نئی دہلی، 24 ستمبر (یو این آئی) مرکزی حکومت نے گھریلو بازار میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے پیش نظر عام لوگوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے اہم خوردنی تیلوں پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی (بی سی ڈی) میں کمی کر دی ہے۔
صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی مرکزی وزارت نے جمعرات کو اعلان کیا کہ خام سورج مکھی کے تیل پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی (بی سی ڈی) کو 10 فی صد سے کم کر کے صفر کر دیا گیا ہے۔ خام سویا بین آئل اور خام پام آئل پر بی سی ڈی کو 10 فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے اسی تناسب سے متعلقہ ریفائنڈ خوردنی تیل پر بی سی ڈی کو بھی کم کیا ہے، جس سے خام اور ریفائنڈ خوردنی تیل کے درمیان درآمدی ڈیوٹی کا فرق 19.25 فیصد رہ گیا ہے۔
وزارت نے بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی میں کمی بین الاقوامی خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں لاگت اور خوردہ قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر کی گئی ہے۔ کسٹم ڈیوٹی درآمد شدہ خوردنی تیل کی لاگت کا ایک اہم جز ہے، اور اس وجہ سے مقامی مارکیٹ کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے۔
وزارت کی پریس ریلیز میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ کسٹم ڈیوٹی میں اس کمی سے مقامی مارکیٹ میں صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ کو کنٹرول کرنے میں بھی تعاون کرنا ہے۔
حکومت نے کہا کہ خام اور ریفائنڈ خوردنی تیل کے درمیان کسٹم ڈیوٹی کے فرق کو برقرار رکھا گیا ہے تاکہ ملکی ریفائننگ کی صلاحیت کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے اور ریفائنڈ خوردنی تیل کی ضرورت سے زیادہ درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ حکومت نے خوردنی تیل کی ایسوسی ایشنز اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک مشاورت بھی جاری کی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے مکمل فوائد صارفین تک پہنچائے جائیں۔
صنعت کے اسٹیک ہولڈرز سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ڈسٹری بیوٹر پرائس اور زیادہ سے زیادہ ریٹیل پرائس کو لاگت میں کمی کے مطابق نظر ثانی کریں۔ خوردنی تیل کی انجمنوں سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ممبران کو مشورہ دیں کہ وہ قیمتوں میں متعلقہ کمی کو بلا تاخیر نافذ کریں۔





