میلبورن، 15 ستمبر (یواین آئی) آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے پاکستان میں زیر حراست سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ سے رابطہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ کو بھیجے گئے خط پر آسٹریلیا کے سابق کپتان ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کم ہیوز، مارک ٹیلر اور اسٹیو وا نے دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ خط وہ ’’سفارت کاروں یا سیاسی شخصیات کے طور پر نہیں بلکہ سابق کپتانوں کی حیثیت سے لکھ رہے ہیں، جنہوں نے اپنی بات کہنا ضروری سمجھا۔‘‘ خط میں سابق کپتانوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے خلاف جاری قانونی یا سیاسی معاملے پر کوئی رائے نہیں دے رہے اور یہ معاملہ مکمل طور پر پاکستان کا ہے۔ ان کی تشویش زیر حراست کسی بھی شخص کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو لے کر ہے، جسے انہوں نے ’’سیاست سے قطع نظر بنیادی انسانی ہمدردی کا معاملہ‘‘ قرار دیا۔ عمران خان کے حق میں دنیا کے معروف سابق بین الاقوامی کرکٹرز کی جانب سے یہ ایک اور اپیل ہے۔ عمران خان پاکستان کے سابق کرکٹ کپتان اور وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ اس سے قبل دنیا کے 22 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے 23 اگست کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ملنے والی طبی سہولت سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق نہیں ہے۔ خط میں تین اہم مطالبات کیے گئے تھے۔ اول، سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کو، جس میں عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر بھی شامل ہیں، ان کی صحت کا مکمل اور آزادانہ معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے، خصوصاً ان کی دائیں آنکھ کی بینائی کم ہونے کی اطلاعات کی جانچ کی جائے۔ دوم، عدالت کی جانب سے بحال کی گئی اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقات کی سہولت بغیر کسی رکاوٹ یا انتظامی تاخیر کے جاری رکھی جائے۔ سوم، طبی معائنے کے دوران تجویز کیے جانے والے علاج کی سہولت بلا تاخیر فراہم کی جائے۔ یہ اپیل رواں سال فروری میں لکھے گئے پہلے خط کے بعد سامنے آئی ہے، جس پر 14 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد پاکستان کے سابق کرکٹرز جاوید میانداد، وسیم اکرم اور معین خان نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ موجودہ آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تازہ خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے بیٹے اور بہنیں کئی ماہ سے عوامی طور پر ان کی صحت اور دورانِ حراست ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان میں محدود طبی سہولیات، اہل خانہ سے ملاقات پر پابندی اور قانونی مشاورت تک محدود رسائی شامل ہے۔ گریگ چیپل نے گزشتہ ماہ وزیر خارجہ پینی وونگ سے اس معاملے پر سابق کپتانوں کے گروپ کی جانب سے ملاقات کی درخواست بھی کی تھی، تاہم انہیں اب تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔




