نئی دہلی، 22 ستمبر (یو این آئی) کانگریس نے آسام میں انتخابی مہم کے دوران پارٹی کے آسام انچارج اور چھتیس گڑھ کے سابق وزیرِ اعلیٰ بھوپیش بگھیل نیز ریاستی کانگریس صدر اور پارٹی کے لوک سبھا رکن گورو گگوئی کے قافلے پر ہوئے حملے کو شرمناک اور منصوبہ بند قرار دیتے ہوئے اس پورے معاملے کی آزادانہ جانچ کر کے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ اور پارٹی کے جموں و کشمیر کے انچارج نصیر حسین نے منگل کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آسام کے نوگاؤں پارلیمانی حلقے کے سماگوڑی اسمبلی حلقے میں کانگریس رہنماؤں کے قافلے پر پتھراؤ کے ساتھ نقاب پوش حملہ آوروں نے ہاکی اسٹک، کرکٹ بیٹ اور لوہے کی راڈ کا استعمال کیا نیز کچھ گاڑیوں پر تیزاب بھی پھینکا۔ انہوں نے کہا کہ پتھراؤ میں کانگریس سکریٹری منوج چوہان کی پسلیوں میں شدید چوٹیں آئی ہیں اور انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قافلے میں دھوبری کے رکنِ پارلیمنٹ رقیب الحسین، آسام اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر واجد علی چودھری، کانگریس سکریٹری منوج چوہان، ریاستی مہیلا کانگریس صدر میرا بورٹھاکر، امیدوار سبامونی بورا اور کئی اراکینِ اسمبلی شامل تھے۔ ریاستی کانگریس صدر نے حملے سے پہلے پولیس کو اس خدشے سے آگاہ کیا تھا، کیونکہ ایک دن پہلے بھی اسی علاقے میں ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔
مسٹر حسین نے کہا کہ حملے میں دو صحافیوں بھاسکر داس اور گلزار حسین کے ساتھ بھی مار پیٹ کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس طرح کے واقعات کا مقصد اپوزیشن رہنماؤں، کارکنوں اور ووٹروں میں خوف پیدا کرنا نیز پولنگ فیصد کو متاثر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرا کر ووٹروں کو ووٹنگ سے دور رکھنا بھی ‘ووٹ چوری’ کی ایک شکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے الیکشن کمیشن سے نوگاؤں کے ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرنے، ذمہ دار حکام کا تبادلہ اور معطلی کرنے نیز حملے میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے اور پہلے ہوئے ایسے واقعات کی آزادانہ جانچ کرائی جانی چاہیے نیز جانچ رپورٹ اور ایف آئی آر عام کی جانی چاہیے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ووٹنگ ہونے تک امیدواروں، پارٹی کارکنوں، اپوزیشن رہنماؤں اور صحافیوں کو سکیورٹی دی جانی چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے آسام میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات یقینی بنانے کے لیے کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کو واقعے میں ملوث لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے کارروائی کرنی چاہیے۔






