نئی دہلی، 16 ستمبر (یو این آئی) مرکزی وزیرِ توانائی منوہر لال نے امریکہ کے ہیوسٹن میں منعقدہ جی 20 انرجی ابینڈنس ورکنگ گروپ کی میٹنگوں میں شرکت کرتے ہوئے ہندوستان کی توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔
وزارتِ توانائی نے آج بتایا کہ منوہر لال نے منگل کے روز ہیوسٹن میں منعقدہ جی 20 انرجی ابینڈنس ورکنگ گروپ کی میٹنگوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے توانائی کی سلامتی، کفایتی بیس لوڈ اور ریگولیٹری کارکردگی سے متعلق نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کی توانائی کے شعبے میں پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں کو سامنے رکھا۔ انہوں نے گروپ-1 اور گروپ-2 کے تحت اپنے خیالات پیش کیے اور توانائی کے تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ریاستہائے متحدہ امریکہ اور کناڈا کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ گفتگو کی۔
منوہر لال نے محفوظ اور مضبوط توانائی کے نظام کی تعمیر میں ہندوستان کی تیز رفتار پیش رفت پر روشنی ڈالی اور 552 گیگاواٹ کی نصب شدہ صلاحیت، 50 فیصد سے زائد غیررکازی توانائی کے حصے اور شمسی توانائی، اسٹوریج، ایٹمی توانائی نیز صاف ستھری کھانا پکانے کی سہولیات میں اب تک کی اہم پیش رفت کا ذکر کیا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی غیر جانبدار، جامع توانائی کے راستوں اور آئی ایس اے، اوسوووگ اور گلوبل بائیو فیولز الائنس کے ذریعے عالمی تعاون کے تئیں ہندوستان کے عزم پر زور دیا۔
انہوں نے نیشنل سنگل ونڈو سسٹم، ‘پریویش اور پی ایم گتی شکتی جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منظوری کے عمل کو ہموار بنانے اور ریگولیٹری پیش گوئی کو مضبوط کرنے کے لیے ہندوستان کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے بروقت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے موثر اجازت کے عمل کو ضروری قرار دیا اور صلاحیت کی تعمیر نیز ریگولیٹری جدید کاری میں جی 20 تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔
مرکزی وزیر نے امریکی محکمہ توانائی کے وزیر کرس رائٹ سے ملاقات کی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے ہندوستان کے برقی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے ایٹمی توسیع کے منصوبے پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں فریقوں نے صاف ستھری توانائی، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، امریکہ-ہندوستان توانائی سلامتی شراکت داری کے تحت تعاون کی ترجیحات کی توثیق کی۔
منوہر لال نے کناڈا کے وزیرِ توانائی و قدرتی وسائل کے پارلیمانی سکریٹری کوری ہوگن سے بھی ملاقات کی اور توانائی کی کارکردگی، کم اخراج والی ٹیکنالوجیز اور ‘سمُدرَ منتھن’ اسکیم کے تحت آف شور تلاش میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے کناڈیائی کمپنیوں کو ہندوستان کے بڑھتے ہوئے ایکسپلوریشن اور پروڈکشن سیکٹر میں حصہ لینے اور ابھرتی ہوئی توانائی ٹیکنالوجیز میں اپنی شرکت بڑھانے کی ترغیب دی۔
مرکزی وزیر نے توانائی کے وسائل کی تنوع، صاف ستھری اور قابلِ اعتماد بیس لوڈ صلاحیت کی توسیع اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو تیزی سے اپناکر قومی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔









