نئی دہلی، 16 ستمبر (یو این آئی) حکومت نے تین لاکھ روپے تک کی کم قیمت والی برآمداتی کھیپوں کے لیے رجسٹریشن و ممبرشپ سرٹیفکیٹ (آر سی ایم سی) کی ضرورت سے چھوٹ کا نظام شروع کیا ہے۔
قانون کی نظر میں ‘معمولی مقدار’ پر رجسٹریشن سے چھوٹ کے اس اقدام کا مقصد نئے اور چھوٹے برآمد کنندگان پر تعمیل کا بوجھ کم کرنا اور ڈاک، کوریئر اور دیگر ابھرتے ہوئے ذرائع کے ذریعے برآمدات کو آسان بنانا ہے۔
وزارت تجارت و صنعت کی ایک ریلیز کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) نے فارن ٹریڈ پالیسی، 2023 کے پیرا 2.57 میں ترمیم کی ہے۔ اس کے تحت فروخت کنندہ کے ذریعے مال کو مخصوص بندرگاہ سے جہاز پر لادنے تک کی ذمہ داری کے ساتھ تین لاکھ روپے تک کی کھیپ پر آر سی ایم سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ فی الحال فارن ٹریڈ پالیسی کے تحت یہ سرٹیفکیٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسلوں یا کماڈیٹی بورڈز کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں۔ فارن ٹریڈ پالیسی کے تحت عام طور پر برآمد کنندہ کو ایسے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ تین لاکھ سے زائد قیمت والی برآمداتی کھیپوں کے لیے، جہاں لاگو ہو، درست آر سی ایم سی کی ضرورت برقرار رہے گی۔
وزارت کی ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں (2021-22 سے 2025-26) کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ کم قیمت والی برآمدات، شپنگ بلوں کی تعداد میں اہم حصہ رکھتی ہیں، لیکن کل برآمدی قیمت میں ان کا تعاون بہت کم ہے۔ اس دوران 3,000 ڈالر قیمت تک کی برآمداتی کھیپیں کل شپنگ بلوں کا 43 فیصد تھیں اور ملک کی تجارتی اشیاء کی برآمدات میں قیمت کے لحاظ سے ان کا حصہ صرف 0.86 فی صد رہا ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ اس چھوٹ سے بڑی تعداد میں کم قیمت کے برآمداتی لین دین کو فائدہ ملنے کی امید ہے، جب کہ کل برآمدات کی قیمت پر اس کا اثر بہت معمولی رہے گا۔









