سری نگر؍۲۵ ستمبر
جموں و کشمیر حکومت نے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ صحافتی بہبود اسکیم (جے ڈبلیو ایس)۲۰۲۳ کے تحت محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی پی آر) کو اب تک کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔
حکومت نے مزید بتایا کہ اس اسکیم کے تحت انتہائی مشکل حالات سے دوچار منظور شدہ اور غیر منظور شدہ صحافیوں، بشمول آزاد صحافیوں، کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
ایم ایل اے رنبیر سنگھ پٹھانیا کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے یکم اپریل۲۰۲۳ کو جاری کی گئی صحافتی بہبود اسکیم ملک بھر میں پہلے ہی نافذ العمل ہے۔حکومت نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت انتہائی مشکل حالات میں منظور شدہ اور غیر منظور شدہ صحافیوں، بشمول آزاد صحافیوں، کو ایک مرتبہ بطور مالی امداد رقم فراہم کی جاتی ہے۔
حکومت نے مزید کہا، ’’موت کی صورت میں۵ لاکھ روپے تک، مستقل معذوری کی صورت میں۵ لاکھ روپے تک، جبکہ ایسے سنگین امراض کے علاج کے لیے۳ لاکھ روپے تک کی مالی امداد قابل قبول ہے جو مرکزی حکومت کی صحت اسکیم (سی جی ایچ ایس) یا بیمہ کے تحت شامل نہیں ہیں۔‘‘
حکومت نے کہا کہ جموں و کشمیر کے صحافی پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) اور/یا محکمہ اطلاعات کے ذریعے اس اسکیم کے تحت درخواست دینے کے اہل ہیں، جبکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے سے متعلق اہل معاملات کو مناسب سفارش کے ساتھ آگے بھیجا جا سکتا ہے۔
گزشتہ پانچ مالی سالوں کے دوران ضلع وار منظور شدہ فنڈز اور صحافیوں یا ان کے پسماندہ خاندان کے افراد کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں یا جاری کی گئی مالی امداد کی تفصیلات کے بارے میں حکومت نے کہا کہ جے ڈبلیو ایس۲۰۲۳ جموں و کشمیر کیلئے مخصوص اسکیم نہیں ہے۔
حکومت نے کہا، ’’جے ڈبلیو ایس۲۰۲۳ کے تحت محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ، جموں و کشمیر کو ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی جسے وزارت اطلاعات و نشریات کو سفارش کے لیے بھیجا جا سکے۔‘‘
غیر منظور شدہ اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں تک فلاحی فوائد کو وسعت دینے کے مطالبے پر حکومت نے کہا کہ جے ڈبلیو ایس۲۰۲۳ کے تحت منظور شدہ اور غیر منظور شدہ صحافیوں، بشمول آزاد صحافیوں، اور انتہائی مشکل حالات میں ان کے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
اس سوال پر کہ آیا حکومت نے ایک مخصوص اور غیر منقضی جموں و کشمیر صحافتی بہبود فنڈ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس کے لیے ایک نمائندہ انتظامی کونسل بھی ہو، حکومت نے کہا کہ فی الحال جموں و کشمیر میں صحافیوں کے لیے کوئی مخصوص بہبود فنڈ موجود نہیں ہے۔
حکومت نے مزید کہا کہ ملازم صحافیوں کی ملازمت کی شرائط، اجرت، گریجویٹی، پراویڈنٹ فنڈ، ملازمت کے دوران حادثے کے خلاف بیمہ اور طبی نگہداشت سے متعلق بنیادی قانونی ذمہ داریاں قابل اطلاق قوانین کے تحت ان کے آجروں یا میڈیا اداروں پر عائد ہوتی ہیں۔
حکومت نے مزید کہا کہ ایسے فنڈ کے قیام کے لیے اس کے حجم اور مالی وسائل کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینا، اہلیت اور آمدنی کے معیار طے کرنا، فنڈ کے انتظام کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کرنا اور محکمہ خزانہ کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔ (ویب ڈیسک)










