’ احتجاج جمہوری حق ہے، تاہم میری حکومت این ایچ ایم ملازمین کے مطالبات پر احتجاج ختم ہونے کے بعد ہی بات کرے گی‘
سرینگر/۱۶ستمبر
جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے لداخ کی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ زمین اور ملازمتوں کے حوالے سے آئینی تحفظات کی اپنی جدوجہد کے سلسلے میں مرکز کی زبانی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہ کرے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر خود بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی زبانی یقین دہانیوں کا شکار رہا ہے۔
پلوامہ ضلع میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، جہاں وہ ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے گئے تھے، عمر عبداللہ نے کہا، ’’لداخ کے اپنے مسائل ہیں اور ہمارے مسائل الگ ہیں۔ تاہم، ایک دوست اور خیرخواہ کی حیثیت سے میں لداخ کی قیادت کو صرف یہی مشورہ دے سکتا ہوں کہ جب تک مرکزی حکومت کی یقین دہانی تحریری اور باضابطہ طور پر دستخط شدہ شکل میں سامنے نہ آئے، اس کی کسی زبانی یقین دہانی پر بھروسہ نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہم خود اس کا شکار رہے ہیں۔ ہمیں بھی زبانی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اسمبلی انتخابات کے فوراً بعد ریاستی درجہ بحال کردیا جائے گا۔ اس وعدے کو تقریباً دو سال گزر چکے ہیں، لیکن وہ وعدہ اب تک پورا نہیں ہوا۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا، ’’اس لیے لداخ اور کرگل کے رہنماؤں سے میری عاجزانہ درخواست ہے کہ جب تک انہیں مرکز کی جانب سے کچھ تحریری شکل میں، شاید باقاعدہ حلف نامے کی صورت میں، موصول نہ ہوجائے، وہ مرکز کی زبانی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد اور مختص فنڈز کے استعمال کے حوالے سے کہا کہ پلوامہ جموں و کشمیر کے تمام۲۰؍اضلاع میں ممکنہ طور پر پانچ بہترین کارکردگی والے اضلاع میں شامل ہوگا۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’ڈپٹی کمشنر اور ان کی ٹیم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب میں نے صرف یہ کہا ہے کہ موجودہ مالی سال کے کام کے موسم میں باقی دو سے تین ماہ کے دوران وہ زیادہ سے زیادہ فنڈز استعمال کرنے کے لیے مزید کوشش کریں۔ اگر اس کے بعد دوبارہ تقسیم کی ضرورت پڑی تو، ان کا پورا بجٹ استعمال ہونے کے بعد، میں دوسرے ذرائع سے اضافی فنڈز کا انتظام کرسکتا ہوں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضلع کے ہر حلقے میں ترقیاتی سرگرمیاں ہموار انداز میں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’پلوامہ ضلع میں تقریباً۱۰۰کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کا بدھ کے روز یا تو افتتاح کیا گیا یا ان کے سنگِ بنیاد رکھے گئے۔ ان میں سڑکوں کے منصوبے، اسکولوں کے منصوبے، اسپتالوں کے کام، زیرِ تعمیر بعض پل اور ایک ڈیری پروسیسنگ گاؤں کا قیام شامل ہے۔ پلوامہ کے تقریباً ہر شعبے میں زمینی سطح پر نمایاں پیش رفت نظر آرہی ہے۔‘‘
این ایچ ایم ملازمین کی ہڑتال کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ احتجاج جمہوری حق ہے، تاہم ان کی حکومت ان کے مطالبات پر احتجاج ختم ہونے کے بعد ہی بات کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میری ان سے مخلصانہ درخواست ہے کہ براہِ کرم بات چیت کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ آخرکار کسی بھی مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکلے گا۔ ہم احتجاج جاری رہنے کے دوران بات چیت نہیں کرسکتے۔ اگر احتجاج کے دباؤ میں مطالبات منوانے کی کوشش کی جائے تو اس سے ایک ایسی مثال قائم ہوگی جس کے بعد ہر کوئی اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر آکر احتجاج کرے گا۔ اس لیے جب تک احتجاج جاری رہے گا، ہم بات چیت نہیں کر سکیں گے۔‘‘
عمرعبداللہ نے اسمبلی کے مختصر دورانیے سے متعلق حزبِ اختلاف کے رہنما سنیل شرما کے بیان پر ردعمل دینے سے انکار کردیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں حزبِ اختلاف کے رہنما کے ہر ماہ صرف ایک بیان کا جواب دوں گا۔ وہ روزانہ بیانات دیتے ہیں اور میرے پاس اتنا فارغ وقت نہیں کہ میں روزانہ انہیں جواب دیتا رہوں۔ میں نے کل ایک بیان کا جواب دیا تھا، اگلا جواب اکتوبر میں دوں گا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک )








