سرینگر؍۲۴ ستمبر
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج سول سیکریٹریٹ میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی مجوزہ صنعتی پالیسی۲۰۲۶۔۲۵کے مسودے کا جائزہ لیا۔
کمشنر سیکریٹری صنعت و تجارت نے مجوزہ پالیسی کے مسودے پر تفصیلی پیشکش دی اور اس کے بنیادی خدوخال، مقاصد اور پالیسی مرتب کرنے کے عمل سے اجلاس کو آگاہ کیا۔
وزیراعلیٰ نے مجوزہ پالیسی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور محکمہ کو ہدایت دی کہ حتمی پالیسی متوازن، عملی اور جموں و کشمیر کے صنعتی شعبے کی بدلتی ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ پالیسی کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے ساتھ اس کے فوائد مقامی کاروباری افراد، صنعت کاروں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صورت میں بھی سامنے آنے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ نئی پالیسی میں ایک جامع اور مسابقتی ترغیبی نظام شامل ہونا چاہیے، جس کے تحت ترجیحی شعبوں اور تیزی سے ابھرنے والے نئے صنعتی شعبوں کو خصوصی معاونت فراہم کی جائے۔
عمرعبداللہ نے مقامی صنعتوں کے لیے منڈی تک رسائی کو مزید بہتر بنانے، کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے اور مراعات کو مقامی سطح پر روزگار کے مواقع اور ہنرمندی کی ترقی سے مربوط کرنے پر بھی زور دیا۔
وزیراعلیٰ نے پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لیے مضبوط نظام وضع کرنے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے عمل کو آسان بنانے، کاروبار کرنے میں سہولت فراہم کرنے اور پالیسی کے مقاصد کی مؤثر تکمیل یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی۔
محکمہ صنعت و تجارت کو اجلاس میں ہونے والی تفصیلی بحث کی روشنی میں پالیسی کے مسودے کو مزید بہتر بنانے اور مقررہ طریقہ کار کے تحت حتمی شکل دینے کی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری، وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکریٹری اٹل ڈلو، وزیراعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیرج گپتا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری خزانہ شیلندر کمار، کمشنر سیکریٹری صنعت و تجارت ویرم جیت سنگھ، جے اینڈ کے بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو افسر امیتاوا چٹرجی اور محکمہ صنعت و تجارت سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
۔۔۔۔۔۔(ڈی آئی پی آر)









