نئی دہلی، 22 ستمبر (یواین آئی) کانگریس نے شری رام مندر میں چڑھاوا چوری کے معاملے میں تین ماہ بعد بھی چارج شیٹ داخل نہ ہونے کو سرغناؤں کو بچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کی ڈبل انجن حکومتیں ایس آئی ٹی کے نام پر بڑے چوروں کو بچانے کی کارروائی کر رہی ہیں۔
کانگریس کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کو سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر کہا کہ چڑھاوا چوری کے معاملے میں تحقیقات شروع ہوئے تین ماہ پورے ہونے میں صرف تین دن باقی ہیں لیکن ابھی تک ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے۔ اگر 25 ستمبر تک چارج شیٹ داخل نہ ہوئی تو چڑھاوا چوری کے معاملے کے چھوٹے کرداروں کی ضمانت کا راستہ صاف ہو جائے گا۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کے عوام کو ایسی ایس آئی ٹی اور ایسی کسی سرکاری چارج شیٹ پر بھروسہ نہیں ہے جس میں بڑی مچھلیوں کو بچانے کے خدشات برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ کچھ بھی رپورٹ کرنے کے قابل نہیں ہے، ان کی اپنی تحقیقات اب تسلیم کر رہی ہے کہ چڑھاوا چوری 70 نہیں بلکہ سی سی ٹی وی میں 105 بار سامنے آ چکی ہے جسے وہ چاہ کر بھی مسترد نہیں کر پا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چارج شیٹ داخل کرنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے، یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے اور معاملہ بڑے چوروں اور ان کے سرپرستوں سے توجہ ہٹانے کا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایودھیا کے بھگوان شری رام مندر میں منظم طریقے سے کی گئی چڑھاوا چوری کے سرغناؤں کو کون اور کیوں بچا رہا ہے؟ اس سنگین معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی اور چڑھاوا چوری کے ملزمان کی مدد پر بھی مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ عوام کے سیدھے سوالات ہیں کہ بڑی بڑی مچھلیوں پر اب تک کارروائی کیوں نہیں ہوئی اور ان سے سخت پوچھ گچھ کب ہوگی؟ اصل گنہگاروں کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات سے کون اور کیوں بچنا چاہتا ہے اور ٹرسٹ کو اب تک تحلیل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ٹی کے نام پر بی جے پی کی ڈبل انجن حکومتیں بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ چڑھاوا چوری کے ملزمان کو بچانے کی کارروائی کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوال اب صرف ملزمان کا نہیں بلکہ ان لوگوں کی جوابدہی کا بھی ہے جن کی نگرانی میں یہ سب کچھ ہوا۔ وزیر اعظم کو عقیدت سے جڑے اس سنگین معاملے پر خاموشی کے لئے جواب دینا ہوگا۔
کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ پورے نظام کا فارنسک آڈٹ کرایا جائے، ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ چڑھاوا بھگوان شری رام کے نام پر آیا تھا اور جو لوگ اس کے انتظام و انصرام اور منتظمین کے انتخاب کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں، انہیں چڑھاوا چوری کی ذمہ داری بھی لینی ہوگی۔







