سرینگر؍۲۱ستمبر
زیادہ تر بھارتیوں کے لیے نیا آئی فون خریدنے کا مطلب ایپل اسٹور کا رخ کرنا، آن لائن فروخت کا انتظار کرنا یا بینک کی رعایت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، اس مرتبہ ایپل کے بعض شائقین کے لیے خریداری کا سفر بین الاقوامی ہوگیا ہے۔
وہ آئی فون۱۸ پرو اور آئی فون۱۸ پرو میکس خریدنے کے لیے دبئی کا رخ کررہے ہیں، کیونکہ بھارت کے مقابلے میں قیمت کا فرق اتنا زیادہ ہے کہ سفر کے اخراجات کے باوجود خریداری پر غور کیا جاسکتا ہے۔ بعض صورتوں میں خریداروں کا کہنا ہے کہ ہوائی سفر اور ویزا کی لاگت شامل کرنے کے بعد بھی دبئی سے خریداری سستی پڑ سکتی ہے۔
قیمت میں فرق خاصا نمایاں ہے۔ متحدہ عرب امارات میں آئی فون۱۸ پرو کی ابتدائی قیمت۵۰۹۹ درہم ہے۔ حالیہ شرحِ مبادلہ کے مطابق یہ تقریباً۱ء۳۲لاکھ سے۱ء۳۳ لاکھ روپے بنتی ہے۔بھارت میں اسی۲۵۶ جی بی آئی فون۱۸ پرو کی ابتدائی قیمت ایک لاکھ ۶۴ہزار۹۰۰ روپے ہے۔ اس طرح سفر اور دیگر اخراجات سے قبل تقریباً۳۳ ہزار روپے کا فرق پیدا ہوجاتا ہے۔
آئی فون۱۸ پرو میکس کی متحدہ عرب امارات میں ابتدائی قیمت۵۴۹۹ درہم ہے، جو تقریباً۱ء۴۲ لاکھ سے۱ء۴۴ لاکھ روپے بنتی ہے۔ بھارت میں اس کی ابتدائی قیمت ایک لاکھ ۷۹ہزار۹۰۰ روپے ہے۔ یوں دونوں ممالک کی قیمتوں میں تقریباً۳۸ ہزار روپے کا فرق ہے۔ بعض خریداروں کے لیے یہ فرق دبئی کے ہوائی سفر کو بھی حساب کا حصہ بنانے کے لیے کافی ہے۔
یہی حساب بعض بھارتی خریداروں نے اس وقت لگایا جب نئے آئی فونز کی فروخت۱۸ ستمبر کو دبئی مال کے ایپل اسٹور میں شروع ہوئی۔
ممبئی کے رہنے والے امن سولنکی نے گلف نیوز کو بتایا کہ قیمت میں فرق سفر کو قابلِ جواز بناتا ہے۔ گلف نیوز کے مطابق سولنکی نے کہا، ’’ہوائی ٹکٹ اور ویزا شامل کرنے کے باوجود یہ سستا ہے۔‘‘انہوں نے متعدد فون خریدنے کی صورت میں تقریباً۵۰ ہزار سے۶۰ ہزار روپے کے فرق کی جانب بھی اشارہ کیا، جس سے یہ حساب مزید فائدہ مند ہوجاتا ہے۔ ایک فون پر ہونے والی بچت ہر مرتبہ بھارت سے دبئی جانے کے مکمل اخراجات پورے نہیں کرتی، لیکن جو شخص پہلے ہی متحدہ عرب امارات کا سفر کررہا ہو یا ایک سے زیادہ فون خرید رہا ہو، اس کے لیے صورت حال تیزی سے بدل سکتی ہے۔
کیرالا سے تعلق رکھنے والے ایک اور بھارتی خریدار محمد سید نے آئی فون خریدنے سے قبل بھارت اور متحدہ عرب امارات کی قیمتوں کا موازنہ کیا۔ وہ پہلے ہی دبئی میں اپنے خاندان سے ملنے کے لیے موجود تھے۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات میں قیمتوں کا موازنہ کرنے کے بعد انہوں نے دبئی سے آئی فون۱۸ پرو میکس خریدنے کا فیصلہ کیا۔
سید نے گلف نیوز کو بتایا، ’’میں یہاں اپنے خاندان سے ملنے بھی آیا تھا، لیکن بھارت اور متحدہ عرب امارات میں قیمت کا موازنہ کرنے کے بعد یہاں سے فون خریدنے کا فیصلہ کیا۔‘‘ان کے مطابق، ’’نئے آئی فون پر میرے تقریباً۲۰ ہزار سے۳۰ ہزار روپے بچ رہے ہیں۔ ٹیکس قیمت میں واقعی بہت اضافہ کردیتے ہیں۔‘‘
ٹیکس قیمت کے فرق کی ایک بڑی وجہ ہے۔ متحدہ عرب امارات میں۵ فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس نافذ ہے۔ دوسری جانب بھارت میں اسمارٹ فونز کے لیے ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹی کا الگ نظام ہے، جو حتمی خوردہ قیمت کو متاثر کرتا ہے۔
ڈیڑھ لاکھ روپے سے زیادہ مالیت والے پریمیم فون کے معاملے میں ٹیکس اور قیمتوں کے ڈھانچے میں نسبتاً بڑا فرق بھی دسیوں ہزار روپے کے فرق میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
ایپل خود متحدہ عرب امارات میں آئی فون۱۸ پرو کی ابتدائی قیمت۵۰۹۹ درہم اور پرو میکس کی۵۴۹۹ درہم درج کرتا ہے۔ دونوں ماڈل۲۵۶ جی بی،۵۱۲ جی بی، ایک ٹی بی اور دو ٹی بی اسٹوریج آپشنز میں دستیاب ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ قیمت کا فرق کسی سستے یا پرانے ماڈل کی وجہ سے نہیں ہے۔ موازنہ دونوں مارکیٹوں میں فروخت ہونے والے ایک ہی نئے پرو ماڈلز کے درمیان ہے۔
دبئی کے علاوہ بھی نسبتاً سستے متبادل موجود ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں اس وقت ملائیشیا آئی فون۱۸ پرو کے لیے سب سے سستی مارکیٹ ہے، جہاں۲۵۶ جی بی ماڈل کی قیمت تقریباً۱۳۵۰ ڈالر ہے۔ اس کے بعد تھائی لینڈ تقریباً۱۴۶۸ ڈالر، سنگاپور۱۴۹۲ ڈالر، ویتنام۱۵۰۰ ڈالر اور فلپائن۱۵۰۹ ڈالر کے ساتھ شامل ہیں۔
بھارتی مسافروں کے لیے یہ حساب اس لیے مزید دلچسپ ہوجاتا ہے کہ ملائیشیا اور تھائی لینڈ اس وقت مختصر سیاحتی دوروں کے لیے پیشگی ویزا کے بغیر داخلے کی اجازت دیتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص پہلے ہی چھٹی گزارنے کا منصوبہ بنا رہا ہو، وہ اپنے سفر کو آئی فون کی خریداری کے موقع میں بھی تبدیل کرسکتا ہے۔
ہوائی کرایے، رہائش اور دیگر سفری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے، چند روزہ بیرونِ ملک سفر اور آئی فون کی خریداری کا مجموعی خرچ بعض صورتوں میں بھارت میں صرف فون خریدنے پر آنے والی لاگت کے قریب ہوسکتا ہے۔ تاہم، حقیقی بچت کا انحصار مسافر کے مجموعی سفری اخراجات اور عائد ہونے والے کسٹمز قوانین پر ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










