘انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ منتخب حکومت سے متعلق قانونی رائے سیاسی انتظامیہ سے مناسب مشاورت کے بغیر کیوں جاری کی جا رہی ہے۔

                عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک موقع پر وہ خود محکمہ قانون کی رائے سے لاعلم تھے، حالانکہ وہ وزیراعلیٰ کے ساتھ ساتھ وزیر قانون بھی تھے، جبکہ یہ معاملہ کہیں اور پہلے ہی پہنچایا جا چکا تھا۔انہوں نے کہا، ’’بطور وزیر قانون اور بطور وزیراعلیٰ مجھے معلوم نہیں، لیکن آپ کو خط موصول ہو گیا ہے۔ یہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ہونے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔‘‘

                عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر سے وابستہ تاریخی آئینی ڈھانچے کا بھی حوالہ دیا، جس میں مہاراجہ ہری سنگھ اور ریاستی باشندوں کو حاصل تحفظات سے متعلق انتظامات شامل تھے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق ریاست سے وابستہ آئینی اور قانونی ڈھانچے میں بعد ازاں جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد تبدیلیاں کی گئیں۔

                وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے متعدد معاملات پر کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، تاہم ان کی رپورٹیں اب بھی زیرِ انتظار ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہم اس کا حساب چاہتے ہیں۔ ہم اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ مرکز کو ریاستی حیثیت بحال کرنے کے اپنے عزم کو پورا کرنا چاہیے اور دہرایا کہ قانون ساز اسمبلی اپنا موقف واضح کر چکی ہے۔

                عمر عبداللہ نے کہا، ’’جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی مرکز سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، بی جے پی ارکان نے کاغذات پھاڑ دیے

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

معراج ملک کی پی ایس اے کے تحت گرفتاری پر اسمبلی میں ہنگامہ
اہم ترین

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، بی جے پی ارکان نے کاغذات پھاڑ دیے

2026-09-29
ترقیاتی فنڈز میں جموں مخالف تعصب؟ حکومت کے اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں
اہم ترین

ترقیاتی فنڈز میں جموں مخالف تعصب؟ حکومت کے اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں

2026-09-29
جموںکشمیر کانگریس کا گیانیش کمارکے استعفے کا مطالبہ
اہم ترین

جموںکشمیر کانگریس کا گیانیش کمارکے استعفے کا مطالبہ

2026-09-29
ڈوڈہ کے ملہوری علاقے میں سڑک حادثہ، دو افراد جاں بحق
اہم ترین

کرناہ میں سومو گہری کھائی میں جا گری، پانچ ہلاک، پانچ زخمی

2026-09-29
جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ اسمبلی تک پہنچاایجنسیز
اہم ترین

احتجاج کرنے والے چار ارکان کو ایوان سے باہر نکالا گیا

2026-09-29
’لداخ  یو وزیر اعظم مودی کی ترجیح‘
اہم ترین

دہشت گردی کے خلاف  کارروائی کیلئےخودکار ردعمل  کانظام ادارہ جاتی  شکل دینا ضروری: امت شاہ

2026-09-29
جموں کشمیر میںحد بندی کیخلاف عرضی پرسپریم کورٹ میں سماعت آج
اہم ترین

سپریم کورٹ کی میڈیا کو جنسی  جرائم کی رپورٹنگ میں ذمہ دارانہ  اور ہمدردانہ صحافت کی ہدایت

2026-09-29
اے سی بی کی کارروائی کے بعد فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے چار اہلکار معطل
اہم ترین

ٹرک ڈرائیور سے انٹری فیس کا تقاضا‘ایس پی او برطرف

2026-09-29

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.