سرینگر؍۲۴ ستمبر
وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے آج قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ حکومت نے سرکاری طبی اداروں میں انتہائی نگہداشت کے اہم آلات کی دستیابی اور کارکردگی کو یقینی بنانے کو اولین ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) بارہمولہ میں وینٹی لیٹروں کی بروقت بحالی اور دیکھ بھال کے لیے انتظامیہ کی جانب سے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیر نے یہ بات رکن اسمبلی جاوید حسن بیگ کی جانب سے پیش کی گئی توجہ دلاؤ تحریک کا جواب دیتے ہوئے ایوان میں کہی۔
وزیر نے ایوان کو بتایا کہ جی ایم سی بارہمولہ میں۱۴ وینٹی لیٹر نصب ہیں، جن میں پانچ ہیملٹن، پانچ ایوولوشن اور چار آکسی وینٹ یونٹس شامل ہیں۔ یہ تمام غیر ملکی ساخت کے آلات ہیں، جن کے لیے خصوصی استعمالی اشیا اور مصدقہ اداروں کے ذریعے سروسنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام وینٹی لیٹروں کی فعالی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور اصلاحی اقدامات پہلے ہی شروع کر دیے گئے ہیں۔
موصوفہ نے کہا کہ حکومت تمام غیر فعال وینٹی لیٹروں کی جلد بحالی اور انتہائی نگہداشت کے آلات کے دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانے کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ انتہائی نگہداشت کی سہولیات مکمل طور پر فعال اور مریضوں کے لیے ہر وقت دستیاب رہیں۔ ہم نظام کو مضبوط بنانے، دیکھ بھال سے متعلق مسائل کو دور کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘
وزیر صحت نے کہا کہ عبوری اقدام کے طور پر محکمہ نے مطلوبہ استعمالی اشیا اور سروسنگ کی سہولت حاصل کرنے کے لیے متعلقہ کمپنی کے صدر دفتر سے براہِ راست بھی معاملہ اٹھایا ہے، تاکہ انتہائی نگہداشت کی خدمات کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
سکینہ نے مزید ایوان کو بتایا کہ جے کے ایم ایس سی ایل کے تحت میڈی سٹی ہیلتھ کیئر سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے پہلے سے جاری بایومیڈیکل آلات کی دیکھ بھال و انتظام پروگرام (بی ای ایم ایم پی) کا انتظام ختم ہو چکا ہے اور فی الحال ایک پائیدار اور مؤثر دیکھ بھال کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دینے کا معاملہ جے کے ایم ایس سی ایل کے زیر غور ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









