صنعا، 17 ستمبر (یو این آئی) امریکہ نے بدھ کو ایک بار پھر یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد اور حوثی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی۔ رائٹرز کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں عمان میں حوثی نمائندوں سے براہِ راست مذاکرات بھی کیے تھے۔
یمنی حکومت کی فورسز نے کہا کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے المخا کے اطراف حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جبکہ سرکاری فورسز نے مأرب میں ڈرون حملے کیے۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مأرب کے اوپر سعودی ایف-15 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرنے والے 2 حکام کے مطابق سعودی عرب کے پاس میزائلوں کو روکنے والے انٹرسیپٹرز کی تعداد کم ہو رہی ہے اور اس نے علاقائی اور مغربی اتحادیوں سے مدد طلب کی ہے۔ سعودی عرب نے فرانس، پاکستان، مصر اور برطانیہ سے حوثیوں کے حملوں کے خلاف دفاع کے لیے فضائی دفاعی معاونت تعینات کرنے کی درخواست کی ہے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ سعودی عرب کے اہم اتحادی اور ہتھیاروں کے بڑے سپلائر امریکہ کے پاس بھی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اپنے انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ کم ہوتا جا رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے الجزیرہ کو بتایا کہ امریکہ یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان صورتحال کی ’’قریب سے نگرانی‘‘ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کے سعودی شراکت داروں کے ساتھ ’’طویل عرصے سے فوجی تعلقات‘‘ ہیں اور ’’آج یہ تعلقات عملی شکل میں نظر آ رہے ہیں‘‘۔
واشنگٹن کی جانب سے سعودی مہم میں مدد کے باوجود رائٹرز سے بات کرنے والے 3 ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں عمان میں حوثی نمائندوں سے براہِ راست مذاکرات کیے تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات مسقط میں امریکی سفارتخانے میں عمانی حکومت کی معاونت سے ہوئی۔
ذرائع نے بتایا کہ مسقط میں ہونے والی ملاقات کے دوران حوثیوں نے امریکی حکام کو بتایا کہ ان کا امریکی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ امریکہ کے ساتھ 2025 کی جنگ بندی کے پابند ہیں۔
دریں اثنا، یمن کے لیے امریکہ کے اعلیٰ سفارتی عہدیدار نیل ہوپ نے یمنی وزیر خارجہ عفراء الزبّا سے کہا کہ امریکہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی ’’مضبوط حمایت‘‘ جاری رکھے گا۔
یمن میں امریکی سفارتخانے نے ایکس پر جاری پوسٹ میں ہوپ کے حوالے سے کہا، ’’امریکہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی جارحیت کے خلاف یمن کی حکومت اور اس کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘
یمنی حکومت کی فوج نے کہا کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے جنوب مغربی ساحلی شہر المخا کے اطراف حوثیوں کی چوکیوں اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنایا۔ حکومت کی فوج نے سوشل میڈیا پر ایک الگ بیان میں کہا کہ اس نے شمالی مأرب گورنری میں حوثی فورسز کے خلاف ڈرون حملے بھی کیے۔
بدھ کی شام حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ’’سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تعز، مأرب اور حدیدہ صوبوں کو نشانہ بناتے ہوئے 40 فضائی حملے کیے۔‘‘
حوثی گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے جواب میں اس نے خمیس مشیط ایئربیس اور سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں ایک تیل تنصیب کو نشانہ بنایا۔
حوثیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے وسطی صوبے مأرب کے اوپر ’’مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل‘‘ کے ذریعے سعودی لڑاکا طیارہ مار گرایا۔
الجزیرہ کے یمن میں نمائندے یوسف موری نے کہا کہ سعودی لڑاکا طیاروں کا مار گرایا جانا ’’طاقت کے توازن میں تبدیلی کا واضح اشارہ ہو سکتا ہے‘‘ کیونکہ ’’سعودی عرب مختلف صوبوں میں حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کی اپنی صلاحیت پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔‘‘






