سرینگر؍۲۴ ستمبر
جموں و کشمیر کی معیشت میں باغبانی کا شعبہ بدستور ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے اور تقریباً۳۵ لاکھ افراد، جن میں لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ خاندان شامل ہیں، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ حکومت نے جمعرات کو قانون ساز اسمبلی کو یہ اطلاع دی۔
وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج، امدادِ باہمی اور محکمہ انتخابات جاوید احمد ڈار نے جمعرات کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ باغبانی کا شعبہ جموں و کشمیر کی معیشت کے اہم ستونوں میں شامل ہے اور آبادی کے ایک بڑے حصے کے روزگار اور معاش کا ذریعہ ہے۔
وزیر نے یہ بات ارکان اسمبلی پیرزادہ فاروق احمد شاہ، غلام محی الدین میر اور عرفان حفیظ لون کی جانب سے مشترکہ طور پر اٹھائے گئے سوال اور رکن اسمبلی شبیر احمد کلے کی جانب سے پوچھے گئے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔
جاوید ڈار نے کہا کہ تقریباً۳۵ لاکھ افراد، جن میں قریب۷ء۵ لاکھ خاندان شامل ہیں، براہِ راست یا بالواسطہ باغبانی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی مجموعی گھریلو پیداوار میں تقریباً۱۰ فیصد کا حصہ ڈالتا ہے اور اس سے سالانہ تقریباً۱۲ ہزار کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
ڈار نے مزید کہا کہ باغبانی کے شعبے میں روزگار کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ باغ کا ایک ہیکٹر رقبہ سالانہ تقریباً۴۰۰؍افرادی روزگار پیدا کرتا ہے، جس سے دیہی آبادی کے معاش اور جموں و کشمیر کی مجموعی معیشت میں نمایاں حصہ پڑتا ہے۔
فصلوں کی بیمہ کاری کے حوالے سے وزیر نے کہا کہ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) اس وقت جموں و کشمیر کے تمام۲۰؍ اضلاع میں نافذ ہے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ یہ اسکیم طلب پر مبنی ہے اور مقررہ رہنما اصولوں اور اہلیت کے معیار پر پورا اترنے والے کسانوں کی تعداد پر کوئی حد مقرر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تقریباً۱۳ء۹۸۵لاکھ کسان خاندان اس اسکیم سے استفادہ کرنے کے اہل ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق۸۶۸۷۴۱ء۳۷ ہیکٹر رقبہ اسکیم کے تحت لایا گیا ہے، جس سے۱۲۸۹۹۱۷ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے، جبکہ۳۷۲۱۳۴ دعوے درج کیے گئے ہیں جن میں تقریباً۲۲۱ء۷۱کروڑ روپے کی رقم شامل ہے۔
وزیر نے اعتراف کیا کہ مختلف علاقوں میں کسانوں اور باغ مالکان کو ژالہ باری، سیلاب اور شدید بارشوں سمیت قدرتی آفات کے باعث نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ڈار نے کہا کہ محکمہ اپنے فیلڈ اہلکاروں کے ذریعے فصلوں کے نقصانات کا جائزہ لیتا ہے اور قابلِ اطلاق اسکیموں اور رہنما اصولوں کے تحت جہاں قابلِ قبول ہو، وہاں امداد اور راحت فراہم کرتا ہے۔
وزیر نے کہا کہ پی ایم ایف بی وائی اطلاع شدہ فصلوں کے لیے ژالہ باری سمیت اطلاع شدہ قدرتی خطرات کے خلاف بیمہ تحفظ فراہم کرتی ہے۔
بنیادی بیمہ تحفظ کے تحت کھڑی فصلوں میں بوائی سے کٹائی تک پیداوار میں ہونے والے ان نقصانات کے خلاف رقبہ جاتی بنیاد پر بیمہ فراہم کیا جاتا ہے جو ایسے خطرات کے باعث ہوں جن کی روک تھام ممکن نہ ہو، جن میں خشک سالی، خشک موسم، سیلاب، پانی میں ڈوب جانا، وسیع پیمانے پر کیڑوں اور بیماریوں کے حملے، تودے گرنا، آسمانی بجلی سے لگنے والی قدرتی آگ، طوفان، ژالہ باری اور سمندری طوفان شامل ہیں۔ تاہم یہ تحفظ اطلاع شدہ فصلوں، علاقوں اور قابلِ اطلاق رہنما اصولوں سے مشروط ہے۔
زیر التوا دعووں کے معاملے پر وزیر نے کہا کہ حقیقی دعووں کے زیر التوا رہنے کی بڑی وجوہات میں آدھار کی تصدیق نہ ہونا، بینک کھاتوں کا بند ہونا، بینکوں کی جانب سے آدھار کو این پی سی آئی میپر سے منسلک نہ کرنا اور بینک کھاتوں کا مسدود یا منجمد ہونا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ناکام ادائیگیوں کے معاملات حل کرنے اور اہل زیر التوا دعووں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی مہم شروع کی ہے۔
وزیر نے کہا، ’’متاثرہ کسانوں میں سے تقریباً۶۰ فیصد سے پہلے ہی رابطہ کیا جا چکا ہے اور تصدیق و مزید ضروری کارروائی کے لیے روزانہ ان سے مطلوبہ دستاویزات حاصل کی جا رہی ہیں۔‘‘
ڈار نے ایوان کو یقین دلایا کہ کسانوں کو درپیش حقیقی مشکلات دور کرنے اور اہل مستحقین کو اسکیم کے تحت ان کے واجب فوائد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں۔
باغبانی پیداوار کی منتقلی کے حوالے سے، خصوصاً پھلوں کے عروج کے موسم کے دوران، جاوید ڈار نے کہا کہ حکومت نے مربوط اقدامات کے ذریعے ٹریفک اور رسد کے انتظام کو مضبوط بنایا ہے تاکہ پھلوں اور دیگر باغبانی پیداوار کی ہموار، بروقت اور بلا تعطل نقل و حرکت یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ قاضی گنڈ میں ایک مخصوص کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جو حقیقی وقت میں ٹریفک کی نگرانی، متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری اور کاشت کاروں، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو بروقت ہدایات فراہم کرنے کا کام انجام دے رہا ہے۔
وزیر نے کہا کہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور قومی شاہراہ۴۴ پر بوجھ گھٹانے کے لیے جہاں ممکن ہو مغل روڈ کو متبادل راستے کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ باغبانی پیداوار کی نقل و حمل کے لیے اننت ناگ اور بڈگام سے دہلی تک ریلوے پارسل، مال بردار اور فریٹ خدمات کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے استعمال کو فروغ دیا گیا ہے۔
جاوید ڈار نے کہا، ’’ان مربوط اقدامات کا مقصد نقل و حمل کے نیٹ ورک کو متنوع بنانا، قومی شاہراہ۴۴ پر انحصار کم کرنا اور پھلوں کی کٹائی کے عروج کے موسم میں پھلوں سے لدے گاڑیوں کے طویل عرصے تک پھنسے رہنے کے امکانات کو کم کرنا ہے۔‘‘
وزیر نے کسانوں اور باغ مالکان کے مفادات کے تحفظ، فصل بیمہ کے نظام کو مضبوط بنانے، حقیقی دعووں کی ادائیگی میں تیزی لانے اور جموں و کشمیر بھر میں باغبانی پیداوار کے لیے نقل و حمل، رسد اور منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ کثافت باغبانی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈی پی) کے تحت مختلف اسکیموں سے کسانوں کو فوائد حاصل ہو رہے ہیں اور منصوبوں میں انہیں۶۰فیصد سے زیادہ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)









