جموں؍۲۸ ستمبر
کٹھوعہ ضلع کے لکھن پور علاقے میں ایک ٹرک ڈرائیور سے مبینہ طور پر انٹری فیس کے نام پر رقم طلب کرنے والے پولیس اہلکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے چند گھنٹوں بعد جموں و کشمیر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک اسپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) کو سروس سے فارغ کر دیا، جبکہ ایک دوسرے پولیس اہلکار کے خلاف محکمانہ انکوائری کے احکامات جاری کیے ہیں۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک ایس پی او کو سروس سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسرے پولیس اہلکار کے خلاف محکمانہ انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔
کٹھوعہ کی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) موہیتا شرما نے بھی ایس پی او کو سروس سے فارغ کیے جانے اور دوسرے اہلکار کے خلاف تحقیقات کی تصدیق کی ہے۔
پیر کو ایک پولیس اہلکار کی ویڈیو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی، جس میں وہ مبینہ طور پر لکھن پور چیک پوائنٹ پر ایک ٹرک ڈرائیور سے رقم طلب کرتا نظر آ رہا ہے۔ ویڈیو نے کٹھوعہ میں سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔
ٹرک ڈرائیور کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلٹی پیش نہ کرنے پر وردی میں ملبوس ایک پولیس اہلکار اس سے رقم طلب کر رہا ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ ٹرک میں لدا سامان بلٹی کا تقاضا نہیں کرتا۔
لکھن پور کا مذکورہ انٹری پوائنٹ ریاستی ٹیکسز کے انفورسمنٹ ونگ، ضلع کٹھوعہ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
بلٹی، جسے عام طور پر ٹرک بلٹی کہا جاتا ہے، ایک قانونی دستاویز ہے جو ٹرانسپورٹ کمپنی یا سامان لے جانے والا ادارہ سڑک کے ذریعے مال کی ترسیل کے لیے سامان وصول کرنے کے ثبوت کے طور پر جاری کرتا ہے۔
ویڈیو میں یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ ٹرک ڈرائیور پولیس اہلکار کو۳۰ روپے دینے کی پیشکش کرتا ہے، جبکہ اہلکار۱۰۰ روپے کا مطالبہ کرتا ہے۔ بلٹی پیش نہ کرنے کے باعث ڈرائیور نے بالآخر اہلکار کو مطلوبہ رقم ادا کی اور چیک پوائنٹ سے روانہ ہوگیا۔
کٹھوعہ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) سنیل کیسر نے اس سے قبل رابطہ کیے جانے پر کہا تھا کہ معاملہ حکام کے علم میں آ گیا ہے اور اس کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
دریں اثنا، ڈپٹی کمشنر، اسٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ، کٹھوعہ، جوگندر سنگھ نے کہا کہ اس معاملے کا ان کے محکمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ کی ٹیمیں ای وے بلز کی بے ترتیب جانچ اور تصدیق کے لیے تعینات کی جاتی ہیں اور انہیں مناسب وردی میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










