منگل, نومبر 3, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

مکہ میں خطرے کا سائرن، بحیرۂ احمر پر گرفت: حوثیوں نے مغربی ایشیا کی جنگ میں نیا محاذ کیسے کھول دیا؟

مکہ کے قریب ڈرون، باب المندب پر کنٹرول اور سعودی تیل کی ترسیل کو خطرہ؛ یمن کا محاذ اب علاقائی جنگ اور عالمی توانائی بحران سے جڑ گیا ہے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-17
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, عالمی خبریں
A A
مکہ میں خطرے کا سائرن، بحیرۂ احمر پر گرفت: حوثیوں نے مغربی ایشیا کی جنگ میں نیا محاذ کیسے کھول دیا؟
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سرینگر/۱۶ستمبر

                یمن کے حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت والے اتحاد نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے ایک ڈرون کو ایک روز قبل مکہ مکرمہ کے جنوب میں مار گرایا، اس سے پہلے کہ وہ اسلام کے مقدس ترین شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہوسکتا۔ اتحاد نے کہا کہ ’’مسجد الحرام اور زائرین کی سلامتی ہماری سرخ لکیر ہے‘‘ اور ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم کے خلاف جوابی اور بازدار اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

                حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے مکہ کو ہدف نہیں بنایا۔ حوثی سیاسی بیورو کے رکن حازم الاسد نے ایکس پر لکھا کہ ’’مکہ کو نشانہ بنانے کے دعوے ایک پرانا جھوٹ ہیں، جو پہلے بھی استعمال ہوچکا ہے اور اب کسی کو دھوکا نہیں دیتا۔‘‘

متعلقہ

وزیراعلیٰ کا ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے پر زور

مرکز اور جموں و کشمیر میں بداعتمادی کیلئے این سی ذمہ دار:محبوبہ

                مکہ یمن کی سرحد سے تقریباً۱۱۰۰کلومیٹر دور ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں نے۲۰۱۷میں بھی شہر کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا تھا۔

                منگل کو مکہ میں جاری کیا گیا خطرے کا انتباہ موجودہ جنگ کے دوران پہلی مرتبہ ہوا، جبکہ جدہ، طائف اور العلا میں بھی فضائی خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ اب ریاض کو اپنی جنوبی سرحد پر ایران کی حمایت یافتہ ایک مسلح تنظیم کا سامنا ہے، جبکہ اس کی تیل کی برآمدات کے لیے قائم اہم متبادل راستہ بند ہے اور حوثیوں کو بحیرۂ احمر کے جنوبی داخلی راستے پر کنٹرول حاصل ہوگیا ہے۔

                حوثیوں نے۲۰۱۴ میں یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرلیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب نے اگلے برس بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی۔۲۰۲۲میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی نے شدید لڑائی کا سلسلہ تو روک دیا، لیکن سیاسی تصفیہ نہ ہوسکا۔

                ۲۸ فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی موجودہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں حوثیوں نے بڑی حد تک خود کو اس تنازع سے الگ رکھا۔ تاہم جولائی میں انہوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کے خلاف ناکہ بندی کا اعلان کیا۔ رائٹرز کے مطابق یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمنی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے جواب میں کیا گیا تھا۔ بلومبرگ کے مطابق تقریباً۱۰ روز قبل حوثیوں نے سعودی عرب کے توانائی کے مراکز اور مغربی شہروں پر تقریباً روزانہ حملوں میں اضافہ کردیا، جن میں۸۰ سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

                گزشتہ ہفتے حوثیوں کی برق رفتاری سے کی گئی کارروائی نے انہیں یمن کے تقریباً پورے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے پر مؤثر کنٹرول فراہم کردیا، جس میں موخا بندرگاہ اور باب المندب آبنائے میں واقع جزیرہ پیریم بھی شامل ہے۔

                یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے رواں ہفتے یمن پر۴۵۰ تک فضائی حملے کیے ہیں۔ ریاض نے ان حملوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے حکام نے ان حملوں کا اعتراف کیا ہے۔ سریع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے ماریب صوبے کے اوپر ایک سعودی ایف۱۵  جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔

                بلومبرگ کے مطابق کئی مغربی یورپی افواج کا اندازہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کے یمنی اتحادیوں کے لیے موخا کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق یمن کے اندر ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

                آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً۵۰ لاکھ سے۷۰ لا کھ بیرل تیل کی ترسیل ہورہی ہے، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے نصف سے بھی کم ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب نے اس آبنائے سے بچنے کے لیے اپنا تقریباً۱۲۰۰ کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن نظام استعمال کیا تھا، جو خلیج میں واقع اس کے تیل کے میدانوں کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے جوڑتا ہے۔

                جمعہ کو ہونے والے ایک حملے کے بعد یہ پائپ لائن بند ہوگئی۔ ریاض نے اس حملے کا الزام عراق میں موجود ایران نواز ایک گروپ پر عائد کیا۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے سی این بی سی کو بتایا کہ خام تیل کی ترسیل چند دنوں میں بحال ہوجانی چاہیے، تاہم برطانوی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ راستہ تقریباً چھ ہفتوں تک زیادہ تر بند رہ سکتا ہے۔

                بلومبرگ کے مطابق اگر پائپ لائن طویل مدت تک بند رہی تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی رسد میں چار فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔

                اے ایف پی کے مطابق باب المندب، جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے، اب سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت بدستور متاثر ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہاں صرف سعودی جہازوں کو خطرہ ہے، تاہم خبر رساں ادارے کے مطابق اس آبنائے میں کسی بھی حملے سے دیگر جہاز رانی کمپنیاں بھی اپنی سرگرمیاں محدود کرسکتی ہیں۔

                رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً۱۰۸ڈالر فی بیرل رہی، جو مئی کے بعد کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔

                ابوظہبی کمرشل بینک کی چیف اکانومسٹ مونیکا مالک نے بلومبرگ کو بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق سعودی معیشت اس سال۳ء۱ فیصد سکڑ سکتی ہے۔ ان کے بقول اگر پائپ لائن ایک ماہ تک بند رہتی ہے اور آبنائے ہرمز سے بھی تیل کی محدود مقدار ہی منتقل ہوتی ہے تو یہ سکڑاؤ بڑھ کر۴ء۵فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

                یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ یمن کا محاذ اب محض یمن تک محدود نہیں رہا۔ مکہ مکرمہ، بحیرۂ احمر، باب المندب، سعودی تیل کی برآمدات اور عالمی توانائی منڈی ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں، اور حوثیوں کی کارروائیوں نے مغربی ایشیا کی جاری جنگ کو ایک نئے اور زیادہ وسیع مرحلے میں داخل کردیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

(ندائے مشرق ویب ڈیسک)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ایل جی کی رائے بریلی میں شری شیو مہاپُران کتھا میں شرکت

Next Post

’مرکز کی زبانی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہ کریں‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

۷۹واں یومِ آزادی:وزیر اعلیٰ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے
اہم ترین

وزیراعلیٰ کا ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے پر زور

2026-11-02
محبوبہ کا این سی پر جنوبی کشمیر کو نظر انداز کرنے کا الزام
اہم ترین

مرکز اور جموں و کشمیر میں بداعتمادی کیلئے این سی ذمہ دار:محبوبہ

2026-11-02
پٹنی ٹاپ ہوٹل اراضی تجاوزات کیس میں۱۱کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک
اہم ترین

پٹنی ٹاپ ہوٹل اراضی تجاوزات کیس میں۱۱کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک

2026-11-02
’قومی زعفراب مشن  کے بعد زعفران کی پیداوار میں اضافہ ہوا ‘
اہم ترین

پانپور میں زعفران کی فصل کی کٹائی شروع، گزشتہ سال کے بھاری نقصان کے بعد بہتر پیداوار کی امید

2026-11-02
سنتور ہوٹل ملازموں کا سرینگر میں احتجاج
اہم ترین

دربار مو کا پہلا دن: ڈیلی ویجرز اور آشا ورکروں کا احتجاجی مارچ

2026-11-02
اسمبلی انتخابات سے قبل فوج کی دراندازی کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میںاضافہ
اہم ترین

  ایل او سی کے نزدیک بارودی سرنگ  کے دھماکے میں فوجی پورٹر کا پاؤں ضائع

2026-11-02
شوپیاں گرینیڈ حملے میں ملوث تین افراد گرفتار، اسلحہ بر آمد:پولیس
اہم ترین

اننت ناگ میں مسجد پر پتھراؤ کے الزام میں چار افراد حراست میں

2026-11-02
اہم ترین

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں ۳ہزار معاملات میں کارروائی

2026-11-02
Next Post
’بی جے پی کا قانونی نوٹس ’محبت نامہ‘اور باعث اعزاز ہے ‘

’مرکز کی زبانی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہ کریں‘

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.