نئی دہلی، 17 ستمبر (یو این آئی) کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی حکومت نے 1320 میگاواٹ کے تھرمل پاور پروجیکٹ کے لیے پہلے پبلک سیکٹر کے یو جے وی این اور ٹی ایچ ڈی سی کے مشترکہ اقدام کو منسوخ کیا اور بعد میں ٹینڈر کی 86 میں سے 84 شرطیں بدل کر اڈانی پاور کو اسی پروجیکٹ کو دینے کا راستہ صاف کیا۔
کانگریس مواصلاتی شعبہ کے سربراہ پون کھیڑا نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ 2024 میں وزیراعلیٰ دھامی نے کوئلہ کی وزارت کو تجاویز بھیجی تھیں کہ یو جے وی این اور ٹی ایچ ڈی سی کے مشترکہ اقدام کے تحت 1320 میگاواٹ کا تھرمل پاور پلانٹ لگایا جائے اور اس کے لیے کوئلہ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً چھ مہینے بعد کوئلہ کی وزارت سے پروجیکٹ کو منظوری مل گئی، لیکن 16 جنوری 2025 کو اتراکھنڈ حکومت نے اچانک اس مشترکہ اقدام کو منسوخ کر دیا۔ مسٹر کھیڑا نے کہا کہ مشترکہ اقدام کی طرف سے پروجیکٹ کو وقت پر پورا کرنے کی تیاری کی گئی تھی اور پروجیکٹ سے متعلق پیشکشیں بھی دی جانے لگی تھیں، لیکن اچانک اتراکھنڈ حکومت نے پبلک سیکٹر کے اداروں کی صلاحیت کو سوالوں کے گھیرے میں ڈالتے ہوئے اسے یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیا کہ ادارہ وقت پر کام پورا نہیں کر پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد تین فروری 2025 کو ٹینڈر نکالا گیا اور ٹینڈر جاری کرنے والی اتراکھنڈ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی سی ایل) نے 86 میں سے 84 شرطوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا، جنہیں بعد میں بدل دیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بدلی گئی شرطوں میں 1320 میگاواٹ بجلی ایک ہی بولی دہندہ سے لینے اور پلانٹ ملک میں کہیں بھی قائم کیے جانے کی اجازت جیسی شرطیں شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی مدت بھی بڑھائی گئی اور ٹیرف میں فکسڈ چارج کی حد 70 سے بڑھا کر 75 فیصد کر دی گئی۔ اس سے اڈانی پاور سے 25 سال تک بجلی خریدنے کا راستہ صاف ہوا۔ مسٹر کھیڑا نے کہا کہ اتراکھنڈ کابینہ نے 25 اگست کو اڈانی پاور سے 1320 میگاواٹ کوئلہ پر مبنی بجلی 25 سال تک خریدنے کی تجویز کو منظوری دی ہے اور طے شدہ ٹیرف 5.746 روپے فی یونٹ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پروجیکٹ کے لیے بجلی کی پیداوار کا پلانٹ چھتیس گڑھ میں قائم کیا جائے گا اور کوئلہ کی مائننگ، بجلی کی پیداوار اور اس کی نقل و حمل سے لے کر بجلی کی فروخت تک کا پورا انتظام اڈانی گروپ سے جڑا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ”پیسہ اتراکھنڈ کا، کوئلہ چھتیس گڑھ کا اور فائدہ اڈانی کا” والی صورتحال بنائی گئی ہے۔ مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ٹینڈر کی بدلی گئی شرطوں کے تحت یونٹ-ایک کے لیے 42 مہینے اور یونٹ-دو کے لیے 48 مہینے کی تعمیراتی مدت رکھی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان تبدیلیوں سے پروجیکٹ کے لیے ایک خاص کمپنی کے موافق حالات تیار کیے گئے۔ انہوں نے اسے ”بی جے پی کی 420 ٹیم” کے ذریعہ میچ جتوانے کے لیے پچ تیار کرنے جیسا بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت نے پہلے ریاست کے لیے مشترکہ اقدام بنا کر بجلی پروجیکٹ لگانے کی پہل کی تھی اور مرکز سے کوئلہ فراہم کرنے کی درخواست بھی کی تھی، لیکن بعد میں اسی تجویز کو منسوخ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ٹینڈر کی شرطوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی ہوئی اور بالآخر اڈانی پاور سے بجلی خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مسٹر کھیڑا نے اس پورے واقعہ پر طنز کرتے ہوئے کہا، ”ایک بار پھر گوتم شرنم گچھامی” ہو گیا۔




