واشنگٹن، 17 ستمبر (یواین آئی) امریکی فیڈرل ریزرو نے "طویل وقت سے جاری اونچی افراطِ زر” کو مدِنظر رکھتے ہوئے پالیسی شرحِ سود کے دائرے میں 0.25 فیصد کا اضافہ کر دیا ہے۔
فیڈ کے دو روزہ اجلاس کے بعد بدھ کو جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف اوایم سی) کے تمام 12 ارکان نے شرحِ سود میں ایک چوتھائی فیصد اضافہ کر کے اسے 3.75 فیصد سے 4 فیصد کے درمیان کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ نئی شرحیں 17 ستمبر سے نافذ العمل ہوں گی۔
سال 2023 کے بعد فیڈ نے پہلی بار شرحِ سود میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل شرحِ سود کا دائرہ 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے فیڈ سے شرحِ سود میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن فیڈ نے متفقہ طور پر ان کے مطالبے کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ فیڈ کے فیصلے کے بعد مسٹر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں شرحِ سود میں کمی کا مطالبہ دہرایا اور جلد ایسا کرنے کا مشورہ دیا۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیڈ نے ایک سنجیدہ فیصلہ کیا ہے، لیکن یہ ضروری تھا۔ انہوں نے کہا، "بالکل واضح حقیقت یہ ہے کہ افراطِ زر کافی زیادہ ہے، اور یہ طویل عرصے سے ہے۔”
فیڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افراطِ زر کی شرح اونچی بنی ہوئی ہے۔ آج (بدھ) کے فیصلے سے اسے کمیٹی کے 2 فیصد کے ہدف کی طرف واپس لانے میں مدد ملے گی۔ شرحِ سود بڑھانے کے فیصلے کے بعد امریکی شیئر بازاروں میں گراوٹ دیکھی گئی۔ ڈاؤ جونز 1.21 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.45 فیصد گر گیا۔
امریکہ میں ریٹیل افراطِ زر کی شرح کرونا دور کے بعد اس سال پہلی بار 3 فیصد سے اوپر رہنے کا پورا امکان ہے۔ یہ سال 2024 میں 2.6 فیصد اور 2025 میں 2.8 فیصد رہی تھی۔ فیڈ نے اس سال اس کے 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔ اس سے قبل جون میں اس کے 3.6 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
فیڈ کے معاشی تخمینوں میں سال 2026 کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں نمو کا تخمینہ 2.2 فیصد سے بڑھا کر 2.3 فیصد اور بے روزگاری کی شرح کا تخمینہ 4.3 فیصد سے گھٹا کر 4.1 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان دونوں محاذوں پر بہتری نظر آ رہی ہے، لیکن مہنگائی اب بھی تشویش کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ فیڈ نے اپنے بیان میں جیوپولیٹیکل غیر یقینی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔






