سری نگر؍۲۸ ستمبر
جموں و کشمیر اسمبلی میں پیر کو ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد پر بی جے پی ارکان کے احتجاج کے باعث زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا۔ بی جے پی ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے، کاروباری کاغذات پھاڑ دیے اور علامتی کارروائی شروع کردی۔
یہ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب بی جے پی نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو عہدے سے ہٹانے کی تحریک پیش کی۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی ریاستی حیثیت کی قرارداد قواعد اور آئین کے منافی ہے۔
قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی کے خلاف نہیں، تاہم موجودہ قرارداد میں خودمختاری اور خصوصی حیثیت کے حوالے ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم ریاستی حیثیت کی بحالی چاہتے ہیں، یہ ہمارا ایجنڈا ہے، لیکن جس طرح کی قرارداد پیش کی گئی ہے وہ آئین کی خلاف ورزی ہے اور ناقابل قبول ہے۔‘‘
نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے مرکز کی جانب سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کے وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وعدے کو پورا کرنے میں پہلے ہی دو سال گزر چکے ہیں۔
چودھری نے کہا، ’’وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں وعدہ کیا تھا کہ ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ ان وعدوں کا کیا ہوا؟‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے اسپیکر سے بی جے پی کی جانب سے پیش کی گئی تحریک کو ووٹنگ کے لیے رکھنے کی اپیل بھی کی، جس پر اسپیکر نے متعلقہ قاعدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی تحریک پر۱۴ دن بعد ہی کارروائی ہوسکتی ہے۔
اس کے بعد بی جے پی ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور ’’دیش دروہیوں کا ایجنڈا نہیں چلے گا‘‘، ’’آئین سے مذاق بند کرو‘‘ اور ’’آئین کا قتل بند کرو‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ بی جے پی رکن اسمبلی شیام لال شرما نے وہیں علامتی کارروائی شروع کردی، جس میں پارٹی کے دیگر ارکان بھی شریک ہوئے۔
وزیر سکینہ ایتو نے بی جے پی ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’صرف گیلری کے لیے ڈرامہ کر رہے ہیں۔‘‘
بعد ازاں اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاستی حیثیت کے معاملے میں آرٹیکل۳۷۰، دو پرچم اور دو آئین جیسے موضوعات شامل کرکے اصل مطالبے کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے بحث کو تیار ہے اور یہ حکومت ہند کا عہد ہے، تاہم آرٹیکل۳۷۰ یا۱۹۵۳ سے پہلے کی حیثیت کی بات ناقابل قبول ہے۔
شرما نے دعویٰ کیا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی آرٹیکل۳۷۰؍اور۱۹۵۳سے پہلے کی حیثیت جیسے معاملات کو جموں و کشمیر کی موجودہ سیاست میں جگہ نہ دینے پر زور دیا ہے۔
کانگریس کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گینیش کمار کے خلاف احتجاج کے بارے میں شرما نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے احتجاج کے جواز پر سوال اٹھایا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس انتخابی معاملات پر عوام کو گمراہ کر رہی ہے اور کہا کہ اس کے پاس الیکشن کمیشن پر سوال اٹھانے کی اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










