متعدد ٹیلی ویژن چینلز، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارم بچوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے موجود ہیں: عمر عبداللہ
سرینگر؍۲۳ ستمبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر حکومت کے لیے تعلیم اور صحت عامہ کو اولین ترجیحات میں شامل رہنا چاہیے تاکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے بچے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔
شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی) سرینگر میں آلوہا نیشنل لیول کمپیٹیشن (این ایل سی)۲۰۲۶ یں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مقابلے میں شریک بچوں کی کارکردگی کو سراہا، خصوصاً پیچیدہ حسابی سوالات کو ذہنی طور پر حل کرنے کی ان کی صلاحیت کی تعریف کی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’آج ان بچوں نے مجھے واقعی شرمندہ کر دیا ہے۔ اگر آپ مجھے کیلکولیٹر بھی دے دیتے تو میں اتنی تیزی سے ان سوالات کے جواب نہیں دے پاتا جتنی تیزی سے ان بچوں نے دیے ہیں۔‘‘
اپنے اسکول کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاضی ان کے لیے ایک مشکل مضمون تھا اور اسے محض پاس کر لینا بھی ان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوا کرتی تھی۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’مجھے معلوم ہے کہ مجھے اسے کتنی بار پڑھنا پڑتا تھا۔ آج میں نے ان بچوں میں جو کچھ دیکھا ہے، اس سے مجھے یقین ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرنے کا انتخاب کریں گے، اس میں کامیاب ہوں گے۔ اللہ انہیں مزید کامیابیاں عطا کرے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج کے بچوں کو سابقہ نسلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ توجہ بٹانے والی چیزوں کا سامنا ہے، کیونکہ متعدد ٹیلی ویژن چینلز، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارم ان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے موجود ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ہمارے زمانے میں بچوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اتنا زیادہ مقابلہ نہیں تھا۔ ہمارے پاس ٹیلی ویژن پر بمشکل ایک چینل ہوا کرتا تھا۔ آج جب آپ کے پاس۳۰‘۴۰یا۵۰ چینلز ہوں اور پھر ایک فون بھی موجود ہو، تو بچے کی دلچسپی کسی ایک چیز میں برقرار رکھنا بہت مشکل ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے والدین اور اساتذہ کو بچوں کو اس مقام تک پہنچانے کا کریڈٹ دیا جہاں وہ قومی سطح کے مقابلوں میں کامیابی سے حصہ لے سکیں۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ تعلیم اور صحت ترقی کی بنیاد ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ ان دونوں شعبوں میں پیش رفت کے بغیر دیگر شعبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی اہمیت محدود ہو کر رہ جائے گی۔
انہوں نے کہا، ’’حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ان دو چیزوں پر توجہ دینا ہے کہ ہم تعلیمی نظام کو کیسے بہتر بنائیں اور صحت کے نظام کو کیسے بہتر کریں۔ صرف اسی صورت میں ہمارے بچے نہ صرف قومی سطح بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مقابلہ کر سکیں گے۔‘‘
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں طلبہ کے تعلیمی سلسلے کو برقرار رکھنے کی شرح میں بہتری کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خطہ ابتدائی اور مڈل اسکول کی سطح پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، تاہم طلبہ کے ہائی اور ہائر سیکنڈری جماعتوں میں پہنچنے کے ساتھ ہی تعلیمی سلسلہ برقرار رکھنے کی شرح میں کمی واقع ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کے تعلیمی سلسلے کو برقرار رکھنے کو مضبوط بنانا جموں و کشمیر کے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان زیادہ تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ بچوں کو اس بنیاد پر مختلف نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ وہ کس ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’یہ کسی نجی اسکول اور سرکاری اسکول کے درمیان مقابلہ نہیں ہے۔ بچے ہمارے ہیں، چاہے وہ سرکاری اسکول میں پڑھیں یا نجی اسکول میں، اور وہ جموں و کشمیر کا مستقبل ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ حکومت نجی اسکولوں کے لیے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے کام کر رہی ہے، خصوصاً اجازت ناموں اور منظوریوں سے متعلق رکاوٹوں اور تاخیر کو کم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسکول اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں بھی طریقہ کار کو آسان بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے نجی یونیورسٹیوں کے لیے ایک بل منظور کیا ہے تاکہ طلبہ کو جموں و کشمیر کے اندر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے طلبہ کو مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نئے پیش رفت کو نصاب اور تعلیمی پروگرام میں شامل کیا جانا چاہیے۔
آلوہا مقابلے کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر، دیگر ریاستوں اور بیرون ملک سے بچوں کی شرکت حوصلہ افزا ہے۔انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے دور دراز علاقوں کے بچوں کے ساتھ کرناٹک، راجستھان اور دنیا کے دیگر حصوں سے شرکاء اس مقابلے میں حصہ لینے کے لیے کشمیر آئے ہیں۔ یہ ہمارے لیے بہت امید پیدا کرتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ طلبہ کی شرکت اور کارکردگی نے آنے والے برسوں میں اسکولوں، طلبہ اور آلوہا کے درمیان مزید مضبوط تعاون کے امکانات کو ظاہر کیا ہے۔
عمر عبداللہ نے شرکاء کے جوش و خروش کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے شاذ و نادر ہی ایس کے آئی سی سی کے ہال کو اتنے زیادہ نوجوان انعام یافتگان سے بھرا ہوا دیکھا ہے۔انہوں نے طلبہ سے کہا، ’’آپ سب فاتح ہیں، چاہے آپ یہاں سے ٹرافی لے کر گئے ہوں یا نہیں۔ یہاں موجود ہونا اور مقابلے میں حصہ لینے کے قابل ہونا ہی ایک کامیابی ہے۔‘‘ انہوں نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کو مبارکباد دی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت سرکاری اسکولوں میں ذہنی حساب اور اس طرح کے دیگر اقدامات متعارف کرانے کے امکان کا جائزہ لے گی تاکہ طلبہ کو مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’آج میں نے جو کچھ دیکھا ہے، اس سے مجھے یقین ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر کا مستقبل بہت روشن ہوگا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔








